حیوانیت کی سطح پر

حضرت سلیمانؑ کے زمانہ حکومت (1013-973)میں بحر قلزم کی مشرقی شاخ کے کنارے ایلات (Elath) کے مقام پر یہودیوں کی آبادی تھی۔ انہوں نے قانون سبت کی خلاف ورزی کی۔ ان کی شریعت میں سبت (سنیچر) کے دن معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں۔ مگر وہ اس دن مچھلی کا شکارکرنے لگے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں کثرت سے دریا میں آتی تھیں اور بقیہ دنوں میں پانی کے نیچے چلی جاتی تھیں۔ یہود نے یہ شرعی تدبیر کی کہ دریا کے کنارے گڑھے بنائے۔ وہ دریا کا پانی کاٹ کر گڑھے میں ملا دیتے۔ سنیچر کے دن جب مچھلیاں گڑھے میں آ جاتیں تو وہ نکلنے کا راستہ بند کر دیتے۔ اگلے دن اتوار کو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔

یہ تدبیر وہ اس لیے کرتے تھے تاکہ ان پر یہ بات صادق نہ آئے کہ وہ سبت کے دن شکارکرتے ہیں۔ دین کے نام پر یہ بے دینی اللہ کو اتنی زیادہ ناپسند ہوئی کہ ان پراللہ کی لعنت ہوئی۔ وہ بندر اورسور بنا دیے گئے (5:60) —عملاً یہی حالت اگرچہ پوری قوم یہود کی تھی۔ تاہم ایک خاص مقام کے یہودیوں کے باطن کو غالباً ظاہری طور پر بھی مجسم کر دیا گیا تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ہو (2:66)۔

بندر اور سور بنانے سے کیا مراد ہے، اس بارے میں مفسرین کی دو رائیں ہیں۔ اکثریت نے ظاہر الفاظ پر قیاس کرتے ہوئے یہ مراد لیا ہے کہ مذکورہ گروہ حقیقی معنوں میں بندر اور سور بنا دیے گئے۔ جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، اس سے کوئی واضح بات ثابت نہیں۔ حدیث میں صرف اتنا ہے کہ آپ سے پوچھا گیا کہ موجودہ بندر اور سورکیا قدیم مسخ شدہ اقوام کی نسلیں ہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ یہ حیوانات ہمیشہ سے اسی طرح ہیں (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2663)۔

مجاہد کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وہ بندر کی صورت میں تبدیل نہیں کیے گئے بلکہ ان کے دل مسخ کر دیے گئے عن مجاهد قَالَ:مُسِخَتْ قُلُوبُهُمْ، وَلَمْ يُمْسَخُوا قِرَدَةً، وَإِنَّمَا هُوَ مَثَلٌ ضَرَبَهُ اللَّهُ كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا ]الْجُمُعَةِ:5]  ابو العالیہ کا قول ہے کہ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ سے مراد یہ ہے کہ وہ پست اور حقیر بنا دیے گئے (یعنی أَذِلَّةً صَاغِرِينَ)۔ یہی رائے قتادہ اور ربیع اور ابو مالک کی بھی ہے(تفسير ابن كثير، جلد1، صفحہ 290) ۔ موجودہ زمانہ کے مفسرین میں شیخ رشید رضا نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے (تفسیر المنار، جلد 1، صفحہ 284)۔

سور کی خصوصیت کیا ہے۔ ستھری چیز کو چھوڑ کر، گندی چیز کو اپنی خوراک بنانا، اس کی ایک صورت وہ ہے جو کمائی اور لین دین میں ظاہر ہوتی ہے۔ آدمی حلال ذرائع پر قانع نہ رہ کر حرام سے اپنا پیٹ بھرنے لگتا ہے (المائدۃ، 5:63) ۔ دوسری صورت وہ ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اس کواپنا راستہ بنا لیں (7:146)۔

ایسے لوگوں کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ مثبت چیزوں کے بجائے منفی چیزوں کی طرف دوڑنے لگتے ہیں، ان کو اصلاح کے کاموں کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔ البتہ ایسے کاموں کی طرف وہ تیزی سے لپکتے ہیں جن کا نتیجہ نسلوں اور کھیتیوں کی ہلاکت ہو۔

ان کے سامنے تعمیر کا کام کے مواقع کھلے ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کو چھوڑ کر تخریب کے راستوں میں تیزی دکھاتے ہیں۔ ابناء نوع کے لیے نفع بخش بننے کا شوق ان میں نہیں ابھرتا۔ البتہ ان کو نقصان پہنچانے کے نعرہ پر وہ بآسانی جمع ہو جاتے ہیں۔ خاموش خدمت میں ان کے لیے اپیل نہیں ہوتی البتہ نمائشی ہنگاموں میں وہ خوب دل چسپی دکھاتے ہیں۔ حقیقی فائدہ کے منصوبوں میں ان کے لیے کوئی کوشش نہیں ہوتی۔ البتہ بے فائدہ مشغلوں میں وہ اپنا وقت اور مال خوب خرچ کرتے ہیں۔ حتٰی کہ نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلائیے تو وہ لبیک نہ کہیں گے البتہ زندہ یا مردہ شخصیتوں کی پوجا کے نام پر وہ جوق در جوق اکٹھا ہو جائیں گے۔

بے دینی کو دین کے نام پر کرنا بدترین جرم ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے آدمی کے اندر سے صحیح اور غلط کا فرق مٹ جاتا ہے۔ وہ ایک بے حس انسان بن جاتا ہے۔ دین اور بے دینی دونوں اس کو یکساں دکھائی دینے لگتے ہیں۔ وہ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آ جاتا ہے۔ حتٰی کہ وہ نوبت آتی ہے جب کہ اس میں بندر اور سور کی اخلاقیات پیدا ہو جاتی ہیں۔

بندر کی خصوصیت کیا ہے۔ فساد اور بے حیائی۔ کسی مکان میں بندروں کا غول داخل ہو جائے تو وہ فوراً بے معنی اچھل کود اور توڑ پھوڑ شروع کر د ے گا۔ ایسا ہی کچھ حال اس قوم کا ہو جاتا ہے۔ وہ زبان سے خدا کا انکار نہیں کرتی۔ تاہم عملاً وہ خدا کی زمین پر اس طرح رہنے لگتی ہے جیسے اس زمین کا کوئی مالک نہیں ہے۔ جیسے نہ کبھی خدا سے اس کاسامنا ہونا ہے ا ور نہ اپنے کیے کاحساب دینا ہے— بدنظمی، غیر ذمہ دارانہ زندگی، بے معنی کارروائیاں، آپس کی چھین جھپٹ، ایک دوسرے پر غرانا، ہمدردی اور انصاف کے بجائے ظلم و فساد کواپنا شیوہ بنا لینا، یہ اس کی عام زندگی ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگ بظاہر انسان مگر عملاً بندر صفت ہو جاتے ہیں۔ وہ انسانوں کی آبادی میں اس طرح رہنے لگتے ہیں جیسے بندر جنگلوں کی آبادی میں ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion