آغازِ کار
پیغمبر اسلام ﷺ کو جب مکہ میں نبوت ملی تو آپ نے اپنے عمل کا یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ آپ لوگوں کے پاس جاتے اور ان سے کہتے کہ اے لوگو، کہو کہ ایک اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ، تم فلاح پاؤ گے— يَا أَ يُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ تُفْلِحُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 16603)۔ یعنی تم لوگ شرک کوچھوڑ دو اور ایک خدا کی پرستش کا طریقہ اختیار کرو، تم فلاح پاؤ گے۔
اس وقت کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ کعبہ کو بتوں سے پاک کر کے اس کو توحید کے مرکز کے طور پر بنایا جاتا۔ مگر اس وقت وہ عملاً شرک وبت پرستی کا مرکز بن گیا تھا۔ ان حالات میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے دو مختلف راستے تھے۔ ایک یہ کہ کعبہ سے بتوں کو نکال کر وہاں دوبارہ توحید کا ماحول قائم کریں اور اس کومرکز بنا کر اپنی موحدانہ تحریک چلائیں۔
ایک صورت قولی دعوت سے آغاز کرنے کی تھی۔ اور دوسری صورت عملی اقدام سے آغاز کرنے کی۔ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے، آپ نے عملی اقدام سے مکمل طور پر پر ہیز کیا، اور صرف قولی دعوت کے نہج پر مکہ میں اپنا پیغمبرانہ مشن جاری فرمایا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت یا اسلامی تحریک کا صحیح پیغمبرانہ طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ پہلے پر امن فکری مہم کے ذریعہ لوگوں کی سوچ اور کردار میں تبدیلی لائی جائے۔ یہ ابتدائی کام جب قابل لحاظ حد تک انجام پا جائے، اس کے بعد حسب حالات عملی اقدام کا آغاز کیا جائے۔
