اپنی ذات
جو شخص اپنے آپ پر فتح حاصل کرلے ، اس کے لیے دوسروں پر فتح حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں— آدمی اپنی قسمت آپ بنا تا ہے۔ اپنی کمزوریوں پر غالب آنے کا نام کا میابی ہے اور اپنی کمزوریوں سے مغلوب ہو جانے کا نام ناکامی۔
ایک شخص کے اندر خود پسندی ہو تو اس کے گر دخوشامدی قسم کے لوگ جمع ہو جائیں گے۔ اور خوشامدی لوگ بلا شبہ کسی آدمی کا سب سے زیادہ برا سرمایہ ہیں ۔ ایک شخص عجلت پسند ہوتو وہ ایسے موقع پر گھبرا اٹھے گا جب کہ اسے آنے والے وقت کا انتظار کرنا چاہیے، نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ غیر ضروری طور پر آنے والی کامیابی سے محروم ہو جائے گا ۔ ایک شخص صرف اپنے آپ کو جانتا ہو تو لوگوں کے ساتھ درست معاملہ نہ کر سکے گا، جب کہ لوگوں کے درمیان کامیاب زندگی گزارنے کے لیے لوگوں کے ساتھ درست معاملہ کرنا ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کے اسباب آدمی کے اپنے اندر ہوتے ہیں۔ اسی طرح ناکامی کے اسباب بھی خود آدمی کے اندر ہی پائے جاتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ سب سے پہلے وہ اپنا جائزہ لے۔ ہر پسپائی کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرے۔ جو چیز آپ کے اندر ہو اس کو آپ باہر تلاش کر کے نہیں پاسکتے۔ جو نتیجہ اپنے آپ پر عمل کر کے ملتا ہو، اس کو آپ دوسروں پر زور آزمائی کر کے حاصل نہیں کر سکتے۔
آدمی کے اندر بیک وقت دو قسم کی صلاحیتیں ہیں۔ اس کے اندر اعتراف کا مادہ ہے اور اسی کے ساتھ بے اعترافی کی خواہش بھی ۔ اس کے اندر شکر کا جذبہ بھی ہے اور ناشکری کی نفسیات بھی ۔ اس کے اندر تواضع کا مزاج بھی ہے اور گھمنڈ کا مزاج بھی ۔ اس کے اندر امانت داری کا مادہ بھی ہے اور حق تلفی کا مادہ بھی۔ وہ دوسرے کی ترقی پر خوش ہو نا بھی جانتا ہے اور دوسرے کی ترقی پر حسد کر نا بھی ۔
اس دنیا میں جیت اس کے لیے ہے جو اپنے اندر کی بری خواہشوں کے مقابلے میں جیت حاصل کرے۔ اور ہار اس کے لیے ہے جو اپنے اندر کی بری خواہشوں کے مقابلے میں ہار جائے۔
