نتیجۂ بحث
تاریخ انسانی عمل کا ریکارڈ ہے۔ تاریخ کا مطالعہ حقائق حیات کا مطالعہ ہے۔ لیکن تاریخ کو اگر افسانہ بنا دیا جائے تو وہ ایک ایسا ذہنی کارخانہ بن جاتی ہے جس میں صرف خوش فہمی کی مہلک گولیاں تیار ہوتی ہوں— حقیقت یہ ہے کہ اسپین میں طارق بن زیاد کی کامیابی ایک سوچے سمجھے منصوبہ کا نتیجہ تھی ، نہ کہ محض پرجوش اقدام کا نتیجہ۔
خدا کی یہ دنیا کوئی طلسماتی کارخانہ نہیں ہے۔ یہ نہایت اٹل اصولوں پر قائم ہے جن کو پوری طرح سمجھا اور جانا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی واقعہ اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب کہ ان قوانین کے ساتھ مطابقت کر کے عمل کیا جائے جن پر موجودہ دنیا کا نظام چل رہا ہے۔
جو شخص یا قوم اپنے لیے کوئی حقیقی مستقبل دیکھنا چاہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ فطرت کی اٹل بنیادوں کو جانے اور ان کے اوپر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو خدا کی اس دنیا میں اس کا کوئی انجام نہیں، خواہ اپنے طور پر وہ اپنے بارے میں کتنا ہی زیادہ خوش فہم ہو اور اپنی مفروضہ کامیابی کو بتانے کے لیے اس نے کتنے ہی زیادہ شاندار الفاظ پا لیے ہوں۔
