لذتیت کا انجام
جان کینڈی (1917-1963) امریکا کا 35 واں صدر تھا۔ اس نے جیکولین کینڈی سے شادی کی۔ اس کے بعد جیکولین کینڈی امریکا کی خاتونِ اوّل کی حیثیت سے کافی مشہور ہوئی۔
امریکا کی ایک خاتون مصنف کٹی کیلی نے جیکولین کینڈی کے بارے میں ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے— آہ جیکی :
Jackie Oh: An Intimate Biography, By Kitty Kelley, Vikas, New Delhi, 1979, pp. 336
یہ کتاب جیکولین کینڈی کے نجی حالات کے بارے میں ہے جو کہ کسی وقت امریکا کی خاتونِ اول (First Lady) تھی۔
جیکولین قدرت سے ایک پُرکشش نسوانی شخصیت لے کر پیدا ہوئی۔ اس کی اس پیدا ئشی خصوصیت نے جان کینڈی کو متاثر کیا جو امر یکہ کی ایک اعلیٰ فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کی شادی جان کینڈی سے ہوگئی۔ بعد کو جان کینڈی امریکا کے صدر منتخب ہوئے۔ اس طرح جیکولین کینڈی کو امریکا میں وہ اعلیٰ ترین مقام حاصل ہوگیا۔ جس کے آگے مزید برتری کا کوئی مقام نہیں۔
جان کینڈی 1960 میں امریکا کے 35 ویں صدر منتخب ہوئے تھے۔ مگر اس کے صرف تیسرے سال 23 نومبر 1963 کو صدر کینڈی کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ جیکولین کینڈی جو اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ مشہور اور معزز خاتون بن چکی تھی اچانک بے حیثیت ہو کر رہ گئی۔ تاہم اس کی نسوانی کشش نے یونانی ارب پتی ارسٹا ٹل اوناسس (Aristotle Socrates Onassis 1906-1975) کو متاثر کیا۔ اس کی دوسری شادی اوناسس سے ہوگئی۔ اس وقت جیکولین کی عمر تقریباً 40 سال اور اونا سس کی عمر تقریباً 60 سال تھی۔ یہ شادی دونو ں کے لیے خوش گوار ثابت نہ ہوسکی۔ تھوڑے دنوں کے بعد ہی دونوں الگ الگ رہنے لگے۔ یہاں تک کہ 1975 میں طویل بیماری کے بعد اوناسس کا انتقال ہوگیا، جب کہ جیکولین اس کے پاس موجود بھی نہ تھی۔
جیکولین کو ہر چیز ملی مگر اس کو خوشی نہ مل سکی۔ اس کی سوانح نگار کٹی کیلی کے الفاظ میں جیکولین نے خوشی حاصل کرنے کی بابت اپنی نا قابل علاج خواہش کو خرید کر حاصل کرنا چاہا۔ خواہ اس کی قیمت 3 ہزار ڈالر فی گھنٹہ دینی پڑے۔ اس کے باوجود وہ خوشی حاصل نہ کرسکی:
An incurable desire to buy happiness. even if it meant spending as much in one hour as 3000 dollars.
