ربّانی تعقّل
قرآن میں بنیادی طورپردوقسم کی تعلیمات ہیں۔ ایک وہ جن کو احکام کہا جاتا ہے۔ اور دوسرے وہ جو تفکّر اور تدبّر سے تعلق رکھتی ہیں۔ اوّل الذکرکی حیثیت اگرعملی ہے تو ثانی الذکر کی حیثیت فکری۔
قرآن میں دونوں ہی قسم کی تعلیمات اجمالی انداز میں آئی ہیں۔یہ کام علما اسلام کا ہے کہ وہ قرآن وحدیث کی رہنمائی میں اس اجمال کی تفصیل کریں۔ جہاں تک احکام کا تعلق ہے، ان کی تفصیل اور تدوین فقہ کی صورت میں کی گئی ہے۔ یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ اس کو بنیادی طور پر ایک کامیاب کوشش کہا جاسکتا ہے۔ جہاں تک تفکّر اور تدبّر والے حصہ کا تعلق ہے، ان کے سلسلے میں بھی پچھلے ہزار سال کے دوران مقدار کے اعتبار سے کافی کام ہوا ہے۔ مگر وہ بڑی حدتک غیراطمینان بخش ہے۔ یہ کہنا غالباً درست ہوگا کہ اس پہلو سے جو لٹریچر تیار ہوا ہے وہ زمانی افکار سے اتنا زیادہ متاثر ہے کہ قرآن کی حقیقی روح اس میں اوجھل ہوگئی ہے۔
اس موضوع پرکام کرنےوالوں کاپہلاگروہ وہ ہےجن کومتکلمین کہاجاتاہے۔یہ گروہ ابتداء ًعباسی خلافت کے زمانے میں پیدا ہوا۔ اس گروہ کے مشہور ناموں میں سے الفارابی (وفات950ء)، ابن رشد (وفات1198ء) اور الرازی(وفات 1210ء)، وغیرہ ہیں۔ متکلمین کے اس گروہ نے قرآنی تفکّر اور تدبّر کے اظہار کے لیے جس فکری ماڈل کواپنایا، وہ یونانی فلسفے کاماڈل تھا۔ یہ فلسفہ قیاسی منطق کے اصول پر قائم تھا۔ اس لیے وہ بذات خود ایک غیرحقیقی ماڈل تھا۔اس ماڈل پر قرآن کےفکری اجمال کی جوتفصیل کی گئی وہ بڑی حدتک مَنْ تَمَنْطَقَ تَزَنْدَقَ (جو شخص منطق میں الجھے، وہ دین سے بھٹک جاتا ہے) کی مصداق تھی۔ اس پورے مجموعے پر فارسی شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے:
فلسفی سرحقیقت نتوانست کشود گشت رازدگرآں رازکہ افشامی کرد
سلسلہ کا دوسرا گروہ وہ ہے جس نے وحدت وجود کے تصور پر قرآنی عقلیت کو واضح کرنا چاہا۔ اس کا ایک لفظ میں وحدانی تعقّل کہا جاسکتا ہے۔ اس طبقے کی چند مشہور کتابیں یہ ہیں:ابن العربی کی کتاب الفتوحات المکیۃ، مولانا روم کی مثنوی، علامہ اقبال کی تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ (Reconstruction of Religious Thought in Islam)۔
یہ طریقہ جس کوہم نےوحدانی تعقّل کانام دیاہے،وہ اوّل الذکریونانی تعقّل سےبھی زیادہ غلط تھا۔اوّل الذکرکواگرعقلی چیستاں کہاجائےتویہ دوسراطریقہ کھلی ہوئی ذہنی گمراہی تھا۔ اس طریقے میں توحیدکےعقیدہ کووحدت وجود (Monism) کے تصور پر ڈھال دیاگیا۔جب کہ اسلام میں توحیدکاعقیدہ وحدت خدا (monotheism) کے اصول پرقائم ہے۔ وحدت وجودکانظریہ سراسرضلالت ہےاوروحدت خداکانظریہ سراسرہدایت۔
موجودہ زمانے میں مسلم اہل قلم کاایک اورگروہ پیداہواجس نےاسلامی عقلیت کو سیاسی تعقّل کےہم معنی بنادیا۔اس گروہ نےاسلام کی تعلیمات کوسیاسی اصطلاحوں میں بیان کرنےکی کوشش کی۔انہوں نےلاالہ الااللہ کولاحاکم الااللہ کےہم معنی قراردیا۔اس گروہ میں مصرکےسیدقطب اورپاکستان کےسیدابوالاعلیٰ مودودی،وغیرہ شامل ہیں۔
سیاسی تعقّل کاطریقہ،اپنی حقیقت کےاعتبارسےاسلامی تعقّل کی تصغیرتھا۔اس تشریح میں عقیدہ اسلامی کی آفاقی وسعت سیاست کےمحدوددائرہ میں سمٹ کررہ گئی۔اسلامی تعقّل کی اس سیاسی تشریح کےنتیجے میں ایک اورہلاکت خیزانجام سامنے آيا۔جولوگ اس تشریح سے متاثر ہوئے انہیں کرنےکاکام صرف یہ نظرآیاکہ وہ وقت کےسیاسی ڈھانچے کوتوڑیں اور اس کی جگہ اپنےمزعومہ نقشے کےمطابق، نیانظام بنائیں۔اس طرح اس سیاسی تشریح نے مسلم دنیامیں اس تخریبی سیاست کو مزیدشدت کےساتھ جنم دیاجس کاایک نمونہ کمیونزم کو ماننے والوں کےدرمیان پایاجاتاہے۔
قرآن کےمطابق،تفکّر اور تدبّرکی تشریح کاصحیح طریقہ وہ ہےجس کوربّانی تعقّل کہا جاسکتاہے۔ یعنی قرآن کےاشارات کورہنمابنا کرتخلیقِ خداوندی کامطالعہ کرنااورحقائق فطرت کی روشنی میں ان کی تشریح وتفصیل کرنا۔مطالعے کایہی اسلوب حقیقی اسلوب ہے۔اس سے وہ اہل ایمان پیداہوتےہیں جومعرفت الٰہی اورخشیت ربّانی کی نعمت سے سرشارہوں۔ قرآن کی سورہ آل عمران کےآخری رکوع میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات پربھی اس حقیقت کی طرف بارباراشارہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے کی دوقرآنی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے:کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر ہم نے اس سے مختلف رنگوں کےپھل پیداکردیے۔ اور پہاڑوں میں بھی سفیداورسرخ مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں اورگہرےسیاہ بھی۔ اور اسی طرح انسانوں اورجانوروں اورچوپاؤں میں بھی مختلف رنگ ہیں۔اللہ سےاس کےبندوں میں سےوہی ڈرتےہیں جوعلم والے ہیں۔ بے شک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے (32:27-28)۔
ربّانی تعقّل کی تشریح کےلیے موجودہ زمانے میں نئےوسیع امکانات کھل گئےہیں۔ جدید سائنس کی تحقیقات نےموجودہ زمانے میں فطرت کی جن چھپی ہوئی حقیقتوں کودریافت کیاہےوہ گویااسی ربّانی تعقّل کی تفصیل ہیں۔ربّانی تعقّل کےان جدید امکانات کوپیشگی طورپرقرآن میں بتادیاگياتھا۔اس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت کاترجمہ یہ ہے:ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گےآفاق میں بھی اورخودان کےاندربھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (41:53)۔
احمداورالترمذی نے حضرت انس بن مالک کےحوالہ سےایک حدیث نقل کی ہے۔ اس کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ؛ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ (مسند احمد،حدیث نمبر12461)۔ یعنی، میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے۔ نہیں معلوم کہ اس کااوّل بہتر ہوگا یا اس کاآخر۔
بارش جب ہوتی ہےتواس کےابتدائی دورمیں بھی انسان کوبہت سی برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ مگر بعد کے مرحلے میں جب بارش سےسیراب ہوکرزمین سبزہ اور درخت اگاتی ہے تو اس دوسرےمرحلہ میں اس کی برکتیں اورزیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ اب فصل اور پھول اور پھل، وغیرہ پیداہوتےہیں جوانسان کےلیے بےپناہ خیروبرکت کاذریعہ ہیں۔
یہی معاملہ دین محمدی کاہے۔دین محمدی کاظہورہواتواس وقت دنیااپنےروایتی دور میں تھی۔ اس دورمیں بھی اس دین کےپیروؤںکواس سے بے پایاں فائدے حاصل ہوئے۔ بعد کے زمانہ میں جب کہ دنیا سائنسی دور میں داخل ہوگی تو اس وقت بھی اس دین کے پیروؤں کو نئے امکانات کے اعتبار سے عظیم فائدے حاصل ہوں گے۔ دین کی علمی وفکری عظمت ازسر نونئی شان کے ساتھ لوگوں کے ذہنوں پر قائم ہو جائےگی۔
اس حدیث میں امت کےدورآخرمیں جس عظیم خیرکی پیشین گوئی کی گئی ہےاس سے مرادغالباًوہی سائنسی حقیقتیں ہیں جنہوں نےنئےوسیع تراندازمیں اس امکان کادروازہ کھول دیاکہ انسان ان کواستعمال کرکےیقین کےاعلیٰ درجات حاصل کرے۔اوراسلام کی صداقت کو نئے دلائل وبراہین کےذریعہ لوگوں کےاوپرثابت شدہ بنائے۔
