معیار کی تبدیلی

ہجرت کے دوسرے سال بدر کے مقام پر مسلمانوں میں اور قریش میں جنگ ہوئی۔ قریش کی سرداری ابوجہل کو حاصل تھی۔ جنگ سے ایک دن پہلے اس نے خدا سے اپنی فتح کی دعا کی تو اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے:خدایا، دونوں فریقوں میں سے جو سب سے زیادہ رشتہ رحم کا کاٹنے والا ہو تو کل کے دن اس کو ہلاک کر دے:‌اللَّهمّ ‌أَقْطَعَنَا ‌لِلرَّحِمِ  فَأَحِنْهُ الْغَدَاةَ (سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 628)۔

ابو جہل کو خدا سے یہ کہنا تھا کہ وہ قریش کو مسلمانوں کے اوپر فتح دے۔ اس کی یہ بات اسی وقت با وزن ہو سکتی تھی جب کہ وہ یہ بھی دکھا سکے کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں اس کا گروہ حق پر ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے قطع رحم کو فیصلہ کی بنیاد بنایا۔ کیوں کہ اسلام کی دعوت نے قریش کے خاندانوں میں باپ کو بیٹے سے اور بھائی کو بھائی سے جدا کر دیا تھا۔ اس معیار پر جانچنے کی صورت میں یہ ثابت ہوتا تھا کہ اس کا اپنا گروہ حق پر ہے اور مسلمانوں کا گروہ باطل پر۔ روس کے سابق وزیراعظم نکیتا خروشچوف نے بھی اسی طریقہ کو اختیار کرتے ہوئے خدا کے وجود سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ معیار قائم کیا کہ خدا اگر ہے تو اس کو چاند پر سے نظر آنا چاہیے۔ جب روس کے راکٹ نے اپنے چاند کے سفر کی رپورٹ میں خدا کا کوئی نشان نہیں بتایا تو خروشچوف نے اعلان کر دیا:خدا کا کوئی وجود نہیں، کیوں کہ ہمارا راکٹ چاند تک گیا مگر اس کو کہیں خدا نظر نہیں آیا۔

یہی غلطی مختلف شکلوں میں خود اسلام میں پیدا ہو سکتی ہے۔ کون اسلام پر ہے اور کون اسلام پر نہیں ہے۔ اس کا ایک خدائی معیار ہے۔ لیکن اگر آپ اس معیار کو بدل دیں تو آپ کے لیے سارا معاملہ کچھ سے کچھ ہو جائے گا۔ آپ اپنے ذاتی معیار کی بنا پر دین کو بے دینی سمجھ لیں گے اور بے دینی کو دین۔

اگر آپ نے یہ سمجھ لیا ہو کہ دعوت دین کی بنیاد اکابر کے ملفوظات ہیں، تو آپ کو وہ دعوت دینی دعوت نظر نہ آئے گی، جس کی بنیاد قرآن و سنت پر رکھی گئی ہو۔ اگر آپ یہ معیار قائم کر لیں کہ دین وہ ہے، جو بزرگوں سے عقیدت پیدا کرے تو آپ کو وہ دین دین معلوم نہ ہو گا، جو خدا سے عقیدت پیدا کرنے والا ہو۔ اگر آپ کا ذہن یہ ہو کہ کامل دین وہ ہے، جو سیاسی انقلاب کا علم بردار ہو تو آپ کو وہ دین ناقص دین دکھائی دے گا، جو فرد کے اندر نفسیاتی انقلاب پر زور دیتا ہو۔ اگر آپ کا خیال یہ ہو کہ جہاد اور عزیمت کے مقام پر وہ ہے، جو حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے اکھیڑ پچھاڑ کی مہم چلائے، تو آپ کو وہ شخص جہاد اور عزیمت کے مقام سے گرا ہوا نظر آئے گا، جو یہ کہے کہ حکمرانوں سے تصادم نہ کرتے ہوئے غیر سیاسی دائرہ میں کام کرو۔ اگر آپ یہ معیار بنا لیں کہ جو شخص فروعی مسائل اور فنی موشگافیوں میں کمال رکھتا ہو، وہی ماہر دینیات ہے تو آپ کو وہ شخص علم دینیات کا ماہر نظر نہ آئے گا، جو خوف خدا اور فکر آخرت کی باریکیوں کو بیان کرتا ہو۔ اگر آپ نے یہ سمجھ لیا ہو کہ احتجاج اور حقوق طلبی کی مہم احیائے ملت کی مہم ہے، تو آپ ملت کے اندر خود تعمیری کی تحریک کو احیائے ملت کی تحریک سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion