اسلامی تیوہار

تیوہار اجتماعی خوشی کا دن ہے۔ یہ انسان کی اور انسانی سماج کی ایک فطری ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اور ہر سماج میں تیوہار کا رواج کسی نہ کسی صورت میں پایا جاتا ہے۔

عام حالات میں لوگ اپنی اپنی ذمہ داریوں میں اور اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ ان کے لیے بے تکلف انداز میں اجتماعی ملاقات کا ایک موقع ہو۔ تیوہار اسی قسم کا ایک موقع فراہم کر تے ہیں جب کہ کسی بستی یا کسی انسانی گروہ کے لوگ آپس میں کھلے طور پر ملتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوشیوں میں بے تکلف حصہ دار بنتے ہیں۔

  اسی طرح موجودہ دنیا میں آدمی اکثر کسی نہ کسی سبب سے ذہنی تناؤ میں رہتا ہے ۔ حتی کہ اگر کسی کو راحت و آرام کے سارے سامان حاصل ہوں تب بھی کچھ عرصہ کے بعد وہ اس نفسیاتی حالت میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کو اکتا ہٹ ( بورڈم ) کہا جاتا ہے۔ اس عمومی صورت حال نے بھی تیوہار کو ہر قوم اور ہر سماج کی فطری ضرورت بنا دیا ہے تاکہ لوگ اکٹھا ہو کر اپنے غموں کو بھلائیں ، ایک دوسرے سے مل کر اپنے ذہنی بوجھ کو ہلکا کر یں۔

یہ تیوہار اکثر کسی خاص قومی دن میں یاکسی یادگار تاریخ پر رکھے جاتے ہیں۔ ہر قوم اپنے تاریخی دنوں میں اپنا تیوہار مناتی ہے۔ چنانچہ سال کی اکثر تاریخوں میں کسی نہ کسی قوم کا تیوہار کسی نہ کسی مقام پر جاری رہتا ہے (تفصیلی فہرست کے لیے انسائیکلو پیڈیا، جلد 24، صفحہ 73-75)۔

ان تیوہاروں میں عام طور پر کھیل کود ہوتا ہے ۔ تفریحی پروگرام کیے جاتے ہیں ۔ عام سماجی روایات کے حدود کو توڑ کر لوگ خوشیاں مناتے ہیں۔ ان میں ہر طبقہ کے لوگ شریک ہوتے ہیں ، خواہ وہ سیاسی ہوں یا مذہبی یا سیکولر ہوں۔

  مسلمانوں کے لیے اس قسم کے دو تیوہار مقرر کیے گئے ہیں۔ عید الفطر اور عیدالاضحی مسلمانوں کے لیے مذہبی اعتبار سے یہ دو سالانہ خوشی کے دن ہیں۔ عید الفطر شوال کی پہلی تاریخ کو آتی ہے اور عید الاضحٰی ذوالحجہ کی10 تاریخ کو۔

مکی دور میں باقاعدہ اسلامی سماج نہیں بنا تھا۔ اس لیے مکی دور میں عیدین کے یہ تیوہار بھی مقرر نہیں ہوئے تھے۔ منظم اسلامی معاشرہ ہجرت کے بعد مدینہ میں بنا۔ اس وقت جس طرح دوسرے اجتماعی نظام بنائے گئے ، اسی طرح عیدین کا نظام بھی قائم کیا گیا۔

اس زمانہ میں مدینہ کے لوگوں میں دو قبائلی تیوہاروں کا رواج تھا۔ اس دن وہ لوگ کھیل کے مقابلے کرتے تھے۔ شعر و شاعری کی محفلیں سجاتے تھے ۔ تاریخی فخروالی چیزوں کی نمائش کرتے تھے۔ مجموعی اعتبار سے اس تیو ہار کو ایک قسم کا قومی میلہ کہا جاسکتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ آئے اور آپ نے وہاں کے تیوہاروں کو دیکھا تو آپ نے ان کے بجائے عیدین کی صورت میں دو تیوہار مقرر کیے۔ ایک صحابی حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو اس وقت اہل مدینہ کے دو سالانہ دن تھے ۔ ان میں وہ کھیل کود کرتے تھے۔ آپ نے پوچھا کہ یہ تمہارے دو دن کیا ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ یہ یہاں کا پرانا رواج ہے۔ ان دنوں میں ہم لوگ کھیل کود کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے ان دو دنوں کے بدلے تم کو زیادہ بہتر دو دن دئے ہیں۔ یہ دو دن یوم الاضحیٰ اور یوم الفطر ہیں (سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر 1134)۔

 عیدین کے یہ تیوہار گویا تیوہار کے قدیم جاہلی طریقوں کا اسلامائزیشن ہیں۔ تیوہار کا اصل مقصد اجتماعی خوشی ہے۔ اس کو عیدین میں پوری طرح باقی رکھا گیا۔ البتہ اس میں غیر سنجیدہ قسم کے کھیل کو دکو گھٹا کر اس کی جگہ مہذب خوشی اور سنجیدہ تفریح کا اضافہ کر دیا گیا۔

عیدین کے سلسلہ میں مختلف روایتیں جو حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، ان کی بیشتر تعداد کو مشکاۃ المصابیح میں اکٹھا کر دیا گیا ہے ۔ ان کو صلاۃ العیدین میں اور بعض دوسرے ابواب کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔

پہلی بات یہ کہ عید کے تیوہار کو قمری کیلنڈر کے ہلال سے جوڑ دیا گیا۔ اس طرح نئے چاند کا ظہور تیوہار کی آمد کا ایک آسمانی اعلان بن جاتا ہے ۔ تاہم اس خوشی کا رخ اعلیٰ انسانی قدروں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہلال کو دیکھا تو یہ دعائیہ کلمات آپ کی زبان سے نکلے:اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ (مسند الدارمی، حدیث نمبر1730)۔ یعنی اے اللہ ، اس چاند کو ہمارے لیے امن اور یقین کا چاند بنادے ۔ اس کو سلامتی اور اطاعت کا چاند بنا دے ۔ میرا رب بھی اللہ ہے، اور اس چاند کا رب بھی اللہ ۔

یہ دعا بتاتی ہے کہ عید کا چاند دیکھ کر لوگوں کے اندر کس قسم کے احساسات و جذبات پیدا ہونے چاہئیں۔ وہ یہ کہ ہمارے اندر یہ تمنا ابل پڑے کہ آنے والے دن ہمارے لیے اور ساری انسانیت کے لیے امن کے دن ہوں۔ جب کہ تمام لوگوں کو صحت و سلامتی کی نعمتیں حاصل ہوں ۔ انسانی خوشیوں میں چاند کی شرکت کو دیکھ کر انسان کے اندر یہ احساس جاگ اٹھے کہ پوری کائنات ایک وسیع خدائی عیال ہے۔ اس میں انسان سے لے کر آسمانی اجرام تک سب شامل ہیں۔ سب ایک ہیں ، اس لیے کہ سب کا خدا ایک ہے ۔

پھر جب صبح آتی ہے تو تمام بڑے اور بچے ، عورتیں اور مرد نہا دھو کر صاف کپڑے پہنتے ہیں ۔ اپنی پسندیدہ خوراک کھا کر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد گھر سے چل کر کسی کھلے میدان میں پہنچتے ہیں۔ اور وہاں دو رکعت شکر کی نماز پڑھتے ہیں ۔ اس طرح گویا وہ اقرار کرتے ہیں کہ جس خدا نے خوشی کا موقع دیا ہے ، وہی خدا اس قابل ہے کہ اس کے لیے اس کا شکر ادا کیا جائے۔ نماز کے بعد امام خطبہ دیتا ہے جس میں نصیحت کی باتیں ہوتی ہیں۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ خوشی ہر انسان کا حق ہے۔ مگر خوشی کو ذمہ داری کے حدود میں رہ کر منانا چاہیے۔

اس کے بعد لوگ آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ ایک دوسرے کو تحفہ دیتے ہیں۔ سلامتی اور مبارکبادی کے کلمات کے ساتھ ایک دوسرے کا استقبال کرتے ہیں۔ وہ خوشی مناتے ہیں مگر اس طرح کہ ایک کی خوشی دوسرے کے لیے تکلیف کا باعث نہ ہو ۔ وہ خوشی مناتے ہیں مگران کی خوشی میں شور و غل نہیں ہوتا۔ وہ خوشی مناتے ہیں مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ راستوں میں کوئی گندگی نہ پھیلے۔ ان کی خوشی پڑوسیوں کے لیے کوئی مسئلہ پیدانہ کرے۔ وہ خوشی مناتے ہیں مگراس طرح کہ مقصدیت کا عنصر کسی طرح اس سے حذف نہ ہونے پائے۔

اسلامی تیوہار کے دن جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے ، ان میں سے ایک صدقہ ہے۔ نقد  کی صورت میں بھی اور کھانے پینے کی چیزوں کی صورت میں بھی ۔ یہ گویا انفرادی خوشی کی اجتماعی توسیع ہے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایک کو خوشی منانے کے اسباب مہیا کیے جائیں ۔ سماج میں کوئی ایسا نہ رہے جو خوشی کے اسباب سے محروم ہو۔ جو اپنی خوشی کی مادی قیمت دینے سے عاجز ہو جائے۔

صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئے۔ اس وقت دولڑکیاں حضرت عائشہ کے پاس بیٹھی ہوئی دف بجارہی تھیں اور عربی گانے گارہی تھیں ۔ حضرت ابو بکر نے ان کو ڈانٹا کہ رسول کے گھر میں تم لوگ گانے بجانے کا لغو کام کر رہی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے چہرہ سے چادر ہٹائی اور فرمایا کہ اے ابو بکر ، انھیں چھوڑ دو ، ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 952؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 892)۔

اسلام میں خوشی منانے کو تہذیب اور انسانیت کی حد میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم خوشی ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ حد کی پابند نہیں رہتی ۔ وفور شوق میں کبھی کبھی کوئی شخص تجاوز بھی کر جاتا ہے۔ اس لیے حد بندی کے ساتھ اسلام میں انسانی جذبات کی رعایت بھی رکھی گئی ہے۔ اور وہ رعایت یہ ہے کہ اگر کوئی عورت یا مرد وقتی جذبہ کے تحت کچھ سادہ قسم کی بے ضرر تفریح کریں تو سماج کے بڑوں کو چاہیے کہ وہ اسے نظر انداز کریں ۔ وہ اس قسم کی معصومانہ خوشی پر روک لگانے کی کوشش نہ کریں۔

ایک بزرگ نے کہا:لَيسَ العِيدُ لِمَن تَزَيَّنَ بِزِينَةِ الدُّنيَا، إِنَّمَا العِيدُ لِمَن تَزَوَّدَ بِزَادِ التَّقوَىٰ (لطائفالمعارف لابنرجب، صفحہ 611)۔ یعنی عید اس کی نہیں ہے جو دنیا کی زینت سے اپنے آپ کو سنوارے بلکہ عید اس کی ہے جو آخرت کے لیے تقویٰ کا زاد راہ اکٹھا کرلے۔

اس قول سے اسلامی تیوہار کی اصل روح معلوم ہوتی ہے ۔ اسلامی تیوہار وہ ہے جسں میں خوشی کے ساتھ خدا کا شکر شامل ہو جس میں کھیل کے ساتھ اعتدال موجود ہو ۔ جس میں بے تکلفی ہو مگر وہ ادب کے دائرہ میں ہو ۔ جس میں کھانا پینا ہو مگر وہ اسراف سے پاک ہو ۔ جس میں انسانی جذبات کی رعایت ہو مگر وہ خدائی احکام کے ماتحت ہو ۔ جس میں تفریح ہو مگر اسی کے ساتھ اس میں مقصدیت بھی پوری طرح برقرار رہے۔

یہ ہے عید ، اور یہ ہے تیوہار کا اسلامائزیشن۔

__________________________________________

نوٹ:آل انڈیا ریڈ یو، نئی دہلی سے 21فروری 1996 کو نشر کیا گیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion