توہین کو برداشت کرنا

مشہور سیرت نگار ابن اسحق بتاتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کا نام مذمم رکھا تھا۔ پھر وہ آپ کا سب وشتم کرتے تھے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں سے فرماتے تھے کہ کیا تم کو اس پر تعجب نہیں کہ اللہ نے کس طرح مجھ کو قریش کی ایذارسانی سے بچالیا۔ وہ سب و شتم کرتے ہیں اور ایک مذمم شخص کی ہجو کرتے ہیں اور میںمحمد ہوں:

وَكَانَتْ قُرَيْشٌ إِنَّمَا تُسَمِّي رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم مُذَمَّمًا، يَسُبُّونَهُ، وَكَانَ يَقُولُ:‌أَلَا ‌تَعْجَبُونَ ‌لِمَا ‌صَرَفَ ‌اللهُ عَنِّي مِنْ أَذَى قُرَيْشٍ، يَسُبُّونَ وَيَهْجُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ (سیرت ابن هشام،جلد2، صفحہ6)۔

 پیغمبر اسلام ﷺ کا اصل نام محمد تھا جس کا مطلب ہے تعریف کیا ہوا۔ مکی دور میں جب قریش کو آپ کے ساتھ عناد پیدا ہوا تو انھیں پسند نہیں آیا کہ وہ آپ کو محمد (تعریف کیا ہوا) جیسے نام سے پکاریں۔ انھوں نے اپنے جذبۂ عناد کی تسکین کے لیے بطور خود آپ کا نام مذمم رکھ دیا جس کے معنی ہیں مذمت کیا ہوا۔ قریش جب آپ کو برا بھلا کہتے تو وہ آپ کے لیے محمد کا لفظ استعمال نہ کرتے بلکہ وہ مذمم کا لفظ بول کر آپ کو برا بتاتے۔ حتیٰ کہ ابولہب کی بیوی ام جمیل نے خود آپ کے سامنے آکر کہا:مُذَمَّمًا عَصَيْنَا (سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 356)۔ یعنی، یہ مذمم ہیں اور ہم ان کو نہیں مانتے۔

یہ بلا شبہ ایک اشتعال انگیزی تھی اور آپ کی تو ہین بھی۔ لیکن پیغمبر اسلام نے ایک خوبصورت جواب دے کر اس کو نظر انداز کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ مذمم کی سب وشتم کرتے ہیں۔ مگر ان کی سب و شتم میرے اوپر پڑنے والی نہیں کیوں کہ میرا نام محمد ہے نہ که مذمم۔

پیغمبر اسلام ﷺ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہاں عبداللہ بن ابی آپ کا شدید مخالف بن گیا۔ اس نے اگر چہ اسلام قبول کر لیا تھا مگر حسد کے جذبے کے تحت وہ آپ کا شدید مخالف بن گیا۔ آپ کی توہین کرنا، آپ کا سب و شتم کرنا اور آپ کے خلاف بری باتیں پھیلانا اس کا سب سے بڑا مشغلہ بن گیا۔ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ وہ سب سے بڑا شاتم رسول تھا۔ حضرت عمر فاروق نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کردوں۔ آپ نے فرمايا:دَعْهُ، لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر4905)۔ یعنی، اس کو چھوڑ دو۔ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتےہیں۔

اس واقعہ سے پیغمبر اسلام ﷺ کا ایک خاص اسوه معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ— توہین کو برداشت کر لو۔ کیونکہ اگر تم نے توہین کو برداشت نہ کیا تو اس سے بھی زیادہ بڑی  برائی سامنے آئے گی، اور وہ خدا کے دین کی بدنامی ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion