اس میں آپ کے لیے سبق ہے

ابتدائی اسلامی دور کے شعرا میں تین سب سے زیادہ مشہور ہیں:جریر فرزدق اور اخطل۔ جریر (110ھ) اور فرزدق (110ھ) دونوں ایک دوسرے کی ہجو کیا کرتے تھے۔ مثلاً فرزدق نے کہا:

أَحْلَامُنَا تَزِنُ الْجِبَالَ رَزَانَةً                 وَتَخَالُنَا جُنَّادًا أَمَانًا نَجْهَلُ

ہماری عقلیں پہاڑوں کے برابر وزنی ہیں اور جب ہم بگاڑ پر مائل ہو جائیں تو تم ہم کو جن خیال کرو گے۔ جریر نے جواب دیا:

أَبْلِغْ بَنِي وَقَبَائِلَكُمْ أَنْ حُلُمْهُمْ           خَفَّتْ فَلَا يَزْنُونَ حَبَّةَ خَرْدَل

بنی وقبان کو بتادو کہ ان کی عقلیں ہلکی ہو گئیں اور وہ رائی کے برابر بھی وزنی نہیں یہ ایک سادہ سی مثال ہے۔ ورنہ ان کی ہجویات خاص طور پر فرزدق کی، اتنی زیادہ عریاں ہیں کہ ان کو نقل بھی نہیں کیا جا سکتا۔

جریر کے سلسلہ میں یہ قصہ مشہور ہے کہ اس کی ماں نے ایام حمل میں خواب دیکھا کہ اس کے اندر سے ایک رسی نکلی اور لوگوں کے اوپر کودنے لگی اور ایک ایک کا گلا گھونٹنے لگی۔ جب اس نے اپنے خواب کی تعبیر معلوم کی تو بتانے والوں نے بتایا کہ تجھ سے ایک لڑکا پیدا ہو گا جو لوگوں کی ہجو کیا کرے گا اور ان کے لیے ایک آفت کا باعث ہو گا۔ اسی لیے لڑ کے کا نام جریر رکھا گیا جس کے معنی عربی زبان میں رسی کے ہوتے ہیں۔

دو معاصر شعرا کے درمیان ہجو گوئی کیسے شروع ہوئی۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ جریر بن عطیہ یمامہ میں پیدا ہوا۔ طبیعت کے رجحان اور ماحول کے اثر سے شعر و شاعری شروع کر دی۔ اس کو معلوم ہوا کہ بصرہ میں شاعروں کی بڑی قدر ہے۔ وہ وہاں پہنچا۔ اس نے دیکھ کر فرزدق اپنی شاعری کی بدولت بہت بلند مقام حاصل کیے ہوئے ہے۔ فرزدق کی خوش حالی اور اس کی قدر و منزلت نے اس کو حیرت میں ڈال دیا۔ اگرچہ دونوں تمیمی تھے۔ تاہم جریر دل ہی دل میں اس سے حسد کرنے لگا۔ مربد کا بازار جریر اور فرزدق کے فخریہ قصائد اور ہجویہ نظموں کا اکھاڑا بن گیا۔ دونوں ایک دوسرے کی بحر میں قصائد لکھتے جو ’’نقائض‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ تاہم جب عمرکا بالکل آخری حصہ آیا تو دونوں مقابلہ آرائی کو چھوڑ کرعبادت میں مشغول ہو گئے۔

آدمی جب کسی مشغلہ کواختیار کرتا ہے تو خواہ اس کا محرک جو بھی ہو دھیرے دھیرے وہ اس کی طبیعت بن جاتی ہے اوراس کے اقوال و افعال اسی کے سانچہ  میں ڈھل جاتے ہیں۔ جریر اس کی ایک مثال ہے۔

جریر ایک مرتبہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دربار میں پہنچا۔ وہاں عدی بن رقاع عاملی بیٹھے ہوئے تھے۔ خلیفہ نے جریر سے پوچھا:’’ان کو پہچانتے ہو‘‘ جریر نے کہا:’’اے امیر المومنین نہیں‘‘۔ خلیفہ نے بتایا کہ یہ عاملہ خاندان کے فرد ہیں۔ یہ سن کر برجستہ جریر کی زبان سے نکلا:’’وہی عاملہ جس کے بارے میں اللہ فرماتا ہے: عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً (88:3-4)۔ یعنی، بہت سے چہرے اس دن خستہ ہوں گے، بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے، اس کے بعد ایک بیہودہ شعر پڑھا۔ اس کانتیجہ یہ ہواکہ جریر اور عدی کے درمیان دشمنی شروع ہو گئی اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف ہجویہ نظمیں لکھیں ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion