نفاذ احکام میں تدریج

صحیح البخاری کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عائشہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قرآن میں پہلے جو کلام اترا وہ اس کی مفصل سورتیں تھیں، ان میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگوں کے دل اسلام پر مطمئن ہو گئے تو اس کے بعد حلال و حرام کی آیتیں اتریں۔ اس کے بعد حضرت عائشہ کہتی ہیں:وَلَوْ ‌نَزَلَ ‌أَوَّلَ ‌شَيْءٍ:لَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ، لَقَالُوا:لَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا، وَلَوْ نَزَلَ:لَا تَزْنُوا، لَقَالُوا:لَا نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993)۔ یعنی، اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ تم لوگ شراب نہ پیو تو ضرور لوگ یہ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے اور اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ تم لوگ زنا نہ کرو تو ضر ور لوگ یہ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے۔

امام بخاری نے اس روایت کو اپنی صحیح میں کتاب فضائل القرآن (بَابُ تَأْلِيفِ الْقُرْآنِ) کے تحت درج کیا ہے۔ اب اگر بعد کے لوگ حضرت عائشہ کی اس روایت کا مطالعہ صرف امام بخاری کے ترجمۂ باب کے تحت کریں تو وہ  اس سے صرف فضائل قرآن یا تالیف قرآن کے مسائل اخذ کر یں گے ، اس سے زیادہ کوئی اور چیز انہیں اس روایت میں نہ مل سکے گی۔ حالانکہ اگر غور و فکر کے سفر کو بخاری کے ترجمۂ باب پر روکا نہ جائے بلکہ اس کو مزید آگے جاری رکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس روایت میں اسلام کا ایک نہایت اہم مسئلہ بیان ہوا ہے۔

اس روایت پر غور کر نے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چیز جس کو تطبیق شریعت یا نفاذ شریعت کہا جا تا ہے، اس کے لیے  ایک حکمت کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ یہ حکمت تدریجی عمل (gradual process) کی حکمت ہے۔اسلام کے دور اوّل میں شرعی قانون کا نفاذ ایک تدریجی حکمت کے تحت کیا گیا۔ وہ حکمت یہ تھی کہ پہلے لوگوں کے دلوں میں اطاعت احکام کی آمادگی پیدا کی جائے ، اور جب یہ داخلی آمادگی پیدا ہو جائے تو اس کے بعد خارجی احکام کا نفاذ کیا جائے۔

اس روشنی میں موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحیح البخاری کی مذکورہ حدیث کو بس اس کے ترجمہ ٴباب کے تحت پڑھتے رہے ، وہ ترجمۂ باب سے آگے بڑھ کر اس پر غور نہ کر سکے۔ اس تقلیدی طرز فکر کا نقصان یہ ہوا کہ وہ اسلام کی اس اہم حکمتِ تدریج کو سمجھنے سے قاصر رہے جو اس حدیث میں بتائی گئی تھی۔

موجودہ زمانے میں اکثر مسلم ملکوں میں لمبی مدت سے تطبیق شریعت یا نفاذ شریعت کے نعروں کا شور سنائی دے رہا ہے۔ مثلاً مصر، پاکستان ، ایران ، سوڈان، افغانستان، الجزائر انڈو نیشیاء نائجیریا، بنگلہ دیش، وغیرہ وغیرہ۔ مگر بے شمار قربانیوں کے باوجود کسی بھی مسلم ملک میں اب تک شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں نہ آسکا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں طول امد (الحدید،57:16) کے نتیجے میں ضعف ایمان پیدا ہو چکا تھا۔ ان کے اندر وہ ذہنی موافقت اور قلبی آمادگی باقی نہیں رہی تھی جو شرعی احکام کو عملی طور پر قبول کرنے کے لیے  لازمی طور پر ضروری ہے۔ ان کا حال مذکورہ روایت کے مطابق، یہ ہو گیا تھا کہ جب ان کو خمر اور زنا کے احکام کا مخاطب بنایا جائے تو وہ کہہ دیں کہ — لَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا و لَا نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993)۔یعنی، ہم کبھی بھی شراب نہیں چھوڑیں گے اور کبھی بھی زنا نہیں چھوڑیں گے۔

مثال کے طور پر اکثر مسلم ملکوں میں پر جوش مسلم رہنماؤں نے یہ کیا کہ میڈیا کو اسلامائز کرنے کے لیے  ٹی وی کے نظام پر قبضہ کیا اور پھر اس کے ذریعہ ’’اسلامی پروگرام‘‘  دکھانا شروع کر دیا۔ لیکن وہ عملاً مکمل طور پر بے فائدہ رہا۔ کیوں کہ مسلم گھروں میں ٹی وی سیٹ پر جب یہ اسلامی پروگرام آتے تو گھر والے اس کو دیکھتے ہی نہ تھے۔ اوراس وقت ٹی وی سیٹ کی سوئی گھما کردوسرا کوئی تفریحی پروگرام دیکھنے لگتے۔

نفاذ شریعت کی ہنگامہ خیز کوششوں کے باوجود اس کی مکمل ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں میں اجتہادی فکر موجود نہ تھی۔ وہ صرف تقلیدی فکر کا سرمایہ لے کر میدان سیاست میں کود پڑے۔ اس قسم کے تقلیدی فکر کا انجام وہی ہو سکتا تھا جو عملاً پیش آیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion