مسلم دنیا میں سیاسی ردّعمل
چودھویں صدی ہجری کا آغاز اس وقت ہوا جب کہ انیسویں صدی عیسوی کا خاتمہ ہو رہا تھا۔ اس اعتبار سے چودھویں صدی ہجری اسلامی تاریخ کی اہم ترین صدی تھی۔ کیوں کہ یہ اس وقت آئی جب کہ اسلامی انقلاب کے بعد شروع ہونے والا عمل اپنی آخری تکمیل کے مرحلے تک پہنچ گیا تھا۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جس عالمی ہدایت کادروازہ کھولا تھا، اس کو بَررُوئے کار لانے کے حالات اور ضروری وسائل اپنی کامل صورت میں مہیا ہو کر ہمارے سامنے آ چکے تھے۔ مگر تاریخ کا غالباً یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ یہ دروازہ عین اس وقت خود مسلمانوں کے ہاتھوں بند ہوگیا جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہزار سالہ عمل کے نتیجے میں کھولا تھا۔
جدید انقلاب نے یورپ کو جو طاقتیں دی تھیں ان کو اس نے اسی طرح اپنے قومی عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جس طرح کوئی بھی قوم ان حالات میں کرتی ہے۔ مغربی قوموں کی دسترس جیسے ہی جدید طاقتوں پر ہوئی ان کے یہاں وہ چیز وجود میں آئی جس کو مغربی استعمار کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے جغرافیہ سے نکل کر خشکی اور تری میں اپنے جھنڈے گاڑے۔ قوموں کے درمیان اپنی تہذیب پھیلائی۔ جن لوگوں نے ان کے راستے میں رکاوٹ ڈالی ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا۔ مغربی قوموں کے ان عزائم کا براہ راست شکار ہونے والے زیادہ تر مسلمان تھے۔ کیوں کہ اس وقت یورپ کے باہر اکثر آباد دنیا مسلمانوں ہی کے زیر اقتدار تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چیز جس کو ہم نے اسلامی انقلاب کا سیکولر نتیجہ کہا ہے، اس کا تعارف مسلمانوں سے اپنے پہلے ہی مرحلہ میں اس حیثیت سے ہوا گویا کہ وہ ایک دشمن طاقت ہے جو مسلمانوں کو ان کی تمام عظمتوں سے محروم کرکے ان کو ایک مغلوب اور پسماندہ قوم بنا دینا چاہتی ہے۔ مغربی انقلاب کا افادی پہلوان کی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا، وہ اس کو اپنے سیاسی اقتصادی حریف کی حیثیت سے دیکھنے لگے۔
چودھویں صدی ہجری اسلام کی پوری تاریخ میں پہلی صدی تھی جب کہ یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ اسلام کی دعوت توحید کو یُسر(آسانی) کے حالات میں انجام دیا جائے جب کہ اس سے پہلے صرف عُسر(سختی) کے حالات ہی میں اس کو انجام دینا ممکن ہوتا تھا۔ اسی طرح یہ واقعہ بھی پہلی بار ہوا کہ خود انسان کے اپنے مسلمات کے مطابق اسلام کا دیگر ادیان کے مقابلے میں واحد معتبر دین ہونا ثابت کیا جائے اور اس کو اعلیٰ ترین علمی شواہد سے اس طرح مدلل کر دیا جائے کہ کسی کے لیے انکار کی جرأت باقی نہ رہے۔ نیز اس صدی میں پہلی بار تیز رفتار سواریاں اور تبلیغ کے جدید ذرائع انسان کے قبضے میں آئے جن سے کام لے کر اسلام کے پیغام کو بین اقوامی سطح پر پھیلایا جا سکتا تھا۔ مگر جو قومیں ان خدائی برکتوں کو ہماری طرف لا رہی تھیں وہ اتفاقی حالات کے نتیجے میں ہماری سیاسی حریف بن گئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساری مسلم دنیا مغرب کے بارے میں مخالفانہ نفسیات کا شکار ہوگئی، مغرب کی طرف سے آنے والے انقلاب کا افادی پہلو اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ حالاں کہ خدا نے مسلمانوں کے لیے ایسا امکان کھولا تھا کہ وہ خود مغرب کے پیدا کردہ حالات کو اپنے دعوتی مقاصد میں استعمال کرکے مغرب کو نظریاتی طور پر فتح کر سکتے تھے۔ اگر مسلمانوں نے بروقت اس دانش مندی کا ثبوت دیا ہوتا تو چودھویں صدی ہجری میں وہ واقعہ دوبارہ نئے انداز سے پیش آتا جو آٹھویں صدی ہجری میں تاتاری فاتحین کے خادمان اسلام بن جانے کی صورت میں پیش آ چکا ہے۔
