مستقبل بینی
فتح مکہ کےبعدعرب میں وہ دورآیاجس کوتاریخ میں عام الوفودکہاجاتاہے۔عرب کے قبائل مدینہ آکراسلام قبول کرنے لگے۔ان میں سےایک قبیلہ ثقیف بھی تھاجوطائف سے آیا تھا۔ یہ لوگ مدینہ آئےتوانہوں نےایک انوکھی شرط پیش کر دی۔ انہوں نےکہاکہ ہم اسلام توقبول کرلیں گےلیکن ہم نہ زکوٰۃ دیں گےاورنہ جہادکریں گے۔
یہ ایک نازک مسئلہ تھا۔ عام لوگ اس قسم کےاسلام کوقبول کرنےکےلیے تیارنہ تھے۔لیکن پیغمبر اسلام ﷺ نے حال سےاوپراٹھ کرمستقبل کودیکھا۔آپ نےاپنی بصیرت کے تحت یہ سمجھاکہ یہ لوگ جب اسلام میں داخل ہوکرمسلم معاشرے کاجزءبن جائیں گے تو وہ اپنےآپ سب کچھ کرنےلگیں گے۔چنانچہ آپ نےان کی شرطوں کو مانتے ہوئے انہیں اسلام میں داخل کرلیا۔لوگوں کےاشکال کورفع کرنےکےلیے آپ نےفرمایاکہ جب وہ اسلام قبول کرلیں گےتواس کے بعدوہ زکوٰۃ بھی دیں گےاورجہادبھی کریں گے:سَيَتَصَدَّقُونَ، وَيُجَاهِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوا (سیرت ابن کثیر، جلد 4، صفحہ56)۔
پیغمبر اسلام ﷺ کے اس اسوہ سے ایک عظیم حکمت معلوم ہوتی ہے۔ یہ حکمت ایک لفظ میں مستقبل بینی ہے۔ انسان کوئی پتھر نہیں ہے جو تاثر کو قبول نہ کرے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ انسان کے حال پر اس کے مستقبل کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ آدمی سے معاملہ کرتے ہوئے ہمیشہ اس حقیقت کو سامنے رکھنا چاہیے۔ بوقت معاملہ فوری تبدیلی پراصرار سے ضد پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر وسعت ظرف کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اپنے آپ ایسا ہوگا کہ آدمی مستقبل میں عین وہی بن جائےگا جیسا کہ حال میں ہم دیکھنا چاہتے تھے۔
