اصل کام

سلمان رشدی (پیدائش 1947)کی ایک ناول ہے جس کا نام ہے— آدھی رات کے بچّے :

‘‘Midnight's Children’’

اس کتاب میں سلمان رشدی نے ناول کے کردار کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ عقیدہ اور بےعقیدگی کے درمیان جھول رہا تھا:

‘‘He was…trapped between belief and disbelief.’’

رشدی کا یہ بیان حقیقت میں اس کے اپنے دل کی آواز ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ میں مذہب کے معاملے میں یقین اور بے یقینی کے درمیان لٹکا ہوا ہوں۔ یہ صر ف ایک شخص کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک پوری نسل کا معاملہ ہے۔ سلمان رشدی نے جو بات  کہی ہے، وہی بے شمارمسلمانوں کی بات ہے۔ مسلمانوں کی نئی نسل جس کی تعلیم جدید ماحول میں ہو ئی ہے اس کا کم از کم 75فیصد حصہ اسی قسم کی بے یقینی میں مبتلا ہے۔

دسمبر1988ء میں جب کہ میں امریکا میں تھا، مجھے وہاں کے ایک اسلامی مر کز میں لے جایا گیا۔ یہ مرکز جس خطہ میں واقع ہے وہاں تادم تحریرتقریباً ایک لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ میں نے منتظمین سے پو چھا کہ اس علاقہ کے ایک لاکھ مسلمانوں میں سے کتنے لوگ ہیں جو اسلامی مرکز سے جڑے ہو ئے ہوں۔ ایک ذمہ دار نے جواب دیا کہ دس فیصد مسلمان ہے۔ حاضرین میں سے دوسرا شخص بولا کہ آپ مبالغہ کر رہے ہیں، بمشکل 5فیصد تعداد ہو گی جو اس مرکز سے جڑی ہو ئی ہو۔

مجھے بتایا گیا کہ جو مسلمان امریکا میں آباد ہیں ان کی نئی نسلوں کی بیشتر تعداد اسلام سے بالکل ناواقف ہو چکی ہے۔ ان کو نماز، روزے سے کوئی مطلب نہیں ، جنس اور شراب اور غذا کے معاملہ میں ان کے طریقے وہی ہیں جو دوسرے آزاد خیال امریکیوں کے ہیں۔ وہ بس برائے نام مسلمان ہیں۔

یہ کوئی انکشاف کی بات نہیں ۔ ہر وہ شخص جو مسلمانوں کی جدید تعلیم یافتہ نسل سے واقف ہے، وہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’ رشدی ‘‘ ہمارے درمیان ایک نہیں، بلکہ بے شمار تعداد میں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کی’’رشدیت‘‘ یعنی مذہب بیزاری ظاہر ہو چکی ہے، اور کسی کی اب تک چھپی ہوئی ہے۔

مسلم نسل کی یہ صورتِ حال موجودہ زمانہ کے مسلم دینی رہنماؤں کے لیے ایک زبردست چیلنج ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کی ترقی یافتہ زبانوں میں اعلیٰ معیار کا اسلامی لٹریچر تیار کر کے شائع کیا جائے تاکہ ’’ارتداد ذہنی‘‘ میں مبتلا ہو نے والے ان بے شمار مسلمانوں کی بے یقینی کو دوبارہ یقین میں تبدیل کیا جاسکے۔ ان کو بے عقیدگی کے دلدل سے نکال کر دوبارہ عقیدہ کی صالح زمین پر کھڑا کیا جائے۔

راقم الحروف نے الرسالہ جولائی1987ء میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا ’’دور جدید کی تحریکیں‘‘۔ اس مضمون میں جدید لٹریچر کی اہمیت کو بتاتے ہو ئے کہا گیا تھا کہ جدید لٹریچر دورِ جدید میں اسلام کے احیا کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ مگر کتابوں کے ان گنت انبار کے باوجود، یہ ضرورت ابھی غیر تکمیل شدہ حالت میں پڑی ہو ئی ہے۔ حتی کہ لوگوں کے اندر اس کا حقیقی شعور بھی موجود نہیں۔

میں نے مزید لکھا تھا کہ میں اُردو، عربی ،فارسی اورانگریزی میں اپنے چالیس سالہ مطالعہ کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دینی رہنما کو ئی ایک بھی ایسی قابل ذکر کتاب وجود میں نہ لاسکے جو جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کر نے والی ہو۔

موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں کا اولین اور اہم ترین کام یہ ہے کہ وہ جدید علوم کو پڑھیں۔ وقت کی زبانوں کو سیکھیں ۔آج کے طریقِ استدلال اور اسلوب ِ تحریر میں مہارت پیدا کریں۔ اور اس کے بعد اسلام کی ابدی تعلیمات کو موثر اور طاقتور انداز میں پیش کریں تاکہ آج کا انسان اور جدید مسلم نسل اس کو پڑھے اور اس کے ذریعہ سے اپنے کھوئے ہو ئے عقیدہ کو دوبارہ حاصل کرے۔ مگر جدید اسلوب میں طاقتورلٹریچر وجود میں لانا تو درکنار، موجودہ مسلم رہنما قرآن کا ایک صحیح انگریزی ترجمہ بھی تیار کر کے شائع نہ کر سکے۔

ایسی حالت میں مسلم رہنماؤں کا سلمان رشدی جیسے لوگوں کے خلاف ہنگامہ کرنا حقیقتاً خود اپنی بے عملی پر پردہ ڈالنے کے ہم معنی ہے۔ یہ اس کام کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرنا ہے جس کو انہوں نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا اور قرآن کا فیصلہ ہے کہ جو لوگ کچھ کیے بغیر کریڈٹ لینا چاہیں ان کے لیے خدا کے یہاں عذاب ہے ، نہ کہ انعام (3:188)۔

ہمارے لکھنے والوں نے موجودہ زمانہ میں جو اسلامی کتابیں تیار کی ہیں وہ غیر منحرف ذہن کے لیے مفید ہو سکتی ہیں ۔ مگر منحرف ذہن کے لیے وہ سراسر غیر مفیدہیں ۔ کیونکہ وہ منحرف ذہن کے تقاضے کو بالکل پورا نہیں کرتیں۔

ان تمام کتابوں کا یکساں حال یہ ہے کہ ان میں یہ فرق نہیں کیا گیا کہ اعتقادی یا روایتی استدلال کیا ہے اور عقلی یا سائنسی استدلال کیا ہے۔ جو لوگ ان دونوں کے فرق کو نہیں جانتے، وہ جدید نسل کے لیے اسلامی لٹریچر کیسے فراہم کر سکتے ہیں؟

یہ کتابیں تقریباً سب کی سب اعتقادی استد لال کے اصول پر لکھی گئی ہیں۔ اعتقادی استدلال صرف وہاں کار آمد ہو تا ہے جہاں زیر بحث مسئلہ میں دونوں فریق بنیادِ استدلال کے بارے میںایک رائے رکھتے ہوں ۔ مگر جہاں اس بارے میں دونوں فریق کی سوچ الگ الگ ہو، وہاں اعتقادی طریق استدلال بالکل بے اثر اور بے قیمت ہو جاتا ہے۔

جدید نسل جو جدید افکار سے متاثرہے، اس کامسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی پیشگی مسلّمہ پر یقین نہیں رکھتی ۔ اس کا تصوریہ ہے کہ جو دعویٰ کیا جائے اس کو سائنس اور تاریخ کے معلوم حقائق کی بنیاد پر ثابت ہونا چاہیے۔ گویا پہلے طریق استدلال کی بنیاد اگر اعتقادی مسلّمات پر قائم ہے تو دوسرے طریق استد لال کی بنیاد عقلی مسلّمات پر۔ مگر موجودہ زمانہ میں عربی، فارسی، اردو اور انگریزی میں ہمارے لکھنے والوں نے جو کتابیں لکھی ہیں ، ان میں کو ئی کتاب ایسی نہیں جس میں اسلام کو حقیقی معنوں میں جدید انسان کے اپنے مسلمات کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہو۔

دوسری کمزوری جو ان تمام کتابوں میں مشترک طور پر پا ئی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کتابیں افضلیت اور برتری کی اصطلاحوں میں لکھی گئی ہیں۔ ان کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ طور پر یہ ہوتا ہے کہ اسلام یا مسلمانوں کی برتری ثابت کریں۔ اس قسم کا لٹریچر کچھ مسلمانوں کو خوش کر سکتا ہے مگر وہ جدید ذہن کے لیے ہر گز مؤثر نہیں ہوسکتا۔

جدید ذہن کو اپیل کرنے والا لٹریچر صرف وہ ہو گا جس میں یہ دکھایا گیا ہو کہ اسلام کی تعلیمات عین فطرت کے مطابق ہیں۔ اسلام اور انسانی فطرت دونوں ایک دوسرے کا مثنی (counter part) ہیں۔

تیسری کمزوری جو جدید پیدا شدہ لٹریچر میں بہت زیادہ عام ہے، وہ یہ كه يه کتابیں دعوت کی زبان میں نہیں لکھی گئیں، بلکہ عداوت کی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں کے لکھنے والے تقریباً سب کے سب اپنے سینہ میں یہ احساس لیے ہو تے ہیں کہ موجودہ دنیا اسلام کی دشمن ہو گئی ہے۔ ہر طرف اسلام کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ ہر قوم اسلام کو مٹانے پر تلی ہو ئی ہے۔ اس نفسیات کے تحت جو لٹریچر تیار کیا جائے وہ عداوتی لٹریچر ہوگا، نہ کہ دعوتی لٹریچر۔

جو شخص اپنے سینہ میں مدعو کے خلاف نفرت لیے ہو ئے ہو وہ پہلے مر حلہ ہی میں اس کام کے لیے اپنے آپ کو نا اہل ثابت کر رہا ہے۔ دعوتی کلام کے لیے مدعو کے حق میں محبت کی نفسیات درکار ہے، نہ کہ نفرت کی نفسیات۔ اس لیے ہمارے لکھنے والے جب تک اپنے سینہ کو منفی نفسیات سے خالی نہ کریں، ان کا دعوتی لٹریچر تیار کرنا ایک جرم ہے ، نہ کہ کوئی واقعي اسلامي خدمت۔

سلمان رشدی جیسے واقعات کے مقابلہ میں مسلم رہنماؤں کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ اس کو مرتد قرار دے کر ان کے اوپر اسلامی سزا کے نفاذ کا اعلان کریں ۔ اس کے بر عکس، ان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ان کے کیس کو سمجھیں ۔ ان کے ذہنی کنفیوزن کا مطالعہ کریں۔ ان کے فکر و نظریہ سے پوری واقفیت حاصل کریں۔

اس طرح کے گہرے مطالعہ کے بعد ان کا فرض ہے کہ وہ اسلام پر ایسی کتابیں تیار کریں جو اس قسم کے لوگوں کو مطمئن کرنے والی ہوں۔ جو ان کی سوئی ہو ئی فطرت کو جگا کر انہیں ان کے رب کے قریب کر سکیں۔

موجودہ زمانہ کے منحرف ذہنوں میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جوامکانی طور پر اس کے لیے تیار ہیں کہ وہ اسلام کو اپنے دل کی آواز پاکر اسے قبول کر لیں۔ مگر یہ امکان صرف اس وقت واقعہ بن سکتا ہے جب کہ دین حق کو اس کی مانوس زبان اور ان کے قابل قبول اسلوب میں ان کے سامنے پیش کر دیا جائے۔

ایک پیا سا آدمی پانی کا گلاس صرف اس وقت اپنے ہاتھ میں لیتا ہے جب کہ اسے یقین ہو کہ اس گلاس کے اندر جو چیز ہے وہ پانی ہے۔ اسی طرح ہر پیدا ہو نے والا بلا شبہ حق کا طالب ہے۔ مگر جو تحفہ اس کے سامنے پیش کیا جائے اس کی بابت پہلے اس کو اس کی مانوس زبان میں یہ یقین دلانا ہو گا کہ یہ وہی مطلوب چیز ہے جس کو تم اپنی فطرت کے زیر اثر تلاش کر رہے تھے۔ (شتم رسول کا مسئلہ)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion