دہشت گردی کیاہے
موجودہ زمانہ میں ایک برائی ظاہرہوئی ہےجس کودہشت گردی (terrorism) کہا جاتا ہے۔ دہشت گردی کو عام طور پرکنڈم کیا جاتا ہے مگر دہشت گردی کیا ہے، اس کی کوئی واضح تعریف غالباً ابھی تک سامنے نہ آسکی۔ قرآن وحدیث کے مطالعہ سے میں نے سمجھا ہے کہ دہشت گردی نام ہے، غیر حکومتی تنظیموں کا ہتھیار اٹھانا (armed action by NGOs)۔
اسلام کےمتفقہ اصول کےمطابق،جنگ کااعلان صرف ایک قائم شدہ حکومت کاکام ہے (اَلرَّحِيلُ لِلْإِمَامِ)۔ وہ چیز جس کو موجودہ زمانہ میں دہشت گردی کہا جاتا ہے، وہ سب کی سب غیر حکومتی تنظیموں کے مسلح اقدام کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہیں۔ اس قسم کی مسلح تحریک بلاشبہ اسلام میں ناجائز ہے۔ عوام کو پُرامن انداز میں اپنی بات کہنے کا حق ہے مگر کسی بھی عذر کی بنا پر مسلح تحریک چلانا عوام کے لیے ہرگز جائز نہیں۔
مزیدیہ کہ قائم شدہ حکومت کےلیے بھی جنگی اقدام کی کئی لازمی شرطیں ہیں۔مثلاًایک قائم شدہ حکومت بھی صرف جنگ کرسکتی ہے،جارحانہ جنگ چھیڑنےکاحق حکومت کوبھی نہیں۔ اسی طرح ایک جائزجنگ بھی اعلان کےساتھ لڑی جائےگی۔ بلا اعلان جنگ (undeclared war)کی کوئی گنجائش اسلام میں نہیں۔ اسی طرح ایک جائزدفاعی جنگ میں بھی حکومت صرف مقاتل (combatants) پروار کر سکتی ہے، غیر مقاتل(non combatants) کو مارنا یا ان کونقصان پہنچاناجنگ کی حالت میں بھی ہرگزجائزنہیں۔
ان حقیقتوں کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ اسلام میں جنگ کی صرف ایک قسم کا جواز ہے، اور وہ دفاعی جنگ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی جنگ، مثلاً جارحانہ وار، پراکسی وار، گوریلا وار اور پھر بلااعلان وار، یہ سب کی سب اسلام میں قطعی ناجائز ہیں۔ کسی بھی عذر کی بنا پر اس قسم کی جنگوں کو اسلامی جنگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مذکورہ تعریف کےمطابق،دہشت گردی کی ہرتحریک یقینی طورپرناجائزہے،ایسی کسی تحریک کواسلامی جہادکانام دینااس کوجائزنہیں بناتا۔ایسی ہرکوشش گناہ پرسرکشی کااضافہ ہے،وہ یقینی طورپرایسی کسی جنگ کااسلامی جوازنہیں۔
