غیرافضل طر یقہ
روایات میں آتا ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق منبر پر چڑھے اور حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ مہر میں کس نے چار سو درہم پر اضافہ کیا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا مہر آپس میں چارسو درہم یا اس سے کم ہوتا تھا۔ اور اگر مہر میں زیادتی تقویٰ اور عزت کی بات ہوتی تو تم مہر کے بارے میں ان سے آگے نہیں جا سکتے تھے (مستدرك الحاكم، حديث نمبر 2766)۔
دوسری روایت میں ہے کہ خلیفہ دوم نے فرمایا کہ اے لوگو، تم عورتوں کے مَہر زیادہ نہ باند ھو۔ اور مجھے جس شخص کے بارے میں بھی یہ اطلاع ملے گی کہ اس نے رسول اﷲؐ کے مہر سے زیادہ مہر باند ھا ہے یا کسی کو اس سے زیا دہ مہر دیا گیا ہے تو میں زیادہ مقد ار کو لے کر اس کو بیت المال میں جمع کر دوں گا۔
یہ کہہ کر آپ منبر سے اترے تو قریش کی ایک عورت سامنے آئی۔ اس نے کہا اے امیرالمومنین، اﷲ کی کتا ب زیا دہ پیروی کے قابل ہے یا آپ کا قول۔ حضرت عمر نے کہا کہ اﷲکی کتاب۔ عورت نے کہا کہ ابھی آپ نے لوگوں کو منع کیا ہے کہ وہ عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کریں۔ اور اﷲ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے که’’ اوراگر تم نے کسی عورت کو زیادہ مال دیا ہے تو (طلاق کے بعد ) اس میں سے کچھ نہ لو‘‘(4:20)۔ یہ سن کر حضرت عمر نے کہا:ہر ایک عمر سے زیادہ جانتا ہے (کُلُّ أَحَدٍ أَفْقَہُ مِنْ عُمَرَ)۔ آپ نے یہ فقرہ تین بار کہا۔ اس کے بعد حضرت عمر دوبارہ منبر پر آئے اور لوگو ں سے کہا:
إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تُغَالُوا فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ أَلَا فَلْيَفْعَلْ رَجُلٌ فِي مَالِهِ مَا بَدَا لَهُ۔)سنن الکبری للبیهقی (14336میں نے تم کو عورتوں کا مہر زیادہ باندھنے سے روکا تھا۔ اب ہر آدمی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے مال میں جو چاہے کرے ۔
عَن عُمَرَ قَالَ:لَوْ كَانَ الْمَهْرُ سَنَاءً وَرِفْعَةً فِي الْآخِرَةِ، كَانَ بَنَاتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِسَاؤُهُ أَحَقَّ بِذَلِكَ.’’أَبُو عُمَرَ ابْنُ فَضَالَةَ فِي أَمَالِيهِ” )کنزالعمال(45797۔مہر اگر آخرت میں بلندی اور عظمت کی چیز ہوتی تو یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں اس کی زیادہ مستحق تھیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ نکاح میں زیادہ مہر باند ھنا اگر چہ خا لص قا نونی اعتبار سے بالکل ممنوع چیز نہیں مگر وہ یقینی طور پر غیر افضل چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحا بہ کرام کے مہر کم تھے۔ ان میں سے کسی کے بارے میں بھی یہ ثا بت نہیں کہ اس نے اپنا یا اپنی بیٹیوںکا مہر زیادہ مقر کیا ہو۔
