ابو بکرصدیق کی قیادت میں سفر حج
ذوالقعدہ9ھ
ذی قعدہ9ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق کو امیر حج مقرر کرکے مکہ روانہ فرمایا۔ تین سو آدمی مدینہ سے ابو بکر صدیق کے ساتھ چلے۔ قربانی کے بیس اونٹ ان کے ساتھ تھے۔ ان کے ذمہ یہ کام تھا کہ قرآ ن کی چالیس آیتیں جو برأت کے طور پر نازل ہوئی تھیں وہاں ان کا اعلان کر دیں۔ لیکن پھر آپ نے اپنے فیصلہ میں تبدیلی کی اور اعلان کے لیے حضرت علی کو منتخب فرمایا۔
اس سال نجاشی شاہ حبشہ کا انتقال ہوا۔ بذریعہ وحی آپ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے صحابہ کو جمع کرکے اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ نیز اسی سال سود کی حرمت کا حکم نازل ہوا اور ایک سال بعد حجۃ الوداع کے موقع پر اس کی حُرمت کا عام اعلان کیا گیا۔
