کامیابی بھی ناکامی ہو سکتی ہے!
امریکہ کے ایک ناشر نے جب اپنی پہلی کتاب چھاپی تو وہ ایک مہینہ میں پانچ لاکھ کی تعداد میں فروخت ہوگئی۔ بظاہر یہ ایک نہایت شاندار کامیابی تھی ۔ مگر دوسرے ہی مہینہ وہ ناشر دیوالیہ ہو گیا۔ اس کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ اس نے کتاب کی لاگت کا کم اندازہ لگایا۔ چنانچہ اس نے جو قیمت مقرر کی اس پر اس کو آٹھ سنٹ فی نسخہ نقصان ہو رہا تھا ۔ اگر کتاب کم بکتی تو وہ گھاٹے سے بچ سکتا تھا۔ مگر جب اس کو اپنی غلطی کا علم ہوا تو نقصان کی مقدار اس کی برداشت سے باہر ہو چکی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اتنی زبردست کامیابی کے باوجود اس کا کاروبار ختم ہو گیا۔
یہی حال تمام اجتماعی اقدامات کا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک نعرہ کسی وجہ سے لوگوں کو اپیل کر جائے اور بہت سے لوگ اس کے ساتھ چل پڑیں۔ لیکن اگر اس میں دور اندیشی اور حقیقت پسندی نہیں ہے ، اگر اقدام کے وقت حالات کا صحیح اندازہ نہیں لگایا گیا ہے۔ تو عین ممکن ہے کہ نعرہ اور اس کے ساتھ دینے والے سارے لوگ ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو جائیں۔
آخرت کے پہلو سے بھی اس کے اندر نصیحت موجود ہے— ہو سکتا ہے کہ ایک دینی کام کافی پھیل جائے ۔ لاکھوں لوگ اس حلقہ میں شامل ہو جائیں ۔ اس کے رہنماؤں کو اعزاز اور قدر و منزلت حاصل ہو جائے ۔ لیکن اگر اس کے پیچھے صحیح اسلامی جذبہ نہیں ہے تو آخرت کے اعتبار سے اس کا وہی انجام ہوگا جو امریکی ناشر کا ہوا۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ ، 20دسمبر 1967، صفحہ 10)
