اوپراٹھ کرسوچنا
جب ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان یا ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کسی معاملہ میں نزاع پیدا ہو تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ وقتی مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتے۔ سامنے کا نقصان، عزت کا سوال، اس قسم کی چیزیں آدمی کے ذہن پر اتنا زیادہ غالب آتی ہیں کہ اس کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ نزاع سے الگ ہو کر سوچے اور زیادہ دور رس فیصلہ کرسکے۔
اسی کوتاہ فہمی کا نتیجہ ہے کہ اکثر افراد اور اکثر قومیں کسی نہ کسی مسئلہ میں الجھی رہتی ہیں۔ ان کے وقت اور ان کی طاقت کا ایک بڑا حصہ مستقل طور پر مسائل کے حل کے نام پر غیر مفید چیزوں میں ضائع ہوتا رہتا ہے۔ حالانکہ عقل مندی یہ ہے کہ اپنی پوری قوت کو صرف تعمیروترقی کے کام میں لگایا جائے۔
دانش مندی یہ ہےکہ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہو تو فوری تقاضوں (considerations) کو نظرانداز کرکے مستقبل کےاعتبار سے جرأت مندانہ فیصلہ کیا جائے۔ مسئلہ پیدا ہونے کے بعد ساری توجہ مسئلہ کو ختم کرنے پر لگائی جائے۔ ہرفوری نقصان کوگواراکرتے ہوئے مصالحت کرلی جائے۔
ایسےہرموقع پرآپ کانشانہ نزاع کوختم کرناہوناچاہیے،نہ کہ خودمسئلہ کوختم کرنا۔ آپ کو چاہیے کہ آپ مستقبل کو دیکھیں ،نہ کہ صرف حال کو۔آپ کی نظر ملنے والے امکان پرہونی چاہیے، نہ کہ کھوئےجانےوالےنقصان پر۔یہی اس دنیا میں ترقی کا واحدرازہے۔
