امن کی طاقت

جدید صنعتی انقلاب کے بعد جب نو آبادیاتی دور آیا اور مغربی قومیں تمام دنیا میں سیاسی اور تہذ یبی اعتبار سے غالب آ گئیں تو یہ مسلمانوں کے لیے ایک نیا مسئلہ تھا۔ ساری مسلم دنیا میں کثرت سے مسلم لیڈر پیدا ہوئے۔ ان تمام لیڈروں کا مشترک ذہن یہ تھا کہ:اَلْجِهَادُ هُوَ الْحَلُّ الْوَحِيدُ( جہاد ہی واحد حل ہے)۔ مگر تقریباً دو سو سال کی غیر معمولی جد و جہد اور قربانی کے باوجود اس مسلح جہاد کا کوئی مثبت فائدہ مسلمانوں کو نہیں ملا۔ اس مسئلہ پر اگر قرآن و حد یث کی روشنی میں غور کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس کا حل پر امن دعوت ہے۔ قرآن میں اس طرح کی صورتحال میں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ تم اللہ کی دی ہوئی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ یہ عمل تمہارے لیے حفاظت کا ضامن ہو گا (5:67)۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حکمت کے ساتھ دعوت وتبلیغ کا کام کرو، اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جو تمہارادشمن ہے وہ تمہارا دوست بن جائے گا (41:34)۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قرآن اپنی خاموش زبان میں پکار کر یہ کہہ رہا تھا کہ:اَلدَّعْوَةُ هِيَ الْحَلُّ الْوَحِيدُ(دعوت ہی واحد حل ہے)۔اس کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ دور جدید کے مسلمان قرآن کے اس واضح بیان میں ہدایت نہ پا سکے۔ وہ دعوت کے بجائے جہاد ( بمعنی قتال) کے میدان میں سرگرم ہو گئے۔ جب کہ حالات کے اعتبار سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ اس قسم کے متشد دانہ اقدام کا نتیجہ مزید تباہی کے سوا کچھ اور نکلنے والا نہیں۔

پھر موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں سے یہ بھیانک غلطی کیوں ہوئی کہ انہوں نے اَلْجِهَادُ هُوَ الْحَلُّ الْوَحِيدُ کا غیر قرآنی نظریہ قائم کر لیا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اجتہاد مطلق یعنی قرآن و سنّت سے براہ راست اخذِ احکام کو اپنے لیے ممنوع قرار دے چکے تھے۔ وہ اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر صرف یہ جانتے تھے کہ موجودہ مدوّن فقہ سے اپنے لیے احکام حاصل کرتے رہیں۔

اب صورت حال یہ تھی کہ فقہ کی یہ کتابیں جہاد و قتال کے احکام سے بھری ہوئی تھیں۔ ہر فقہی کتاب میں اس کے احکام موجود تھے۔ دوسری طرف فقہ کی ان کتابوں کا حال یہ تھا کہ وہ دعوت الی اللہ کے مسائل و احکام سے یکسر خالی تھیں۔ ان میں کتاب الجہاد تو تفصیلی طور پر موجود تھا مگر کتاب الدعوۃ یا کتاب التبلیغ سرے سے وہاں موجود ہی نہ تھا۔ دعوت کا حکم وہ قرآن میں پا سکتے تھے مگر قرآن کو انہوں نے ماخذ احکام کی حیثیت سے چھوڑ رکھا تھا۔ وہ اخذ احکام کا ذریعہ صرف فقہ کو سمجھتے تھے ،اور کتب فقہ کے صفحات دعوتی رہنمائی سے بالکل خالی تھے۔

اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ اجتہاد، بالفاظ دیگر، قرآن و سنّت سے براہ راست احکام اخذ کرنا کتنا زیادہ مفید ہے اور تقلید ، بالفاظ دیگر ، مدوّن فقہ کو احکام اخذ کر نے کا واحد ذریعہ سمجھ لینا ، کتنازیادہ نقصان دہ ہے۔

یہی غلطی بر صغیر ہند کے مسلم رہنماؤں سے اس وقت ہوئی جب کہ انگریزوں کے غلبے کے بعد انہوں نے ہندستان کے دار الحرب ہونے کا اعلان کیا۔ شاہ عبد العزیز دہلوی نے 1823 میں یہ فتویٰ دیا کہ ہندستان دارالحرب ہو چکا ہے (فتاویٰ عزیزی فارسی، دہلی، 1322ھ، صفحہ 17)۔اس کے بعد پانچ سو علما نے اپنے مشترک دستخطوں سے یہ فتویٰ   جاری کیا کہ مسلمانوں پر جہاد فرض ہو چکا ہے۔ مسلمانان ہند کو چاہیے کہ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد ( قتال ) کا آغاز کر دیں۔

مسلم رہنماؤں کے ان فتووں اور اپیلوں کے بعد ہندستان کے مسلمان ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد میں مشغول ہو گئے۔ سو سالہ جنگ کے باوجود یہ جہاد عملاً سراسر بے نتیجہ ثابت ہوا۔ مگر عجیب بات ہے کہ آج بھی یہ مسلمان اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان یہی سمجھتے ہیں کہ ہندستان دارالحرب ہے اور انہیں جہاد کے ذریعہ اپنے مسائل کو حل کرنا چاہیے۔

یہ عجیب و غریب صورت حال کیوں ہے، اس کا سبب یقینی طور پر یہی ہے کہ اجتہاد اور تقلید کے بارے میں اپنے مذکورہ مقلدانہ مسلک کی بنیاد پر ان کا ذہن بعد کو مدوّن ہونے والی فقہ میں اٹکا ہوا ہے۔ اور اس فقہ میں ملکوں کی جو تعریف و تقسیم کی گئی ہے، اس کے مطابق ہندستان جیسا ملک دارالحرب ہی قرار پاتا ہے۔

 یہ مسلم رہنما اگر فقہ اور فقہا کے درمیانی دور سے پیچھے جاتے اور قرآن و سنّت کی روشنی میں یہ سمجھنے کی کو شش کر تے کہ ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہے تو یقینی طور پر وہ جان لیتے کہ موجودہ ہندستان ان کے لیے دار الد عوۃ کی حیثیت رکھتا ہے ، جیسا کہ دور اوّل میں اس قسم کے تمام علاقے اہل اسلام کے لیے دارالد عوۃ کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر اجتہاد ( براہ راست قرآن و سنّت سے مسئلہ اخذ کرنا) ان کے لیے امر ممنوع بنا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر صرف مدوّن فقہ پر انحصار کیا۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ مدوّن فقہ میں صرف دار الحرب کا باب ہے ،اس میں دارالدعوۃ کا تصور سرے سے موجود ہی نہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion