تربیت کے مراحل
انسان امکانی طور پر اشرف المخلوقات ہے۔ مگر یہ درجہ صرف اس کو ملتا ہے جس نے اپنی محنت سے اس امکان کو واقعہ بنایا ہو۔
انسان کا معاملہ عین وہی ہے جو اس دنیا میں دوسری چیزوں کا معاملہ ہے۔ مثلاً لوہا ایک دھات ہے جس کو زمین سے نکالا جاتا ہے۔ وہ اپنی ابتدائی صورت میں صرف ایک کچی دھات (ore) ہے۔ زمین سے نکالنے کے بعد اس پر کئی مزید مراحل گزرتے ہیں حتٰی کہ اس کو انتہائی گرم آنچ میں پگھلایا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ ترقی کر کے وہ چیز بن جاتا ہے جس کو فولاد (steel) کہا جاتاہے۔
اسی طرح انسان بھی ابتدامیں گویا ایک ’’کچی دھات‘‘ ہوتا ہے اس کے اندر ایک اعلیٰ انسان بننے کی تمام امکانی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ مگر ابتدائی انسان صرف اس وقت اعلیٰ اور ترقی یافتہ انسان بنتا ہے جب کہ وہ ان تمام مراحل سے گزرے جو قانون کے مطابق اس کے لیے ضروری ہیں۔ ان مراحل میں سب سے اہم چیز صبر و تحمل ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے ساتھ جب مشکلات پیش آئیں تو ان سے بھاگنے کے بجائے وہ حوصلہ مندانہ طور پر ان کا سامنا کرے۔ لوگوں کی طرف سے اس کو تلخ تجربات پیش آئیں، مگر وہ غصہ اور نفرت میں مبتلا نہ ہو بلکہ مثبت جذبات کے ساتھ وہ ان کو برداشت کرے۔ زندگی کے سفر میں اس کو نقصان اور ناکامی سے سابقہ پیش آئے۔ اس کے باوجود وہ بے ہمت نہ ہو ، ہر بار وہ نئے عزم کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے۔
زندگی کے یہی وہ تجربات ہیں جو انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بناتے ہیں۔ جو انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو باہر لا کر اس کو ایک کامل انسان بنا دیتے ہیں۔ زندگی کے ناخوشگوار تجربات کسی انسان کے لیے تربیتی مراحل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس تربیتی کورس سے گزرے بغیر انسان کا اعلیٰ انسان بننا ممکن نہیں۔
