نان وائلنس کاطریقہ
حدیث میں آیاہےکہ پیغمبر اسلام ﷺ فرمایا:إِنَّ اللهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر،2593)۔ یعنی، اللہ نرمی پروہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ یہ دراصل فطرت کے اس قانون کابیان ہے جو خدا نے موجودہ دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ اسی قانون کی بنا پر ایسا ہے کہ جب کوئی شخص نرمی اور عدم تشدّد کے حدود میں رہ کر کام کرے تو اس کا کام زیادہ نتیجہ خیزبن جاتا ہے۔ اور جو شخص سختی اور تشدّد کا طریقہ اختیار کرے اس کا کام آگے بڑھنےکے بجائے اور پیچھے کی طرف چلاجاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص سختی اور تشدّد کا طریقہ اختیار کرے تو اس کی کوششیں غیر ضروری طور پر دو محاذوں میں بٹ جاتی ہیں۔ ایک محاذ، اپنی داخلی تعمیرکا۔ اور دوسرا محاذ، خارجی حریف سے لڑنےکا۔ اس کےبرعکس، جوشخص نرمی اورعدم تشدّد کاطریقہ اختیار کرے، اس کے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی تمام طاقتوں کو صرف ایک محاذ، داخلی تعمیر کے محاذ پر لگائے، اور اس کے فطری نتیجے کے طور پر زیادہ بڑی ترقی حاصل کرلے۔
اس حدیث میں فطرت کے اس قانون کاذکرہےجس پرہماری دنیاکانظام چل رہا ہے۔ یہاں جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ اسی نظام کے تحت ملتا ہے، اس کے بغیر نہیں۔ فطرت کا یہ نظام تمام ترامن اور عدم تشدّد کے اصول پر قائم ہے۔ اس لیے یہاں جب بھی کسی کو کچھ ملے گا، امن اور عدم تشدّد کے اصول پر ملےگا، اس سے انحراف کر کے کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔
