امامت کا راز
سسلی ایک یوروپی ملک ہے جو میڈٹیرینین سمندر میں واقع ہے اور اٹلی سے ملا ہوا ہے۔ بارھویں صدی عیسوی میں یہاں ایک مسیحی نارمن بادشاہ راجر دوم (1154-1101) حکومت کرتا تھا۔ قدیم بادشاہوں (مثلاً سکندر اعظم) کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ وہ اپنی زیر حکومت دنیا کا خاکہ تیار کرا کر اپنے پاس رکھیں۔ شاہ راجر دوم کے دل میں بھی یہ خواہش پیداہوئی کہ وہ دنیا کا ایک بڑا نقشہ تیار کرائے جس میں اس کی اپنی سلطنت کے حدود دکھائے گئے ہوں۔ اس کام کے لیے راجر دوم نے اپنے وقت کے جس ماہر شخص کا انتخاب کیا وہ ایک مسلمان جغرافیہ داں الادریسی تھا۔ اسی مغربی بادشاہ کی خواہش پر الادریسی نے جغرافیہ کے بارے میں اپنی مشہور کتاب تیارکی جس میں جغرافی معلومات کے ساتھ 70 نقشے شامل تھے۔ الادریسی کی عربی کتاب کا پہلا یوروپی ترجمہ روم میں 1619 میں کیا گیا۔
جے ۔ ایچ ۔ کریمرز نے الادریسی کے مذکورہ جغرافیہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’شاہ راجر دوم نے اپنے وقت کی معلوم دنیاکا تفصیلی خاکہ تیار کرنے کا کام ایک مسلمان عالم کے سپرد کیا، اس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کے علم و فضل کی برتری ایک مسلّم حقیقت سمجھی جاتی تھی۔‘‘ ہر قسم کے فنی ماہرین مسلمانوں سے لیے جاتے تھے۔ اس زمانہ میں مسلمان ساری دنیا میں علم کے میدان میں بڑھے ہوئے تھے۔ ریاضی، طب، فلسفہ، جغرافیہ، فن تعمیر، فن حرب، تاریخ اور زبان و ادب ہرچیز میں وہ دنیا کی امامت کر رہے تھے۔ اس واقعہ کی ایک شہادت وہ ہے جو زبان کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ یورپ کی زبانوں میں کثرت سے ایسے الفاظ ہیں جن کی اصل عربی ہے۔
مسلمان پچھلے تقریباً ہزار سال تک دنیا کے قائد بنے ہوئے تھے۔ مگر یہ مقام ان کو مطالبہ اور احتجاج کی سیاست سے نہیں ملا تھا اور نہ کوڑے اور پھانسی کی سزاؤں کو جاری کر کے وہ اس بلندی تک پہنچ گئے تھے۔ اس کا راز تھا اہلیت۔ اس کا سبب یہ تھاکہ وہ دنیا کو دینے والے بن گئے تھے ، نہ کہ صرف لینے والے۔
