صحیح معیار اور غلط معیار
مقلدانہ فکر کے بہت سے نقصانات ہیں۔ ان میں شاید سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایسے لوگ حق کو خود حق سے نہیں پہچانتے بلکہ وہ اس کو رجال کی نسبت سے پہچانتے ہیں۔ایسے لوگوں کا سب سے بڑا مرجع ان کے مفروضہ بزرگ بن جاتے ہیں۔ یہ مفروضہ بزرگ جس چیز کو حق بتائیں اس کو وہ حق مان لیتے ہیں۔ کوئی شخص جو ان کے مفروضہ بزرگوں کی فہرست میں شامل نہ ہو وہ خواہ کتنے ہی زیادہ دلائل کے ساتھ کسی بات کو پیش کرے، وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، کیوں کہ ان کے اندر یہ ذاتی صلاحیت ہی نہیں ہوتی کہ وہ دلیل کے ذریعہ کسی چیز کو پہچانیں اور اس کو اختیار کر لیں۔
یہی واحد سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر ہر دور میں پیغمبروں کا انکار کیا گیا۔ پیغمبر اپنے معاصرین کو ایک نیا شخص دکھائی دیتا تھا جو ان کے مفروضہ بزرگوں کی فہرست سے باہر تھا، اس لیے وہ پیغمبر کو اس کی زندگی میں قابل لحاظ شخص کا درجہ نہ دے سکے۔ مزید یہ کہ پیغمبر جب ان کی محبوب شخصیتوں پر تنقید کرتا تو وہ اس سے اور بھی زیادہ بھڑک جاتے اور اس کے پیغام پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے لیے تیار نہ ہوتے۔
مقلدانہ ذہن اور مجتہدانہ ذہن کے درمیان سب سے زیادہ اہم فرق یہ ہے کہ مقلدانہ ذہن رکھنے والے لوگ حق کو صرف اپنی شخصیتوں کے حوالے سے پہچانتے ہیں۔ اس کے برعکس، مجتہدانہ ذہن رکھنے والے لوگوں میں یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ حق کو خالص دلیل کے زور پر پہچانیں اور اس کو پوری آمادگی کے ساتھ اختیار کر سکیں۔
اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ مقلدانہ ذہن رکھنے والے لوگ عین اسی چیز سے محروم ہو جاتے ہیں جس کو دین میں سب سے زیادہ اہم حیثیت حاصل ہے ، یعنی معرفت والا ایمان۔ معرفت والے ایمان کا سر چشمہ ذاتی دریافت (self-discovery) ہے۔ مقلدانہ ذہن رکھنے والے لوگ خود اپنے ذہن کو آزادانہ طور پر استعمال ہی نہیں کرتے ، اس لیے وہ معرفت والے اسلام سے آشنا نہیں ہوتے۔
مجتہدانہ ذہن رکھنے والوں کا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے۔ ایسے لوگوں کے ذہن کی کھڑکیاں ہر وقت کھلی رہتی ہیں۔ وہ ہمیشہ آزادانہ طور پر غور و فکر کے لیے تیار رہتے ہیں۔ وہ یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ اگر کسی چیز کا حق ہونا ظاہر ہو تو وہ فوراً اس کو پہچان لیں اور کسی تردد کے بغیر اس کو مان لیں۔
موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے سب سے بڑی چیزیہ ہے کہ وہ حق کو دریافت کرے۔ یہ احساس کہ میں نے سچائی کو پا لیا ہے، بلاشبہ اس دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ مگر عظیم ترین نعمت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو مجتہدانہ فکر کے حامل ہوں۔ جو لوگ مقلدانہ فکر کے اندھیروں میں گم ہوں وہ کبھی معرفت والی سچائی کا تجربہ نہیں کر سکتے۔
