عزم و استقلال
کچھ مسلم نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرو مگرجب مسلمانوں کو اسکول اور کالج میں داخلہ ہی نہ ملے تو پڑھیں گے کیوں کر۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل بے بنیاد عذر ہے۔ میرے بھائی عبدالمحیط خاں اور میرے بھتیجے شکیل احمد خاں کو بنارس ہندو یونیورسٹی میں داخلہ ملا۔ اور دونوں نے وہاں انجنیئرنگ کی ڈگری امتیاز کے ساتھ حاصل کی۔ آپ اگر واقعی پڑھنا چاہیں تو کوئی آپ کو روک نہیں سکتا۔
پھر میں نے اپنی مثال دی۔ عربی مدرسہ میں عربی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں نے یہ چاہا کہ انگریزی زبان کی اعلی تعلیم حاصل کروں ۔ یہ غالباً1944 کی بات ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) میں عربی مدارس کے طلبہ کے لیے داخلہ کی ایک صورت پہلے سے موجود ہے۔ اس کے مطابق میں نے جامعہ ملیہ میں داخلہ کا ارادہ کیا تھا۔
میرے چچا زاد بھائی مولانا اقبال احمد سہیل کا ڈاکٹر ذاکر حسین سے بہت قریبی تعلق تھا۔ میں سہیل صاحب کا ایک سفارشی خط لے کر اعظم گڑھ سے دلی آیا اور ا و کھلا پہنچ کر ڈاکٹر ذاکر حسین سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کی ملنساری اور خوش اخلاقی مشہور ہے۔ مگرکسی نامعلوم سبب کے تحت انہوں نے میرے ساتھ نہایت خشک رویہ اختیا رکیا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کے لیے بھی نہیں کہا۔ میں سہیل صاحب کا خط دے کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے خط پڑھا اور اس کے بعد مزید کچھ پوچھے بغیر سادہ طور پر داخلہ لینے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں پرائیویٹ طور پر انگریزی پڑھوں گا۔ سالہا سال کی محنت کے بعد خدا کے فضل سے میں نے اتنی انگریزی سیکھ لی کہ ہر طرح کی انگریزی کتاب پڑھ سکتا ہوں۔ جامعہ کے انگریزی کے استاد انوار علی خاں سوز مرحوم الرسالہ کے قاری تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ وحیدالدین خان انگریزی عبارتوں کا جو ترجمہ کرتے ہیں اس سے اچھا ترجمہ ہم لوگ نہیں کر سکتے ہیں۔ (ڈائری،14 فروری 1990)
