عید الفطر

عید الفطر کا مطلب ہے افطار کی عید ، کھانے پینے کی عید۔ اس کو عید الفطر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ رمضان کے مہینہ کے فوراً بعد آتی ہے۔ رمضان کا مہینہ کھانے پینے پر پابندی لگانے کا مہینہ ہے۔ اور عید الفطر کا دن ان پابندیوں سے آزاد ہونے کا دن ہے۔

روزہ اور عید کے درمیان اس ترتیب کا ایک پہلو یہ ہے کہ بندہ نے رمضان میں ایک مہینہ تک اللہ کے حکم کی تعمیل کی ، تو اب اللہ نے اس کو قبول کرتے ہوئے اپنے انعام کے طور پر بندہ کو یہ موقع دیا کہ وہ پابندیوں سے آزاد ہو کر جو چاہے کھائے اور جو چاہے پیے۔ روزہ اگر اس کے لیےعمل کا مہینہ تھا توعید الفطر اس کے لیے انعام کا دن ہے۔

  دوسرے پہلو سے دیکھیے تو روزہ اور عید اس قانون فطرت کو بتا رہے ہیں جس کے مطابق موجودہ دنیا کا نظام بنایا گیا ہے۔ اس دنیا میں آسانی کے ساتھ مشقت جڑی ہوئی ہے۔ یہاں ہر کامیابی سے پہلے محنت کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ یہاں پہلے بھوک کو برداشت کرنا پڑتا ہے،اس کے بعد آدمی کے لیے کھانے اور پینے کا دسترخوان لگایا جاتا ہے۔

روزہ اور عید انھیں دونوں حقیقتوں کی علامت ہیں ۔ روزہ پہلے مرحلہ کی علامت ہے، اور عید دوسرے مرحلہ کی علامت۔ روزہ اور عید کا یہ نظام انسان کو یہ سبق دے رہا ہے کہ اس دنیا میں اگر تم خوشی اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس سے پہلے محنت اور مشقت کی وادیوں سے گزرنےکے لیے تیار ہو جاؤ۔

رمضان کے مہینہ کا آخری روزہ جب ختم ہوتا ہے تو نئے مہینہ کا چاند ہلالکی صورت میں آسمان کے اوپر دکھائی دیتا ہے۔ اس کو دیکھتے ہی خدا کے بندے یہ کہتے ہیں کہ اے خدا، اس چاند کو تو ہمارے لیے امن و امان کے ساتھ نکال ، اس کو تو ہمارے لیے سلامتی اور اسلام کاچاند بنادے (مسند الدارمی، حدیث نمبر 1729)۔

 یہ اس بات کا سبق ہے کہ عید کا مہینہ امن وسلامتی کا مہینہ ہے۔ اس دن خدا کے بندوں کو یہ عہد کر نا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان ان کے خیر خواہ بن کر رہیں گے۔ وہ امن والے بول بولیں گے اور سلامتی والے عمل کریں گے۔

عید کے دن تمام چھوٹے اور بڑے اپنے گھروں سے ’’اللہ بڑا ہے ، اللہ بڑا ہے‘‘ کہتے ہوئے نکلتے ہیں۔ پھر وہ ایک جگہ جمع ہو کر دو رکعت اجتماعی نماز ادا کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا عہد ہے کہ وہ بڑائی کا درجہ صرف خدا کو دیں گے۔ اور خود اپنے لیے تواضع کی روش کو پسند کریں گے ۔ وہ سرکشی کا طریقہ چھوڑ دیں گے، اللہ کے مقابلہ میں بھی اور بندوں کے مقابلہ میں بھی۔

عید کی نماز سے واپسی کے بعد لوگ آپس میں ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کو تحفہ دیتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو کھلاتے پلاتے ہیں۔ یہ بھی ایک علامتی عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اسی طرح پورا سال گزارنا ہے۔ انھیں علاحدگی پسندی کا طریقہ چھوڑ دینا ہے اور سب کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارنا ہے۔ کسی آدمی کو دوسروں کے لیے بوجھ نہیں بننا ہے۔ ہر آدمی کو یہ کوشش کرنا ہے کہ وہ دوسروں کو دے۔ آدمی کو اس دنیا میں دینے والا بن کر رہنا ہے نہ کہ دوسروں سےلینے والا بن کر۔

عید کے دن یہ کام اس انتظار کے بغیر کیا جاتا ہے کہ دوسرا ہم سے ملنے کے لیے آئے تب ہم اس سے ملیں ، یا دوسرا ہم کو تحفہ دے تو اس کے بعد ہم اسے تحفہ دیں۔ عید کے دن یہ سارے کام یکطرفہ جذبہ کے تحت کیے جاتے ہیں نہ کہ دو طرفہ جذبہ کے تحت۔

اس میں یہ سبق ہے کہ اس دنیا میں وہی شخص انسانیت اور اخلاق کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے جو یک طرفہ طور پر انسانیت اور اخلاق کا اصول اختیار کرنے پر راضی ہو جائے ۔ اس دنیا میں آدمی کو دوسروں سے تعلق پیدا کرنا ہے، خواہ دوسرے اس کے ساتھ تعلق نہ پیدا کر رہے ہوں ۔ یہاں آدمی کو اپنے پڑوسی سے محبت کرنا ہے ، خواہ اس کا پڑوسی اس کے ساتھ محبت کا اظہار نہ کر رہا ہو۔ اس دنیا میں آدمی کو دوسرے انسانوں کو دوست بنانا ہے ، خواہ دوسرے انسان اس کے ساتھ دوستی کا معاملہ کرنے پر راضی نہ ہوں ۔ اس دنیا میں آدمی کو دوسرے انسانوں کے لیے نفع بخش بنناہے خواہ دوسرے انسانوں سے اس کو نفع بخشی کا تجربہ نہ ہورہا ہو۔

روزہ اور عید سال میں ایک بار آتے ہیں، مگر وہ پورے سال کے لیے ہماری زندگی کا کورس متعین کرتے ہیں۔ روزہ اور عید علامتی طور پر خدا کے بندوں کو یہ بتاتے ہیں کہ خدا کی زمین پر انھیں کس طرح رہنا چاہیے ۔ روزہ اگر آغاز حیات کی علامت ہے تو عید انجام حیات کی علامت۔

روزہ رکھنے کے بعد لوگ عید کے انعام کے مستحق بنتے ہیں۔ اسی طرح انھیں چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں تا کہ اس کے بعد وہ اپنے حقوق کو پاسکیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ پابندیوں کو نبھائیں تاکہ وہ انعامات کے مستحق ٹھہریں۔ ان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے خیر خواہ بنیں تاکہ دوسرے بھی ان کے ساتھ خیر خواہی کریں ۔ ان کو چاہیے کہ وہ سماج میں دینے والے بن کر رہ رہیں تاکہ انہیں بھی سماج میں عزت کا مقام مل سکے۔ ان کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسیوں اور اپنے انسانی بھائیوں کے ساتھ یک طرفہ طور پر اچھا سلوک کریں ۔ کیوں کہ جو لوگ اس طرح اچھا سلوک کریں ۔ ان کے لیے ان کا دشمن بھی ان کا دوست بن جاتا ہے۔

روزہ اور عید کے درمیان ایک اور گہرا فرق پایا جاتا ہے ۔ روزہ گو یا نہ کرنے کا مہینہ ہے اور عید اس کے مقابلہ میں کرنے کا دن۔ روزہ گویا رکنے کا مہینہ ہے اور عید اس کے مقابلہ میں چلنے کا دن۔ روزہ گویا چپ رہنے کا مہینہ ہے اور عید اس کے مقابلہ میں بولنے کا دن۔ روزہ گویا ٹھہرنے کا مہینہ ہے اورعید اس کے مقابلہ میں اقدام کا دن ۔

اس فرق میں یہ سبق ہے کہ زندگی میں دونوں ہی قسم کی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ نہ زندگی میں کبھی کرنا ہوتا ہے اور کبھی نہ کرنا۔ کبھی چلنا ہوتا ہے اور کبھی ٹھہر جانا۔ کہیں بولنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی چپ ہو جانا۔ کبھی اقدام کرنا ہوتا ہے اور کبھی پیچھے رک جانا۔

روزہ اور عید دونوں ایک اعتبار سے عبادت ہیں اور دوسرے اعتبار سے تربیت۔ روزہ اور عید میں ایک طرف خدا کو راضی کرنے کے پہلو موجود ہیں۔ اور دوسری طرف ان کا عملی نقشہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ وسیع تر زندگی کے لیے تربیت کا کورس بن جائیں ۔ وہ علامتی طور پر پورے سال کے لیے رہنمائے حیات کا کام دیں۔

______________________________________________

نوٹ:یہ تقریر 25 مارچ 1993کوآل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشرکی گئی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion