آئیڈیل یا پریکٹیکل

اکثر لوگ صرف اس لیے نقصان اٹھاتے ہیں کہ وہ آئیڈیل اور پریکٹیکل میں فرق نہیں کرتے۔وہ چیزوں کو آئیڈیل کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں اور جب وہ ان کے آئیڈیل پر پورا نہیں اترتا تو وہ ان کو رد کر دیتے ہیں۔مگر یہ سراسر نادانی کی بات ہے۔موجودہ دنیا میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو آئیڈیل ملے۔بیشتر حالات میں اس دنیا میں پریکٹیکل پر راضی ہونا پڑتا ہے۔یہ کوئی کم ہمتی کی بات نہیں،یہ فطرت کا قانون ہے اور اس دنیا میں فطرت کے قانون کو قبول کرنا پڑتا ہے، نہ کہ اس سے ٹکرانا۔یہ اصول انفرادی زندگی کے لیے بھی کارآمد ہے اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی۔

اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو نئےانقلابی تصورات دنیا میں رائج ہوئے ان میں سے ایک وہ تھا جس کو سیکولرزم(secularism)کہا جاتا ہے۔یہ نیا سیاسی نظریہ جب دنیا میں آیا تو موجودہ زمانے کے اسلام پسند رہنماؤں نے اس کو رد کردیا۔انہوں نے کہا کہ سیکولرزم اسلام کے خلاف ہے، بلکہ وہ اسلام سے اصولی بغاوت ہے۔ اپنےاس ذہن کی بنا پر انھوں نے سیکولر زم کا ترجمہ لادینیت کا کیا۔حالانکہ یہ ترجمہ ہرگز درست نہیں۔

موجودہ زمانےمیں مسلم ملکوں میں ہر جگہ مغربی طرز پر تعلیم پائے ہوئے لوگ حکومت کر رہے تھے۔وہ سیکولر نظام حکومت کے حامی تھے۔اس بنا پر تمام اسلام پسندوں نے ان کے خلاف نظری اور عملی جنگ چھیڑ دی۔ہر مسلم ملک کے مسلمان سیکولر طبقہ اور اسلام پسند طبقہ میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگے۔اس بے فائدہ جنگ میں مسلمان کو اتنا زیادہ نقصان پہنچا جو پوری مسلم تاریخ میں شاید مسلمانوں کو نہیں پہنچا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم کوئی مذہبی عقیدہ نہیں۔سیکولرزم کا مطلب لا مذہبیت نہیں بلکہ مذہب کے بارے میں غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے۔یہ ایک عملی تدبیر ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کا نظام چلایا جائے۔

یہ سیکولرزم اسلام اور اہل اسلام کے حق میں انتہائی مفید تھا۔وہ لوگوں کو یہ موقع دے رہا تھا کہ مسلم اور غیر مسلم دونوں قسم کے ملکوں میں یکساں طور پر اسلام کے مقاصد کے لیے   عمل کیا جاسکے۔ مدارس و مساجد کی تنظیم، تعمیری اداروں کا قیام،تعلیم و تربیت، دعوت و تبلیغ، اس قسم کے تمام شعبے مکمل طور پر اہل اسلام کے لیے کھلے ہوئے تھے۔وہ ان کو استعمال کرکے ہر ملک میں اسلام کا ایمپائر بنا سکتے تھے۔یہ ایمپائر اگرچہ غیر سیاسی ہوتا مگر وہ بالواسطہ انداز میں سیاسی نظام پر بھی اثر انداز ہوسکتا تھا۔

مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما سیکولرزم کو آئیڈیل کے معیار پر جانچ کر اس کے دشمن بنے رہے۔حالانکہ اگر وہ عملی (پریکٹیکل) بنیاد پر اس کو دیکھتے تو وہ اس کو خدا کی ایک نعمت سمجھتے اور ایک عظیم موقع کی حیثیت سے اس کو استعمال کرتے۔

اس معاملہ کا ایک اور اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان ہے۔سیکولرزم کو لادینی اور طاغوتی نظریہ قرار دے کر اس سے لڑنا سراسر غیر حقیقت پسندانہ تھا۔وہ فطرت کے نظام کے خلاف تھا۔و ہ پریکٹیکل بنیاد پر چلنے والی دنیا میں آئیڈیل بنیاد پر زندگی گزارنے کا غیر عملی پروگرام تھا۔اس لیے وہ فطری طور پر ناکام ہوگیا۔اب یہی لوگ عملاً ساری دنیا میں عین اسی سیکولر نظام کے تحت پرسکون زندگی گزار رہے ہیں جس کو انہوں نے اس سے پہلے غیر اسلامی قرار دے کر رد کر دیا تھا اور اس کے تحت زندگی گزارنے کو ناجائز بتایا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس سیکولرزم کو وہ اصولی طور پر اختیار نہ کرسکے تھے اس کو انہوں نے منافقانہ طور پر اختیار کرلیا۔دو عملی کی یہ روش بلاشبہ تمام برائیوں میں سب سے زیادہ بڑی برائی ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion