استقلال کا کرشمہ
دار العلوم دیوبند اب عربی اور دینی علوم کی مشہور ترین درس گاہ ہے۔ اس میں ہزاروں طلبہ پڑھتے ہیں اور اس کا بجٹ ایک کروڑ روپیہ تک پہنچ گیا ہے۔ مگر آغاز میں وہ ایک معمولی مدرسہ سے بھی کم تھا۔
15 محرم 1383ھ ( 30 مئی 1867ء) کو دیوبند کی چھتہ مسجد میں یہ تعلیمی ادارہ شروع ہوا۔
اس وقت اس میں صرف دو آدمی تھے۔ ایک استاد او رایک طالب علم ۔اس کے پہلے استاد کا نام ملا محمود تھا ، اور اس کا پہلا طالب علم وہ نوجوان تھا جس نے بعد کو مولانا محمود (شیخ الہند) کے نام سے شہرت پائی۔
یہ استقلال کا کرشمہ ہے، کوئی کام اگر شروع کیا جائے اور شروع کر نے کے بعد اس کو برابر جاری رکھا جائے تو طویل مدت گزرنے کے بعد بالآخر وہ اسی طرح کامیاب ہوتا ہے جس طرح دیوبند کا تعلیمی ادارہ کامیاب ہوا۔ (ڈائری، 28 مارچ 1983)
