جنگ سےامن تک

قرآن میں دومقام پرآیت آئی ہےکہ فتنہ کوختم کرنےکےلیے جنگ کرو:وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ (2:193)۔ اس آیت میں فتنہ سےمرادمذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ اس آیت کےذریعہ رسول اوراصحاب رسول کوحکم دیاگیاہےکہ تم لوگ مذہبی جبرکےموجودہ نظام کوتوڑدوتاکہ دنیامیں مذہبی آزادی کا ماحول قائم ہوجائے۔ جو لوگ اللہ کےدین کواختیارکرناچاہیں ان کے راستے میں کوئی پابندی باقی نہ رہے۔ واضح ہوکہ پیغمبراسلام کےمعاصرقوتوں نےآپ کےخلاف خودہی بدء (التوبۃ، 9:13) کا عمل کیا۔ اس طرح انہوں نےجارحیت کاآغازکرکےفتنہ کےخلاف آپ کے آپریشن کو دفاعی جنگ کی صورت دے دی۔

اس آیت میں ایک معلوم اورمتعین مقصد کےلیے جنگ کاحکم دیاگیاتھا،اوروہ تھا، مذہبی جبر کا خاتمہ۔ اس آیت کولے کر کسی اور مقصد کے لیے جنگ چھیڑنادرست نہ تھا۔ مگر بعد کے زمانے میں ایسا کیا گیا کہ قتالِ فتنہ کے حکم کی توسیع کر کے اس کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک انحراف (deviation) یا گاڑی کا اپنی پٹری سے اترنا (derailment) تھا۔ مگر ایسا ہوا، اور اس کا سلسلہ کسی نہ کسی عنوان سے آج تک جاری ہے۔

1۔ اس سلسلے میں پہلا انحراف اصحاب رسول کی دوسری نسل (second generation) میں پیش آیا۔اس معاملہ میں دونام زیادہ نمایاں ہیں۔ ایک الحسین بن علی (م61ھ)اور دوسرے عبداللہ بن الزبیر (م73ھ)۔ دونوں حضرات نے اموی حکمراں   یزیدبن معاویہ کے خلاف خروج (بغاوت) کیا۔ دونوں حضرات نے اپنے عمل کے وجہ سے جواز کے طور پر یزید کے ظلم کا حوالہ دیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس قتال فتنہ کا تعلق مذہبی جبر سے تھا اس میں تصرف کر کے اس کو انہوں نے سیاسی بدعنوانی (political corruption) تک وسیع کر دیا۔

قتال فتنہ کے حکم کی یہ تو سیع بلاشبہ ایک اجتہادی خطا تھی۔ اس کا قطعی ثبوت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے واضح طور پر یہ حکم دیا تھا کہ میرے بعد حکمرانوں کے بگاڑ کولے کر ہرگز ان کے خلاف خروج نہ کیا جائے۔ یہی وجہ ہےکہ ان دونوں حضرات کی جنگوں کے وقت صحابہ کرام کی بڑی تعدادموجود تھی، مگروہ ان جنگوں میں شریک نہیں ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عمرنےواضح طورپراعلان کیاکہ بعدکےزمانے کی یہ جنگ قتال فتنہ کےحکم سے انحراف ہے، نہ کہ اس کا اتباع (صحیح البخاری،حدیث نمبر 7095)۔

2۔ اس سلسلہ کا دوسرا انحراف زیادہ بڑے پیمانہ پر خلافت راشدہ کے بعد شروع ہوا اور پھر تقریباً ہزار سال تک جاری رہا۔ یہ انحراف مسلم حکمرانوں کی طرف سے کیا گیا۔ انہوں نے مذہبی جبر کے خلاف جنگ کے مفہوم میں اضافہ کر کے اس کو مسلم سلطنت کی تو سیع (political expansion) کے معنی میں لےلیا۔وہ پوری دنیامیں مسلم سلطنت کی توسیع کے لیے لڑائیاں لڑتے رہے۔

قتال فتنہ کے حکم کی یہ توسیع بھی بلاشبہ ایک انحراف تھی۔ قرآن میں امت کو عالمی مشن دیا گیا تھا وہ شہادت علی الناس تھا،نہ کہ لوگوں کےاوپراپناسیاسی اقتدارقائم کرنا۔یہی بات پیغمبراسلام نے اس طرح فرمائی کہ اللہ نے مجھ کو سارے انسانوں کے لیے بناکر بھیجا ہے۔ اس لیے تم میرے لائے ہوئے پیغام کو میری طرف سے تمام دنیا والوں تک پہنچا دو:فَأَدَّوْا عَنِّي (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 607)۔ اس اعتبار سے بعد کے دور میں مسلمانوں کا اصل کام دعوت الی اللہ تھا، نہ کہ اقتدار کی سیاست چلانا۔

3۔اس سلسلہ کاتیسراشدیدترانحراف وہ ہےجوموجودہ زمانہ میں پیش آیا۔یہ کچھ مسلم مفکرین کی طرف سےمذکورہ قرآنی آیت کی نام نہادانقلابی تفسیرتھی۔ان لوگوں نےآیت کےحکم میں خودساختہ توسیع کرکےاس کوقتال برائےتنفیداحکام کےمعنی میں لے لیا۔ انہوں نےکہاکہ اس آیت کےمطابق،ہرزمانے کےمسلمانوں پریہ فرض ہےکہ وہ حکمرانوں سےجنگ کرکےاسلام کےاحکام کوہرجگہ نافذکریں۔

قتال فتنہ کے حکم میں یہ توسیع ایک مہلک قسم کا انحراف ہے۔ اس نے مسلمانوں کے اندر غلط طور پر یہ ذہن پیدا کیا کہ ہرجگہ اسلامی حکومت قائم کرنا ان کا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ہرجگہ جہاد کے نام پر تشدّد ہونے لگا۔ کچھ مسلمان گن اور بم لے کر دنیا والوں پرٹوٹ پڑے۔ دوسرے مسلمان جنہوں نے اس متشدّدانہ فعل میں عملاًشرکت نہیں کی،وہ بھی اس انقلابی نظریہ سےاتنامسحورہوئےکہ وہ اس کی ہمت نہ کرسکےکہ وہ کھل کراس کی مذمت کریں اور اس کے غیر اسلامی ہونے کااعلان کریں۔

بیسویں صدی عیسوی پوری کی پوری اسلام کےنام پراس غیراسلام کانمونہ بن گئی۔ اس کا نتیجہ دو مہلک صورتوں میں برآمد ہوا۔ ایک، اسلام کی بدنامی۔ ساری دنیا میں اسلام خلافِ واقعہ طور پر نفرت اور تشدّد کا مذہب سمجھا جانے لگا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ لندن کے مشہور انگریزی روز نامہ میں اسلام کے بارے میں ایک آرٹیکل چھپا جس کا عنوان یہ تھا۔ ایک مذہب، جو تشدّد کو جائز قرار دیتا ہے۔

A religion that sanctions violence.

دوسری خرابی یہ ہوئی کہ موجودہ زمانےمیں اسلامی دعوت کےحق میں جونئےقیمتی امکانات پیدا ہوئے تھے وہ استعمال ہونے سے رہ گئے۔ مسلمان خود ساختہ جہاد کے نام سے اپنے آپ کو بےفائدہ طور پر ہلاک کرتے رہے، وہ جدید مواقع کو استعمال کر کے اسلام کا حیات بخش پیغام دوسروں تک نہ پہنچاسکے۔

اکیسویں صدی عیسویں میں مسلمانوں کے لیے پہلاضروری کام اسی غلطی کی تصحیح ہے۔ کوئی بھی دوسرا کام کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اسلام کے نام پر ہونے والے تشدّد کو فوری طور پر اور مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ اس معاملے میں کسی بھی عذرکو، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی سنگین ہو،رکاوٹ نہ بنایاجائے۔ موجودہ زمانےمیں اسلام کےحقیقی احیاءکانقطہ آغاز یہی ہے۔ نفرت اورتشدّدکےماحول کوختم کرکےاہل اسلام سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں، اس کےبغیرکچھ بھی نہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion