اچھا کردار
وہ کیا چیز ہے جو کسی سماج کو اچھا سماج بناتی ہے۔ اس کا جواب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے افراد کا اچھا کردار۔ جس سماج کے افراد میں اچھا کردار ہو وہ سماج اچھا سماج ہو گا، اور جس سماج کے افراد میں برا کردار ہو وہ سماج بر اسماج بن جائے گا۔
اچھا کردار کون سا ہوتا ہے اور برا کردار کون سا۔ اس کی پہچان بہت آسان ہے۔ اچھے کردار والا انسان وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے جو اس کو خود اپنے لیے پسند ہے۔ اور برے کردار والا انسان وہ ہے جو اپنے لیے کچھ اور پسند کرے اور جب دوسرے کا معاملہ ہو تووہ کچھ اور پسند کرنے لگے ۔
ایک آدمی اپنے گھر سے نکل کر بازار میں گیا۔ وہاں کسی نے اس سے کڑو ابول بول دیا۔ آدمی کو کڑوا بول سن کر غصہ آگیا۔ وہ اس سے لڑنے لگا۔ اس کے بعد جب یہ آدمی اپنے گھر اور محلہ میں آیا تو وہ خود بھی گھر والوں سے اور محلہ والوں سے کڑوا بول بولنے لگا۔ حالانکہ اس کو اس تجربہ کے بعد سوچنا چاہیے تھا کہ کڑوا بول جب مجھ کو اچھا نہیں لگا تو دوسروں کو بھی وہ اچھا نہیں لگے گا۔ اگر میں اپنے بارے میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھ سے میٹھا بول بولیں تو مجھے خود بھی ایسا بن جانا چاہیے کہ دوسرے لوگوں کو مجھ سے صرف بیٹھا بول سننے کو ملے ۔
انسان اکیلا نہیں رہ سکتا۔ انسان اپنی فطرت سے مجبور ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کے درمیان مل جل کر زندگی گزارے۔ سب کی کامیابی میں ایک کی کامیابی ہے اور سب کی بربادی میں ایک کی بربادی۔ آدمی جب دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے تو گویا کہ وہ سماج میں ایسا ماحول بنا رہا ہے اور ایسی روایات قائم کر رہا ہے جبکہ دوسرے لوگوں کی طرف سے بھی اس کو اچھے سلوک کا تحفہ دیا جائے ۔
ایک آدمی جب جھوٹ بولے تو گویا کہ وہ دوسروں کو بھی جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایک آدمی جب دوسرے کی چیز ہڑپ کرلے تو وہ اپنے اس عمل سے سماج میں نا جائز قبضہ کی روایت قائم کر رہا ہے۔ ایک آدمی جب وعدہ کر لے اور وقت آنے پر وعدہ کو توڑ دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے سارے سماج کو وعدہ توڑنے پر جری کر دیا۔
سماجی زندگی کا رخ متعین کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز روایت ہے۔ سماجی زندگی ہمیشہ روایات پر چلتی ہے ۔ اچھی روایت قائم کی جائے تو اچھا سماجی ماحول بنے گا۔ اور بری روایت قائم کی جائے تو برا سماجی ماحول پرورش پائے گا۔
اس طرح آدمی کا ہر عمل کسی نہ کسی طور پر خود اس کی اپنی طرف واپس آتا ہے ۔ آدمی کے اچھے کردار سے سماج میں اچھی روایتیں قائم ہوں گی جس کا نتیجہ خود اس کو بھی مختلف صورتوں میں ملے گا۔ اسی طرح آدمی کے برے کردار سے سماج میں بری روایتیں قائم ہوں گی۔ اس کے نتیجہ میں دوبارے ایسا ہو گا کہ اس کے اثرات مختلف صورتوں میں خود اس کی اپنی ذات تک بھی پہنچیں گے ۔
اچھے کردار کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کی اپنی روح کو سکون حاصل ہوتا ہے اور اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ سماج ایک اچھا سماج بن جاتا ہے جس میں اسے رہنا ہے۔ اسی طرح برے کر دار کا پہلا نقصان یہ ہے کہ آدمی روحانی سکون سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ اس کو رہنے کے لیے ایک ایسا سماج ملتا ہے جو جھاڑ جھنکاڑ کا سماج ہو۔ پہلی صورت میں اس کا سماج پھولوں کا سماج بن جاتا ہے اور دوسری صورت میں اس کا سماج کانٹوں کا سماج ۔
ایک آدمی نے مجھ سے سوال کیا کہ مختصر طور پر یہ بتائیے کہ دنیا میں آدمی کو کس طرح رہنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ آپ بھی اسی طرح رہنے لگیں جس طرح آپ کے گردو پیش کی ساری دنیارہ رہی ہے ۔ کائناتی اخلاق ہی بہترین انسانی اخلاق بھی ہے۔ کائنات گویا ایک اخلاقی نمونہ ہے اور ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ اس نمونہ کو ہم اپنی زندگی میں بھی اپنا لیں ۔
آپ سورج کو دیکھیے۔ وہ زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کو روشنی پہنچا رہا ہے۔ اس کے پاس ایک قوم کے لیے بھی روشنی ہے اور دوسری قوم کے لیے بھی روشنی۔ حتیٰ کہ اگر کوئی آدمی سورج کو گالی دے تب بھی اس کو سورج کی طرف سے روشنی اور حرارت ہی کا تحفہ ملے گا۔
یہی آفتابی اخلاق ہمیں بھی اپنی زندگی میں اپنانا ہے۔ ہمیں ہر ایک کے لیے نفع بخش بننا ہے۔ ہمیں ہر ایک کے لیے دینے والا بننا ہے ، خواہ اس کی طرف سے ہمیں کچھ مل رہا ہو یا نہ مل رہا ہو۔ اس معاملہ میں ہمارا اخلاقی معیار اتنا اونچا ہونا چاہیے کہ ہم دشمن کو بھی دوست کی نظر سےدیکھیں اور غیر کے ساتھ بھی اپنوں جیسا سلوک کریں۔
آپ درخت کو دیکھیے۔ درخت کیا کرتا ہے۔ آپ کی سانس سے نکلی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ کو وہ لے لیتا ہے ۔ اس کے بدلے وہ آکسیجن نکاتا ہے جو آپ کی تندرستی اور توانائی کے لیے انتہائی ضروری ہے ۔ گویا کہ درخت ایک ایسا کارخانہ ہے جس کے اندر مضر چیز داخل ہو کر بھی صحت بخش چیز بن جاتی ہے۔
اب آدمی کو بھی چاہیے کہ وہ اسی اخلاق کو اپنائے ۔ اس کے کان میں کڑوا بول داخل ہو تو اندر پہنچ کر اس میں ایسی تبدیلی ہو جائے کہ وہ منہ سے بیٹھے بول کی صورت میں نکلے۔ کوئی اس کو گالی دے تو اس کے بدلے وہ اس کے لیے نیک دعائیں کرے ۔ کوئی اس کو نقصان پہنچائے تو وہ اس کو نفع پہنچانے کی کوشش کرے۔ کوئی اس کو ذلیل کرے تو وہ اس کو عزت دینے کی فکرکرنے لگے ۔
کائنات میں یہی معاملہ ہر چیز کا ہے۔ یہاں تک کہ زہر یلے جانوروں کا بھی۔ گجرات میں ایک ڈاکٹر ہیں ۔ وہ کئی قسم کے سانپ پالے ہوئے ہیں۔ وہ ان سانپوں سے کھیلتے رہتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب، آپ کو ان زہریلے سانپوں سے ڈر نہیں لگتا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ بالکل نہیں۔ کیوں کہ یہ جانور تو قابل پیشین گوئی کردار کے حامل ہیں۔ وہ صرف اس وقت آپ کو کاٹتے ہیں جب کہ آپ انھیں ستائیں۔ اگر آپ جانوروں کو دکھ نہ دیں تو وہ کبھی آپ کو دکھ دینے والے نہیں ۔
اسی طرح آدمی کو بھی قابل پیشین گوئی کر دار والا ہونا چا ہیے۔ لوگوں کو پیشگی طور پر معلوم ہوکہ آپ کسی کو دھوکا دینے والے نہیں ہیں ۔ آپ امانت میں خیانت کرنے والے نہیں ہیں۔ آپ کبھی اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہیں کریں گے۔ آپ کسی کی کمزوری کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ آپ اپنے بارے میں ہمیشہ اس امید کو پورا کریں گے کہ آپ جب انسان ہیں تو آپ ہمیشہ انسانی کردار پر قائم رہیں گے۔ کسی بھی حال میں آپ انسانی روش سے ہٹنے والے نہیں۔
____________________________________________________
نوٹ:یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 2ستمبر اور9 ستمبر 1993کو نشر کی گئی۔
