تعارف اسلام
دہلی کی جامع مسجد کے پاس تھیاسافیکل سوسائٹی کی ایک لائبریری ہے۔ مجھے مسز اینی بسنٹ (1847-1933) کی ایک کتاب کی تلاش تھی۔ اس کتاب کو لینے کے لیے میں مذکورہ لائبریری میں 24 جون 1979 کو گیا۔ یہ اتوار کا دن تھا۔ حسب معمول اس دن ان کا ہفتہ وار اجتماع تھا۔ کتاب حاصل کرنے کے بعد دن کو 10بجے میں ان کے اجتماع میں شریک ہو گیا۔ یہ پڑھے لکھے لوگوں کا اجتماع تھا۔ نیا چہرہ دیکھ کر انہوں نے مجھ سے فرمائش کی ’’آپ بھی اپنے وچار رکھیں‘‘۔ میں نے کہا کہ میں قرآن کا طالب علم ہوں اگر آپ پسند کریں تو میں یہ کر سکتا ہوں کہ یہ بتاؤں کہ قرآن کی تعلیم کیا ہے ، انہوں نے کہا۔ ضرور آپ یہی بتائیے۔ ہم آپ سے اسی موضوع پر سننا چاہتے ہیں ۔
اس کے بعد میں نے تقریباً آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ اس تقریر میں سادہ انداز میں توحید، آخرت اور جنت و جہنم کی وضاحت کی۔ میں نے بتایا کہ قرآن کے مطابق زندگی کا اصل مسئلہ موجودہ دنیا کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ موت کے بعد آنے والی دنیا کا مسئلہ ہے۔ قرآن یہ بتا تا ہے کہ موجودہ دنیا میں ہم کس طرح زندگی گزاریں کہ ہماری اگلی زندگی کامیاب رہے۔ تمام لوگ بہت غور سے میری تقریر سنتے رہے۔ تقریر کے بعد سوالات بھی ہوئے جن کا میں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جواب دیا۔
تقریر ختم ہونے کے بعد مجمع سے ایک صاحب اٹھ کر میرے پاس آئے اور میرا پتہ معلوم کیا۔ میں نے اپنا پورا پتہ بتا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پٹیل نگر (نئی دہلی) میں تھیا سوفیکل سوسائٹی کا لاج ہے۔ وہاں زیادہ بڑے پیمانہ پر ہمارا پروگرام ہوتا ہے۔ ہم وہاں پر آپ کی تقریر رکھنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم ایک ساتھ ایک مہینہ (چار ہفتہ وار اجتماعات) کا پروگرام بنا کر چھپوا لیتے ہیں اور اس کو تمام ممبروں تک بھیج دیتے ہیں ۔ اب 15 جولائی تک ہمارا پروگرام سٹ ہو چکا ہے۔ اس کے بعد کسی تاریخ کو ہم آپ کو زحمت دینا چاہتے ہیں ۔ اس کے بعد میری دوسری تقریر15جولائی 1979کو ہوئی۔ اس کا عنوان تھا ، قرآن کا پیغام۔ ملک کے اکثر حصوں میں غیر مسلم حضرات کے اس طرح کے اجتماعات برابر ہوتے رہتے ہیں ۔ وہ لوگ اس کو پسند کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی وہاں آئیں اور سنجیدہ انداز میں اپنی بات پیش کریں۔ اسلام کے تعارف کے سلسلہ میں ہمیں جو کچھ کرنا ہے۔ اس کے سلسلہ میں ایک کام یہ بھی ہے کہ اس طرح کے اجتماعات میں پہنچیں اور ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ (الرسالہ، جنوری 1986)
