عید کا تیوہار

اسلام میں عید الفطر کا طریقہ ہجرت کے بعد مقرر کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو آپ نے دیکھا کہ وہاں سال میں دو تیوہاروں کا رواج ہے۔ اس دن وہ لوگ تفریح کرتے ہیں اور کھیل کود کے اکھاڑے قائم کرتے ہیں۔ آپ نے لوگوں سے کہا کہ اللہ نے تمہارے لیے اس سے بہتر دو دن مقرر کیے ہیں۔ اور وہ عید الفطر اور عید الاضحی ہیں (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر1134)۔ اس طرح اہل اسلام کے درمیان ان دونوں تیوہاروں کا رواج پڑا۔

عید الفطر رمضان کے خاتمہ کے فوراًبعد آتی ہے۔ اسی لیے اس کو انعام کا دن کہا گیا ہے۔ رمضان میں اللہ کے بندوں نے ایک مہینہ تک کھانے اور پینے پر پابندی لگالی تھی۔ اب عید کے دن ان کو کھانے اور پینے کی مکمل آزادی دے دی گئی۔ گویا کہ رمضان کا مہینہ ان کے لیے عمل کرنے کا مہینہ تھا اور عید کا دن ان کے لیے عمل کا انعام پانے کا دن ۔

عید کا آغاز ہلال عید دیکھنے سے ہوتا ہے۔ رمضان کے مہینہ کے آخری دن تمام لوگوں کی نظریں آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہیں ۔ جیسے ہی شوال کا نیا چاند دکھائی دیتا ہے وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ اپنے اللہ ، تو اس نکلنے والے چاند کو ہمارے لیے امن کا اور سلامتی کا اور اپنی اطاعت کاچاند بنا دے تو اس مہینہ کو اپنی خصوصی رحمت اتارنے کا مہینہ بنا دے۔

اس طرح عید کا چاند اہل اسلام کے لیے نہ صرف خوشی کا چاند ہوتا ہے بلکہ وہ انھیں رب کائنات کی طرف متوجہ کرتا ہے ، وہ ان کو خدا کی یاد دلاتا ہے۔ وہ اپنے لیے اور تمام انسانوں کے لیے دعا کرنے لگتے ہیں کہ خدایا ، اس نئے چاند سے جو مہینہ شروع ہو رہا ہےاس مہینہ کو تو ہم سب کے لیے رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ بنادے۔

ہلال عید کے بعد آنے والی رات کو اہل اسلام خصوصی عبادت کرتے ہیں ۔ وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ نفل نماز پڑھتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں ۔ اس طرح نیا چاند ان کے لیے نئی دینی بیداری پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔

صبح ہوتی ہے توہ نہا دھو کر اپنے آپ کو پاک کرتے ہیںنئے کپڑے پہنتے ہیں اور پھر چھوٹے بڑے اپنے گھروں سے نکل کر عید گاہ کی طرف یا مسجد کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ راستہ میں وہ بار بار ایسے کلمات اپنی زبان سے ادا کرتے ہیں جس کا مطلب ہوتا ہے— اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے، اور اللہ ہی کے لیے ہے ساری تعریف۔

اس طرح تمام چھوٹے اور بڑے ایک جگہ جمع ہو کر دو رکعت نماز ادا کرتے ہیں۔ نماز کی صورت میں وہ عملی طور پر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ایک اللہ سب کا مالک اور معبود ہے اور تمام انسان اس کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں۔ نماز کے بعد امام خطبہ کی صورت میں ایک تقریر کرتا ہے۔ اس میں خدا کی بڑائی بیان کی جاتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ سب کو چاہیے کہ اس کی عبادت کریں اور خدا کی زمین پر خدا کے بندے بن کر ر ہیں۔

نماز سے فراغت کے بعد لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کو عید کے دن کی مبارک باد دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اس کو عید ملن کہا جاتا ہے۔ عید ملن گویا باہمی محبت کو فروغ دینے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی صرف اکیلے خوشی نہ منائے بلکہ دوسرے کی خوشیوں میں شرکت کر کے پورے ماحول کو خوشی کاماحول بنا دے۔

اس کے بعد لوگ اپنے رشتہ داروں اور اپنے دوستوں اور اپنے پڑوسیوں کے گھر جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے لیے السلام علیکم (تم پر سلامتی ہو )کے جذبہ کا اظہار کرتے ہیں۔ آپس میں میل ملاپ اور محبت کی باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح ملنا جلنا اور ایک دوسرے کے یہاں کھانا پینا باہمی اتحاد کو بڑھانے کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔ اور عید کے دن خاص طور پر ان سماجی قدروں کو فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

عید کے دن کو عمومی خوشی کا دن بنانے کے لیے جو چیزیں مقرر کی گئی ہیں ان میں سے ایک صدقہ فطر ہے۔ حکم ہے کہ خوش حال خاندان اپنے گھر کے ہر فرد کی طرف سے مقرر مقدار میں غلہ یار قم نکالیں اور اس کو غریب بھائیوں تک پہنچائیں۔ تاکہ وہ بھی اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے بنوائیں۔

وہ بھی عید کے دن اچھے کھانے تیار کریں اور دوسروں کی طرح وہ بھی عید کی خوشی میں شریک ہو جائیں ۔

یہ تمام طریقے اس لیے اختیار کیے جاتے ہیں تاکہ عید کا دن پورے سماج کے لیے خوشی کا دن بن جائے۔ وہ تمام لوگوں کے لیے نئی زندگی کا پیغام دینے والا ثابت ہو۔

عید کا دن کھیل تماشے کا دن نہیں ہے۔ بلکہ ایک سنجیدہ تیوہار کا دن ہے۔ عید کو شرافت اور اخلاق کے تقاضوں کے ساتھ منانے کا حکم ہے ۔ عید کے دن خدا کی بڑائی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس لیے عید کے دن کو خدا کی مرضی کے مطابق گزارنا چاہیے۔ عید کے دن لوگوں کو مبارک باد دی جاتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ عید کے دن صرف ایسی باتیں کی جائیں جن میں عام انسانوں کے ساتھ محبت اور خیر خواہی کی کیفیت موجود ہو ۔ عید کے دن تمام سرگرمیوں میں ایک طرف ربانیت کا پہلو ہونا چاہیے اور دوسری طرف انسانیت کا پہلو ۔

ہندستان میں عید الفطر کے موقع پر سوئیاں کھانے کا رواج ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو میٹھی چیزیں کھلاتے ہیں اور ایک دوسرے کے درمیان شیرینی تقسیم کرتے ہیں۔ اس لیے اس علاقہ میں عید الفطر کو میٹھی عید کہا جاتا ہے۔ مصر میں اس کو عید الکسوہ (لباس کی عید) کہتے ہیں۔ مصر کے فاطمی خلفا کے دور میں عید الفطر کے دن غریبوں میں کپڑا تقسیم کرنے کا رواج بہت پھیلا۔ اس بنا پر عید الفطر کو عید الکسوہ (کپڑوں کی عید ) کہا جانے لگا۔

اسی طرح ہر مسلم ملک میں عید الفطر کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے ۔ جیرار دی تروال ایک فرانسیسی سیاح ہے۔ وہ انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں ترکی آیا تھا ۔ جب وہاں سلطان عبد المجید کی حکومت تھی۔ وہ عید کے دن استانبول میں موجود تھا۔ چنانچہ اس نے تفصیل کے ساتھ استانبول کی عید کا حال بیان کیا ہے۔

وہ لکھتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ استانبول کے ہر گھر میں کھانے اور میٹھی چیزوں کا خصوصی اہتمام کیاگیا تھا۔ کوئی بھی شخص کسی بھی گھرمیں داخل ہو کر کھانے میں شریک ہوسکتا تھا جو ہر وقت وہاں تیار رہتا تھا۔ امیر یا غریب ہر مسلمان کا حال اس معاملہ میں یکساں تھا۔ ظاہری حالات سے قطع نظر، ہر ایک اپنے یہاں آنے والوں کی تواضع ، اپنی استطاعت کے مطابق نہایت خوشی کے ساتھ کرتا تھا۔

تیو ہار کا طریقہ ہر قوم اور ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔ تیوہار کا مقصد ہمیشہ اجتماعی خوشی ہوتا ہے۔ تیوہار اس لیے مقرر کیے جاتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان باہمی محبت کو بڑھایا جائے۔ باہمی تعلقات کو زیادہ سے زیادہ خوشگوار بنایا جائے ۔

یہی مقصد عید الفطر کے تیوہار کا بھی ہے ۔ تاہم عید الفطر ایک سنجیدہ تیوہار ہے۔ عيد الفطر کو اس طرح منانا چاہیے کہ وہ کسی کو تکلیف دینے کا سبب نہ بنے۔ عید الفطر کے دن ہر شخص کو یہ اہتمام کرنا چاہیے کہ دوسروں کو اس سے خوشی کا تحفہ ملے۔ عید الفطر کو اس طرح منانا چاہیے کہ اس کے ذریعہ با ہمی خوش گواری میں اضافہ ہو ۔ سچی عید وہی ہے جو ساری انسانیت کے لیے عید کا دن بن جائے۔

__________________________________________

نوٹ:یہ تقریر 5 اپریل 1992کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion