پہلا گروہ  برٹرینڈرسل

 برٹرینڈرَسل ایک غیر معمولی ذہین آدمی تھا۔اس کولمبی عمر ملی۔وہ اپنی نوجوانی کے زمانے سے لے کر بڑھاپے کی عمر تک مسلسل مطالعہ کرتارہا۔اس کی سوانح عمری اوراس کی دوسری کتابوں کے پڑھنے سے معلوم ہوتاہے کہ اپنی ابتدائی عمر میں اس کو سب سے زیادہ جس چیز سے دلچسپی ہوئی وہ یقینیت (certainty)تھی۔وہ اپنے مزاج کے اعتبارسے علم کا طالب تھا مگر وہ اس علم کو حاصل کرنا چاہتا تھا جس کے واقعہ ہونے پر وہ یقین کرسکے۔ اپنے اس مزاج کی بناپر اس کو سب سے پہلے میتھ میٹکس سے دلچسپی پیداہوئی۔اس نے لکھا ہے کہ اس زمانے میں میرا احساس یہ تھا کہ میں نے اپنے لیے مذہب کا ایک قابلِ اعتماد بدل پالیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کو نظر آیاکہ میتھ میٹکس میں منطقی تیقن(logical certainty)  موجود ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ میں نے میتھ میٹکس کی صورت میں اس علم کو پالیا ہے جس کو میراذہن تلاش کر رہا تھا۔ اس کے مقابلے میں مذہب برٹرینڈرَسل کو توہمات (superstition) کا مجموعہ نظر آیا۔ چنانچہ اس نے مروَّ جہ مذہب کو رد کرکے میتھ میٹکس کو اپنے دین کے طور پر اختیار کر لیا۔

مگر بعد کو جب برٹرینڈرَسل نے زیادہ تفصیلی مطالعہ کیاتو اس کایہ یقین متزلزل ہوگیا۔ اس نے محسوس کیاکہ میرایہ یقین حقائق کے سرسری مطالعہ پر مبنی تھا،حقائق کا زیادہ گہرا مطالعہ اس کی تصدیق نہیں کرتا۔

 برٹرینڈرَسل کے بعد کے مطالعہ کے نتائج کو اس کی کتاب انسانی علم (Human Knowledge)میں دیکھاجاسکتاہے۔اس کتاب میں برٹرینڈرَسل نے قطعی دلائل کے ذریعہ دکھایا ہے کہ موجودہ دنیامیں انسانی مطالعہ کبھی بھی کسی کو یقینی علم تک نہیں پہنچاسکتا۔ ایک طرف انسانی محدودیتیں اور دوسری طرف کائنات کی پراسرار نوعیت (Mysterious nature) فیصلہ کن طورپر یقینی علم کی راہ میں حائل ہیں۔ انسان کا مطالعہ آخر کار جہاں اس کو پہنچاتاہے وہ تیقن (certainty)نہیں ہے بلکہ صرف قرینہ یااحتمال (probability) ہے۔ اس کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہاجاسکتاہے کہ ہم حقیقت (reality)کو براہِ راست دریافت نہیں کرسکتے۔ ہم صرف یہ دریافت کرسکتے ہیں کہ احتمالی طورپر یہاں فلاں حقیقت موجود ہے، اگر چہ وہ براہِ راست ہمارے تجربہ میں نہیں آتی۔

 برٹرینڈرَسل کو اس کے تمام عمر کے مطالعہ نے جہاں پہنچایاوہ ایک ایسامقام تھاجہاں وہ حقیقی مذہب کے عین قریب پہنچ چکاتھا۔اگر اسلامی الفاظ استعمال کیے جائیں تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ لاالہٰ کی منزل تک پہنچ چکاتھا، مگر اس کے بعد وہ الا اللہ کی منزل طے نہ کرسکا۔ یہاں تک کہ اس کی موت ہوگئی۔

برٹرینڈرَسل کی یہ بات کہ انسانی علم ہم کو صرف قرینہ یا احتمال (probability)  تک پہنچاتا ہے، یہ اس کی ذاتی بات نہیں۔یہی موجودہ زمانے کے تمام علمائے سائنس کا موقف ہے۔ یہ اصول اب جدید علم کا ایک ایسامسلمہ بن چکاہے جس سے کسی بھی صاحب ِ علم کواختلاف نہیں۔

علمی تحقیقات کا اس حقیقت تک پہنچناکہ اس دنیامیں ،خالص علمی طورپر،ہم صرف قرینہ یا احتمال تک پہنچ سکتے ہیں، بے حد اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم موجودہ علم کے مطابق، سائنس اور مذہب کے درمیان وہ فرق ختم ہوچکا ہے جو قدیم زمانے میں فرض کر لیا گیا تھا۔ اب عقل (reason) کا موقف بھی عین وہی ہے جو اس سے پہلے عقیدہ (belief) کاموقف تھا۔

مذہب کاموقف قدیم ترین زمانے سے یہ تھاکہ سچائی یاحقیقت اپنی نوعیت میں ایک غیبی چیز ہے ،وہ نہ دکھائی دینے والی دنیا (unseen world) سے تعلق رکھتی ہے۔ ہمارے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ ہم ظاہری قرائن کی بنیاد پر یہ مستنبط کریں کہ فلاں حقیقت یہاں موجود ہے۔ اگرچہ وہ دکھائی نہیں دیتی۔اب سائنس کاموقف بھی عین یہی ہوچکاہے۔ جدید سائنس کا کہناہے کہ ہم چیزوں کی اصل کو نہیں دیکھ سکتے ،ہم چیزوں کے صرف ظاہری اثر (effect) کو دیکھ سکتے ہیں۔اور ظاہری اثر سے یہ استنباط کرسکتے ہیں کہ فلاں چیز یہاں موجود ہے، اگر چہ بظاہر وہ ہمارے مشاہدہ اورتجربہ میں نہیں آتی۔

برٹرینڈرَسل اور اس کے جیسے تمام لوگوں کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ قرینہ (probability) کی بنیاد پر مذہب کی واقعیت کو بھی اسی طرح مانیں جس طرح وہ سائنسی نظریات کی واقعیت کو مانتے ہیں۔ان میں سے ایک کوماننے کے بعد دوسرے کو نہ ماننے کی کوئی وجہ ان کے پاس موجود نہیں۔ ان حضرات کو جاننا چاہیے کہ اب ان کے لیے جن دوحالتوں کے درمیان انتخاب ہے وہ انکار مذہب اوراقرارِمذہب نہیں ہے بلکہ وہ اقرار ِ مذہب اور انکار خویش کے درمیان ہے۔ یہ حضرات اگر مذہب کے انکار پر مصر ہوں تو انہیں خود اپنا انکار بھی کرنا پڑے گا۔ چونکہ ان کے لیے اپناانکار ممکن نہیں اس لیے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ مذہب کا انکار کریں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion