موت کے عقیدہ نے زندگی دے دی

ایک نوجوان نے عربی مدرسہ سے فراغت حاصل کی ۔ اس کے بعد ان کا ارادہ مزید تعلیم حاصل کرنے کا تھا۔ اسی دوران گھر سے ایک خبر آئی جس نے ان کے حوصلے ختم کر دیے ۔ خبر یہ تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا ہے ان کے گھر پر معمولی کھیتی باڑی تھی۔ اس میں محنت کر کے ان کے والد صاحب گھر کا کام چلاتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد گھر پر صرف ان کی بیوی تھیں اور چند چھوٹے بچے ۔ اب مذکورہ نوجوان ہی گھر کے بڑے کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کو اپنی ذمہ داری کا شدید احساس ہوا۔ والد صاحب کی وفات کا مطلب ان کے لیے صرف ایک تھا۔ یہ کہ وہ مزید تعلیم کا ارادہ ترک کر کے اپنے گھر چلے جائیں اور اپنے والد صاحب کی طرح کھیتی باڑی کے کام میں لگ کر گھر کا انتظام سنبھالیں۔

مدرسہ میں ایک بزرگ سے ان کا قریبی تعلق تھا۔ اس کے بعد وہ ان سے ملے اور کہا حضرت اب میں یہاں سے جا رہا ہوں اور آپ سے آخری ملاقات کے لیے آیا ہوں ’’ بزرگ نے کہا:آخر کیا بات ہے۔ کہاں جا رہے ہو۔ انھوں نے بتایا کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور میں ہی اپنے گھر میں سب سے بڑا ہوں۔ اس لیے اب مجھ ہی کو گھر کا انتظام سنبھالنا ہے۔ شاید قدرت کو یہی منظور ہے کہ میرے ہاتھوں میں قلم کے بجائے ہل ہو۔ بظاہر اب میرے لیے مزید تعلیم کا کوئی سوال نہیں۔ بزرگ یہ سن کر خاموش ہو گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد بولے’’:کیا موت آپ کے لیے نہیں ہے۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ گھر پہنچ کر آپ کا انتقال نہیں ہو جائے گا۔ پھر اگر آپ کا بھی انتقال ہو گیا تو اس کے بعد بزرگ نے کہاکہ کسی گھر کا بنانے والا کوئی بڑا نہیں ہوتا۔ ہرگھر کا سرپرست اور کفیل اللہ تعالیٰ ہے کسی کے جینے مرنے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ اپنے تعلیمی منصوبہ کو جاری رکھیے اور گھر کامعاملہ اللہ پر چھوڑ دیجیے۔ آپ تھوڑی دیر کے لیے سمجھ لیجیے کہ میرا بھی انتقال ہو گیا ہے ۔

یہ بات نوجوان کے دل کو لگ گئی ۔ انھوں نے گھر کا خیال چھوڑ دیا اور اس کے مال کو اللہ کے حوالے کر کے اپنی تعلیمی جدو جہد شروع کر دی۔ انھوں نے مدینہ کے جامعہ اسلامیہ میں درخواست بھیجی اور اس کے لیے ضروری کوششیں کرنے لگے۔ کوشش کامیاب رہی اور ان کا داخلہ جامعہ اسلامیہ (مدینہ) میں ہو گیا ۔ انھوں نے مدینہ کا سفر کر کے جامعہ اسلامیہ میں اپنی تعلیم مکمل کی ۔ وہاں سے فراغت کے بعد وہ سعودی عرب کے دار الافتا کے تحت افریقہ کے ایک ملک میں مبلغ اور استاد کی حیثیت سے بھیج دئے گئے ۔ اور اپریل 1980 کو ایک ملاقات میں انھوں نے راقم الحروف کو بتایا کہ افریقہ میں رہتے ہوئے اُن کو دس سال ہو چکے ہیں۔ اور ان کی موجودہ زندگی سے وہ اور ان کے گھر والے دونوں مطمئن ہیں۔ وہ اپنے کو ایک کامیاب انسان سمجھتے ہیں اور یہ کامیابی ان کو اس مختصر سے جملہ سے ہوئی کہ سمجھ لیجیے کہ آپ کا بھی انتقال ہو گیا ہے ۔

موت کا عقیدہ بظاہر منفی عقیدہ ہے۔ مگر وہ اپنے اندر زبر دست مثبت اثرات رکھتا ہے۔ جس کو موت کا یقین ہو ، زندگی کے بارے میں اس کا یقین بڑھ جاتا ہے۔ جو اپنے کو مرتا ہوا دیکھ لے وہ اپنی زندگی میں زیادہ با عمل ہو جاتا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion