عید الفطر
عید الفطر کے لفظی معنی ہیں افطار کی عید ۔یعنی روزہ ختم کرنے اور کھانے پینے کی عید ۔ یہ اسلام کا سالانہ تیوہار ہے جو رمضان کے مہینے کے فوراً بعد شوال کی پہلی تاریخ کو منایا جاتا ہے ۔ عید الفطر ایک سادہ تیوہار ہے۔ اس میں کوئی چیز بھی بطور فرض یا لازم کے نہیں ہے۔ جو کچھ بھی ہے وہ سنت یا مستحب ہے۔ یہ تو لازم کیا گیا ہے کہ عید الفطر کے دن کوئی شخص روزہ نہ رکھے مگر یہ لازم نہیں کیا گیا ہے کہ وہ فلاں فلاں عمل ضرور کرے۔ گویا کہ عید الفطر مکمل آزادی کا دن ہے ۔
عید الفطر کے دن مسلمان صبح اٹھ کر نہاتے دھوتے ہیں۔ نیا کپڑا پہنتے ہیں۔ خوشبو لگاتے ہیں۔ اپنی پسند کی میٹھی چیز مثلاً (سوئیاں )کھاتے ہیں ۔ اور پھر اجتماعی عبادت کے لیے مسجد کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۔ وہاں وہ دو رکعت نماز پڑھتے ہیں۔ اس نماز میں اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے) کا لفظ عام نمازوں سے کچھ زیادہ بار دہرایا جاتا ہے۔ نماز کے بعد سب مل کر خدا سے دعائیں کرتے ہیں۔ مسجد جاتے ہوئے اور مسجد سے واپس ہوتے ہوئے راستہ میں یہ کہتے جاتے ہیں:اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد (اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے اور اسی کے لیے ہے ساری تعریف)۔ یہ بات پسندیدہ ہے کہ بستی کے سارے مسلمان ایک مقام پر اکٹھا ہو کر نماز ادا کریں، مرد، عورت اور بچے سب وہاں حاضر ہوں اور گھر سے مسجد آنے اور جانے کا راستہ بدل دیں۔ یہ سب اس لیے ہے تاکہ خدا پرست گروہ کی شوکت کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ ہو۔ نماز کے بعد آپس میں ملنے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دینے کا پروگرام ہوتا ہے۔ لوگ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے گھر جاتے ہیں۔ چھوٹے اپنے بڑوں کو سلام کرتے ہیں اور بڑے اپنے چھوٹوں کو تحفے اور عیدی پیش کرتے ہیں۔ اس طرح سارا دن خوشیاں منانے اور کھانے پینے میں گزر جاتا ہے۔
یہ عید الفطر عام معنوں میں محض ایک قومی تیوہار نہیں ہے ، اس کی ایک خاص معنویت ہے اور زندگی کے اسلامی تصور سے اس کا بہت گہرا تعلق ہے۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق عید اس دن کی علامت یا تمثیل ہے جب کہ ساری بڑائی صرف ایک خدا کے لیے ہوگی۔ ہر قسم کی شان و شوکت صرف ان لوگوں کو ملے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے وفادار بن کر رہے تھے ۔ جب خدا پرستوں کے لیے مشکلوں اور مصیبتوں کے دن ختم ہو جائیں گے اور ان کا خدا ان کو خوشیوں اور راحتوں کی ابدی دنیا میں داخل کر دے گا جہاں سے کبھی نکلنا نہ ہوگا۔
اسلام کے نز دیک آدمی کی زندگی کے دو مر حلے ہیں۔ ایک موت سے پہلے اور دوسرا موت کے بعد۔موت سے پہلے کا مرحلہ عمل کرنے کا مرحلہ ہے اور موت کے بعد کا مرحلہ اپنے عمل کا انجام پانے کا مرحلہ۔
موت سے پہلے پابند اور ذمہ دار زندگی گزارنا ہے اور موت کے بعد اس کے انعام کے طور پر ایسی زندگی ملے گی جس میں آدمی ہر طرح آزاد اور خوش حال ہو گا— روزہ کا مہینہ موت سے پہلے کی زندگی کی علامت ہے اور عید الفطر کا دن موت کے بعد کی زندگی کی علامت ۔
موت سے پہلے کی زندگی میں آدمی کو جو کچھ کرنا ہے وہ یہ کہ وہ خدا کی مرضی کا پابند ہو کر زندگی گزارے ۔ وہ جو کچھ کرے جائز دائرہ میں کرے ، خدا کے منع کیے ہوئے دائرہ میں داخل نہ ہو۔ مثلا وہ سچ بولے اور جھوٹ نہ بولے ۔ وہ محنت کی کمائی کھائے اور لوٹ کھسوٹ کے طریقوں سے بچے ۔ دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے میں وہ ہمیشہ انصاف برتے اور بے انصافی کا طریقہ کبھی اختیار نہ کرے۔ اس کے دل میں لوگوں کے لیے محبت اور خیر خواہی ہو، نہ کہ بغض اور حسد۔
روزہ اسی پابند زندگی کی مشق ہے، وہ آدمی کو یاد دلاتا ہے کہ اس دنیا میں اس کو ذمہ دارانہ زندگی گزارنا ہے نہ کہ غیر ذمہ دارانہ زندگی ۔ روزہ میں آدمی خدا کے حکم سے کھانا پانی چھوڑ دیتا ہے ۔ اپنے معمولات کو بدل دیتا ہے، اپنی خواہشوں پر روک لگاتا ہے۔ اپنی مرضی پر چلنے کے بجائے اپنے آپ کو خدا کی مرضی کا پابند بناتا ہے۔ اس طرح مسلسل ایک ماہ تک وہ اپنے آپ کو ایک پر مشقت کو رس سے گزارتا ہے ۔ یہ روزہ کی صورت میں اس پابند زندگی کا ایک علامتی سبق ہے جو آدمی کو موجودہ دنیا میں اپنی زندگی میں نباہنا ہے۔ رمضان میں ایک مہینہ تک اس قسم کی پابند زندگی گزارنے کے بعد یکم شوال کو عید الفطر کا دن آتا ہے جب کہ ساری پابندیاں ختم کر دی جاتی ہیں اور آدمی آزاد ہوتا ہے کہ وہ خوشیوں اور راحتوں کا دن منائے ۔ روزہ کے مہینہ میں اگر اس کو موت سے پہلے کی زندگی کا سبق دیا گیا تھا تو عید الفطر کے دن اس کو موت کے بعد کی زندگی کی جھلک دکھائی جاتی ہے۔ روزہ مسلمان کی دنیوی زندگی کی تمثیل ہے اور عید الفطر مسلمان کی آخرت کی زندگی کی تمثیل ۔
روزہ کا مہینہ اور اس کے فوراً بعد عید الفطر آدمی کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر اس نے موجودہ دنیا میں خدا کے حکموں کے مطابق پابند زندگی گزاری تو اگلی دنیا میں اس کو خوشی اور آزادی کی پر بہار جنتوں میں داخل کیا جائے گا۔ اس کے بعد نہ اس پر کوئی پابندی ہوگی اور نہ کسی قسم کی تکلیف ۔
_____________________________________________
نوٹ:یہ تقریر 3اگست 1981کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی۔
