تجربہ کی زبان میں
اسلام میں عورت کی حیثیت کے بارے میں پچھلے صفحات میں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ راقم الحروف کے لیے محض ایک نظری بات نہیں اور نہ وہ صرف ایک تاریخی بات ہے جس کو میں نے قدیم اور اق میں پڑھ لیا ہو۔ اسی کے ساتھ یہ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تعلیمات کو میں نے نہ صرف قرآن وحدیث میں اور اسلام کی تاریخ میں پڑھا ہے بلکہ ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے واقعہ بنتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
میرا یہ تجربہ قدرتی طور پر میرے اپنے گھر کی خواتین سے تعلق رکھتا ہے۔ اسلامی حدود کی بنا پر ایک مسلمان اپنے گھر کی خواتین ہی سے پوری طرح باخبر ہوسکتا ہے۔ چنانچہ میں اپنے گھر کے تجربہ کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام کی حدود میں رہ کر عورتیں وہ سب کچھ کر سکتی ہیں جن کی زندگی کی تعمیر کے لیے ضرورت ہے یا کبھی ضرورت ہوسکتی ہے۔
ان تجربات کو میں زیادہ تفصیل کے ساتھ، ان شاء اﷲ ،اپنی سوانح عمری میں لکھوں گا۔ البتہ ایک تجربہ یہاں تحریر کرتا ہوں جو میری والدہ مرحومہ سے متعلق ہے۔ میری والدہ کا نام زیب النساء (بنت خدابخش ) تھا۔ وہ اعظم گڑھ کے ایک دیہات (سنجر پور ) میں انیسویں صدی کے آخر میں پیدا ہوئیں۔اور 18 اکتوبر 1985 کو دہلی میں انتقال فرمایا۔ بوقت انتقال ان کی عمر تقریباً ایک سو سال تھی۔
والدہ کی تعلیم بس اتنی ہی ہوئی تھی کہ وہ قرآن کی تلاوت کر سکتی تھیں اور معمولی اردو کی کتاب اٹک اٹک کر پڑھ لیتی تھیں۔ تاہم وہ پوری طرح ایک مذہبی خاتون تھیں۔ نماز روزہ کی سختی سے پابند تھیں۔ حج بھی نہایت ذوق وشوق سے کیا تھا۔ ان کو میں نے کبھی جھوٹ بولتے یا اور کوئی غیر اخلاقی فعل کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ساری عمروہ مکمل طور پر پردہ دار رہیں۔ وہ پورے معنوں میں ایک بااصول اور ایک باکردار خاتون تھیں۔
میرے والد فرید الدین خاں مرحوم کا انتقال 30 دسمبر 1929 کو ہوا۔ وہ اپنے علاقہ کے سب سے بڑے زمیندار تھے۔ ایک روزوہ حسب معمول قریب کے گاؤ ں (نوادہ ) اپنی چھاؤنی پر گئے ہوئے تھے۔ وہاں ان پر فالج کا دورہ پڑا۔ بے ہوشی کی حالت میں چارپائی پر لٹاکر گھر لائے گئے۔
اس کے بعد وہ کچھ بول نہ سکے۔ بے ہوشی کی حالت ہی میں اگلے دن ان کا انتقال ہوگیا۔ والدہ اچانک بیوہ ہوگئیں۔ اس وقت ہم لوگ پانچ بھائی بہن تھے۔ بڑے بھا ئی عبد العزیز خاں کی عمر تقر یباً آٹھ سال تھی۔ میری عمر پانچ سال اور چھوٹے بھائی عبد المحیط خاں کی عمر صرف ایک سال۔ اسی طرح دونوں بہنیں بھی چھوٹی عمر میں تھیں۔ بہنوں کا انتقال والدہ کی زندگی ہی میں ہوگیا۔ ہم تینوں بھائی خداکے فضل سے تادم تحریر زندہ ہیں۔
اس وقت والد کا انتقال ہمارے لیے ایسا ہی تھا جیسے کوئی شخص تاڑسے اچانک زمین پر گر پڑے۔ اس کی وجہ تمام تر مصنوعی تھی ، نہ کہ حقیقی۔ مخصوص اسباب کے تحت جو دورِ زراعت میں اکثر مشترک خاندانوں میں پیش آتے رہے ہیں، والد کے انتقال کے بعد ہمارے گھر کا ماحول ہمارے لیے غیر موافق ہوگیا۔ بعض رشتہ داروں کے زیر اثر ایسا ہواکہ گھر کے اکثر افراد کا سلوک ہمارے ساتھ وہ نہ رہا جو کہ ہونا چاہیے تھا۔ یہ صورت حال اتنی بڑھی کہ ہم گھر کے اندر اجنبی بن گئے ۔ حتیٰ کہ زمین دار ہوتے ہوئے ، کم از کم وقتی طور پر، ہمارا یہ حال ہوا جیسے کہ ہم بے زمین ہوں۔ جیسے کہ گھر کی چیزوں میں ہمارا کوئی حصّہ ہی نہ ہو۔ ہم لو گ اپنے ماحول میں بے سروسامان بھی ہوگئے اور اسی کے ساتھ حقیر بھی۔
ہمارا آبائی مکان بہت بڑا تھا۔ مگر والدکے انتقال کے بعد ہم نے اپنے آپ کو ایک ایسے گھر میں پایا جو گھوڑے کے اصطبل کے لیے بنا یا گیا تھا اور اب کھنڈر ہوجانے کی وجہ سے اصطبل کے طور پر استعمال نہیں ہورہا تھا۔ مزید یہ کہ گھر میں نہ کھانے کے لیے سامان تھا اور نہ ضروری چیزوں کی خریداری کے لیے پیسہ۔ اس حالت میں لوگ والدہ کو طرح طرح کے مشورے دینے لگے۔ کسی نے کہا کہ آپ دوسرانکاح کرلیں۔ کسی نے کہا کہ میکے چلی جائیں۔ کسی نے کہا کہ مقدمہ کے ذریعہ اپنی جائداد حاصل کریں۔ مگر والدہ نے اس قسم کے تمام مشوروں کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ایک بہادر اسلامی خاتون کی طرح انھوں نے حالات سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ میں ان کا سارا انحصار صرف دو چیزوں پر تھا— اﷲ سے دعا اور اپنے دست وبازو کی محنت۔
والدہ کے میکہ میں بہت بڑی زمین داری تھی۔ مزید یہ کہ ہمارے نا نا مرحوم نے اپنی موت سے پہلے تقریباً 20 ایکڑ زمین والدہ کے نام لکھ دی تھی۔ مگر والدہ نے اس معاملہ میں مکمل استغناء کا ثبوت دیا۔ انھوں نے اپنے میکہ سے نہ کبھی زمین کا مطالبہ کیا اور نہ اپنی حالت بیان کرکے ان سے مدد کی درخواست کی۔ وہ تو کل علی اﷲ کا زندہ نمونہ بن گئیں۔
میں نے دیکھا ہے کہ وہ صبح اندھیرے بستر سے اٹھ جاتیں اور فجر کی نماز پڑھ کر سارے دن مسلسل کام کرتی رہتیں۔ رات کو دیر سے عشاء کی نماز پڑھ کر سوتیں۔ وہ کیا کام تھا جس میں وہ اپنے گھر کے اندر سارے دن مصروف رہتی تھیں۔ انھوں نے یہ کیا کہ گھر کے اندر مرغیاں پال لیں۔ اسی کے ساتھ ان کے یہاں بہت سی بکریاں پلی ہوئی تھیں۔ یہ ان کا مستقل کاروبار تھا۔ والدہ کے اسی ذوق کی وجہ سے مجھے پیغمبر وں کی اس سنت پر عمل کرنے کا موقع ملا کہ میں نے اپنے بچپن میں بکریاں چرائیں۔ اپنے سب بھائیوں میں صرف مجھ کو یہ سعادت حاصل ہوئی۔
اسی کے ساتھ والدہ نے سلائی کا کام بھی شروع کردیا۔ اس زمانہ میں سلائی کی مشین عام نہیں ہوئی تھی۔چنانچہ گاؤ ں کے لوگوں کے کپڑے وہ ہاتھ سے سیتی تھیں۔ اس سلائی کی کوئی اجرت مقر ر نہ تھی۔ وہ رضا کارانہ طور پر لوگوں کے کپڑے سیتی تھیں اور لوگ بھی رضا کارانہ طور پر غلہ وغیر ہ ہمارے یہاں پہنچادیا کرتے تھے۔ بعد کو والدہ نے بھینس بھی پال لی۔ اسی کے ساتھ وسیع کھلے ہوئے صحن میں وہ مختلف قسم کی سبزیاں اور وغیرہ بو دیتی تھیں جس سے کافی فصل نکلتی تھی۔ والدہ مرحومہ کی اس زندگی سے متاثر ہوکرایک بار یہ شعر میری زبان پر آگیا تھا:
مرغی بکری سبزی پھل ہے مومن کی معاش کا حل
اس زمانہ میں ایک عورت نے والدہ کی حالت کو دیکھ کر کہا تھا آپ کو بلّی کے بچوں کی رکھوالی ملی ہے۔ یہ تبصرہ لفظ بلفظ درست تھا۔ ہم لوگ اس زمانہ میں واقعۃً بلی کے بچوں کی مانند تھے۔ والدہ نے اگر غیر معمولی قربانی کے ذریعہ ہماری پرورش نہ کی ہوتی تو شاید ہم لوگوں کا وہی انجام ہوتا جو بلی کے چھوٹے بچوں کا اس وقت ہوتا ہے۔ جب کہ وہ اپنی ماں کی سر پرستی سے محروم ہوگئے ہوں۔
ہم لوگوں کی پرورش اور دیکھ بھال کے سلسلہ میں والدہ نے برسہا برس تک جو کچھ کیا اور جو کچھ میری آنکھوں نے دیکھا ، ان کو یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ کیوں کہ وہ خود ایک مستقل کتاب ہے۔ اس وقت ہماری جو معاشی حالت تھی، اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک بار مجھے غلیل بنا نے کا شوق ہوا۔ غلیل کار بر اس وقت ایک پیسہ میں ملتا تھا۔ مگر ہمارے گھر میں ایک پیسہ موجود نہ تھا جس کے ذریعہ میں ربر خرید سکوں۔ایک صاحب کے علم میں یہ بات آئی تو انھوں نے مجھے ایک پیسہ دیا اور میں نے دکان جاکر غلیل کار بر خریدا۔ یہ میرا حال اس وقت تھا جب کہ میں علاقہ کے سب سے بڑے زمیندار خاندان کاایک فرد تھا۔
والد مرحوم کے انتقال کے بعد ہم معاشی اعتبار سے صفر کے درجہ میں پہنچادیے گئے تھے۔ایسی حالت میں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ والدہ کو کیا کچھ مشقت اٹھانی پڑی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے عورت ہوتے ہوئے مرد والا کام کیا۔ گھر میں رہ کر باہر کی دنیا پر اثر انداز ہوئیں۔ حالات نے انھیں اپنا معمول بنا نے کا فیصلہ کر رکھا تھا، مگر انھوں نے خود حالات کو اپنا معمول بنا لیا۔ انھوں نے اسلام کے حدود میں رہ کر وہ سب کچھ کیا جس کو کرنے کے لیے غیر ضروری طور پر خواتین کو اسلام کی حدود سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
والدہ نے جو کچھ کیا وہ اسلامی جذبہ کے تحت کیا۔ وہ ہمیشہ انسانوں کے بجائے خدا کی طرف دیکھتی تھیں ، اور دنیا کے اعتبار سے سوچنے کے بجائے آخرت کے اعتبار سے سوچتی تھیں۔ تاہم انھوں نے جو کچھ کیا وہ سادہ طور پر محض روایتی دینی ذہن کے تحت تھا۔ وہ کو ئی صاحب علم خاتون نہ تھیں کہ اپنے عمل کے فلسفیانہ پہلوؤں پر غور کرسکیں۔ مگر آج جب میں اپنی ساٹھ برس کی عمر کو پہنچ کر سوچتا ہوں تو مجھے ان کا عمل انتہائی عظیم نظر آتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے مقابلے میں مجھے یہ بات بالکل ہیچ معلوم ہوتی ہے کہ وہ گھر سے باہر نکل کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرتیں اور پھر کسی دفتر کی شاندار کرسی پر بیٹھی ہوئی نظر آئیں۔
والدہ نے اپنی مذکورہ قربانی سے نہ صرف بچپن میں ہماری پرورش کی بلکہ ان کے اسلامی مزاج نے انھیں اس قابل بنا یا کہ وہ ہمیں اس سے بھی زیادہ بڑا عطیہ دے سکیں۔ یعنی خدا کی دنیا میں کامیابی اور ترقی کا راز۔ وہ راز تھا مثبت طرز فکراورحقیقت پسندی کا مزاج جو ہم تینوں بھائیوں کو مشترک طورپر ملا۔ ہمیں یہ عطیہ دینے والی تنہا ہماری والدہ تھیں۔
مجھے یاد ہے کہ والد کے انتقال کے بعد ہمارے رشتہ کے ایک ماموں (شیخ عبد الغفور) برابر ہمارے یہاں آنے لگے۔ وہ زبر دست مقدمہ باز آدمی تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ والدہ اپنے میکہ کی بیس ایکڑ زمین کے لیے عدالت میں مقدمہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ صرف دعوے کے کاغذ پر دستخط کر دیجیے، باقی سب کام میں خود کروں گا اور یہ ساری زمین آپ کو مل جائے گی۔ غالباً وہ برسوں تک ہمارے یہاں آتے رہے۔ مگر والدہ کسی قیمت پر مقدمہ کرنے کے لیے راضی نہیں ہوئیں۔
دوسری طرف ہم لوگوں کی اپنی آبائی جائداد کا معاملہ تھا جس سے محرومی ہر آن زندہ اشتعال بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہوئی تھی اور یہ دعوت دیتی تھی کہ اپنا حق وصول کرنے کے لیے لڑو۔ بعد کو بعض لوگوں کے کہنے سے ہمیں کچھ زمینیں دی گئیں مگر وہ عملاً نہ دینے کے برابر تھا۔ کیوں کہ جتنی بے کار اور بنجر زمینیں تھیں وہ چھانٹ کر ہما رے حوالے کردی گئیں۔ یہ صورت حال فریق ثانی کے خلاف لامتناہی لڑائی چھیڑنے کے لیے بالکل کا فی تھی۔ مگر والدہ نے یہاں بھی صبر کے سوا کسی اور چیز کے لیے کبھی نہیں سوچا۔ وہ اکثر ہم لوگوں کو صبر کی تلقین کرتیں اور اس سلسلہ میں ایک دیہاتی شاعر کا یہ شعر ہمیں سناتیں:
صبر بدلے میں دائم بِھشت پائم
اس وقت ہمارے جو خاندانی حالات تھے وہ مکمل طور پر ہم کو منفی سوچ کی طرف لے جانے والے تھے۔ یہی وہ حالات ہیں جن میں کسی خاندان کے افراد مقدمہ بازیوں میں اُلجھتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والے لڑائی جھگڑے بر پا ہوتے ہیں۔ قیمتی زندگیاں ہلاک ہوتی ہیں۔ لوگ مستقل طور پر تخریبی کارروائیوں کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں۔ والدہ اگر اس وقت رد عمل کا طر یقہ اختیار کرتیں تو ان کے بچوں کاجو حال ہوتا وہ یہ کہ وہ منفی ماحول میں پلتے۔ ان کے اند ر تخریبی احساسات جنم لیتے۔ ہم میں سے ہر ایک ضد اور انتقام کی نفسیات کا کارخانہ بن کررہ جاتا۔
مگر والدہ مرحومہ کے یک طرفہ صبرنے ہماری زندگیوں کا رخ بدل دیا۔ والدہ کے زیرِسایہ ہم سب بھائیوں کے اندر یہ سوچ ابھر نے لگی کہ ہمیں دوسروں سے نہیں لڑنا ہے۔ ہمیں خود اپنی محنت کے بل پر اپنے آپ کو اوپر اٹھانا ہے۔ جو کچھ ہم سے چھینا گیا تھا اس سے ہماری نظریں ہٹ گئیں۔ ہماری ساری توجہ اس چیز پر لگ گئی جو چھننے کے بعد بھی ہمارے پاس ابھی تک باقی تھا، یعنی خدا کا دیا ہوا انسانی وجود۔
آج تو میں اس حقیقت کو شعوری طور پر جان رہا ہوں۔ مگر اُس وقت یہ مزاج غیر شعوری طور پر صرف والدہ کی تربیت کے نتیجے میں ہمارے اندر پیدا ہوا تھا۔ چنانچہ ہم تینوں بھائیوں کا معاملہ یہ ہوا کہ ہم لوگ مقام ِ نزاع سے ہٹ گئے۔ ہم میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی غیر نزاعی مقام پر اپنے لیے عمل کا میدان تلاش کرلیا۔ ہم تینوں بھائیوں کی راہ اگرچہ الگ الگ بنی۔ مگر ذہن سب کا ایک تھا۔ یعنی اندرونی بے انصافیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے باہر کی وسیع دنیا میں اپنے لیے راہ عمل تلاش کرنا۔ انسان سے نہ پا کر خدا سے پانے کا طلب گار بننا۔
ہمارے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں صاحب اپنی زندگی کے اگلے مرحلہ میں تجارت کے راستہ پر لگ گئے۔ 1944 میں وہ ’’ ہجرت‘‘کرکے شہرا عظم گڑھ گئے۔ وہاں انھوں نے تقریباً بلا سرمایہ ایک تجارتی کا م کا آغاز کیا۔ وہ برابر شدید جدوجہد کرتے رہے۔ 40 برس بعد اب ا لہٰ آباد میں ان کا لائٹ اینڈ کمپنی لمیٹڈ کے نام سے بجلی کا سامان بنا نے کا کارخانہ ہے اور وہ اس کے چیئرمین ہیں۔ والد کے انتقال کے بعد وہ اپنے خاندان کے سب سے زیادہ حقیر فرد شمار کیے جاتے تھے، آج وہ وسیع خاندان کے سب سے زیادہ معزز فردکی حیثیت رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے آبائی جائداد کی نئی تقسیم کرا کر اپنا پورا حق دوبارہ لے لیا جو اس سے پہلے انھیں نہیں دیا گیاتھا۔
میرے چھوٹے بھائی عبد المحیط خاں سائنس اورانجینئرنگ کی تعلیم کی طرف گئے۔ لمبی جدوجہد کے بعد انھوں نے بنارس ہند و یونیورسٹی سے امتیاز کے ساتھ انجینئرنگ کی ڈگری لی اور اب وہ حکومت یوپی کے ٹیکنیکل ایجوکیشن کے محکمہ میں ڈپٹی ڈائرکٹرہیں۔ اپنے انتھک عمل ،اپنے بے داغ کردار اور اپنی بااصول زندگی کے نتیجے میں وہ پورے محکمہ میں ایک ممتاز شخصیت کے مالک بن گئے ہیں۔
راقم الحروف کی توجہ دینی تعلیم کی طرف ہوئی۔ اولاً میں نے عربی درس گاہ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد میں نے زبردست کو شش سے انگریزی زبان وعلوم کو پڑھا۔ اب اﷲ کی توفیق سے میں جو کام کررہا ہوں اس سے ان سطروں کے قارئین بخوبی واقف ہیں۔
1976 میں ماہنامہ الر سالہ کے اجرا ء کے بعد سے جو کام میں کررہا ہوں، اس کا ایک خاص پہلویہ ہے کہ میں مسلمانوں کو یہ سبق دے رہا ہوں کہ وہ منفی سوچ سے اوپر اٹھیں اور مثبت سوچ کا طریقہ اختیار کریں۔ الر سالہ کی یہ تحریک اب خدا کے فضل سے مسلم دنیا کی ایک طاقتور تحریک بن چکی ہے۔ مجھ کو اکثر اہل علم کی طرف سے زبانی یاتحریری طور پر ایسے تبصرے ملتے رہتے ہیں جن میں اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ دورجدید میں الر سالہ کی تحریک پہلی اسلامی تحریک ہے جس نے مسلمانوں کو منفی کارروائیوں سے ہٹاکر مثبت تعمیر کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی۔
ایسے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اگر یہ واقعہ ہے تو اس کا کریڈٹ سب سے زیادہ اس مسلم خاتون کو جاتا ہے جس کا نام زیب النساء تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس عالم مادی میں اگر کوئی ہے جس کو الر سالہ کی تعمیر ی تحریک کا ابتدائی بانی کہا جاسکے تو وہ یقیناً میری والدہ زیب النساء ہیں، وہ زیب النساء جو نام نہاد آزادیِ نسواں کی تحریک سے نہ صرف بہت دور تھیں بلکہ وہ اس کا نام بھی نہیں جانتی تھیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ والدہ محترمہ کے لیے وہ ایک غیر شعوری معاملہ تھا، اور میری ذات میں اﷲتعالیٰ نے اس کو شعوری دریافت تک پہنچایا ہے۔
میں اپنے قریبی رشتہ داروں میں ایک سے زیادہ ایسے افراد کو جانتا ہوں جو کم عمری میں ماں کی سرپرستی سے محروم ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پوری زندگی بر بادی کانشان بن کر رہ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کے روپ میں عورت کا رول انسانی زندگی میں بہت زیادہ ہے۔عبد اﷲبن زبیر کی ماں (اسماء) نے ان کو ایک بڑے اقدام پر ابھارا۔ چنانچہ ایک شخص جو اقدام کا ارادہ چھوڑچکا تھا، وہ دوبارہ اقدام کے لیے آمادہ ہوگیا(الطبقات الکبری، جلد2،صفحہ501-2)۔ شہنشاہ اکبر کی ماں ( مریم مکانی ) نے اکبر کو ملاّ عبدالنبی کے خلاف کار روائی سے روکا۔ چنا نچہ اکبر ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے بازرہا، وغیرہ وغیرہ(مآثر الامراء، جلد 2،صفحہ، 560)۔
راقم الحروف اگر بچپن میں ماں سے محروم ہوجاتا۔ یا اگر مجھ کو ایسی ماں ملتی جو مجھے اپنے ’’دشمنوں‘‘ کے خلاف لڑنے جھگڑنے پر اکساتی رہتی تو یقینی طور پر میر ی زندگی کا رخ بالکل دوسرا ہوتا۔ اﷲتعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسے انجام سے بچایا، اور مجھ کو اپنی ایک صداقت کے اظہار کا ذریعہ بنا دیا۔ تاہم اس عالم اسباب میں جو ہستی اس واقعہ کا ابتدائی ذریعہ بنی وہ یقیناً ایک خاتون تھی اوروہ بھی اسلامی اصول کے مطابق ایک خانہ نشین خاتون۔
