دونوں طرف ساحل

ایک شخص کشتی پر سوار ہو کر سمندری سفر کے لیے روانہ ہورہا تھا۔ اس کے مغربی دوست نے اس کو رخصت کرتے ہوئے کہا کہ آج تم ایک صاف سمندر میں اپنا سفر شروع کر رہے ہو۔ مگر کبھی موسم تمھارے لیے اچھا رہے گا اور کبھی خراب تمہارے راستہ میں طوفان آئیں گے اور تمہیں اس کا مقابلہ کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔ تم کبھی بے ہمت نہ ہو نا۔ محفوظ ساحل تمھارے دونوں طرف تمھارا انتظار کر رہا ہے :

Safe harbour awaits you both at the start and the end of your voyage.

ان چند لفظوں میں زندگی کی بہت گہری حقیقت بیان کر دی گئی ہے۔ آدمی ایک مقصد کی طرف بڑھتا ہے۔ مقصد کو حاصل کرنے میں اسے ناکامی ہوتی ہے۔ وہ ہمت چھوڑ بیٹھتا ہے۔ ایک ناکامی کو وہ ساری ناکامی سمجھ لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب میں ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے سابقہ مقام کی طرف لوٹ آئے تب بھی وہ نا کام نہیں ۔ یہ اس کی ایک کامیاب حیثیت ہی تھی جس نے اسے یہ موقع دیا کہ وہ کشتی پائے اور اس پر سوار ہو کر اس کو چلاتا ہوا آگے بڑھے ۔ پھر اگر وہ اپنی اس سابقہ کامیاب حیثیت کی طرف لوٹے اور اس کو دوبارے پالے تو اس میں ناکامی کا کیا سوال ۔

دریا کے دونوں طرف ساحل ہوتے ہیں۔ اگر آدمی آگے نہ بڑھ سکے تو پیچھے لوٹ کر بھی وہ ایک ساحل کو پالے گا ۔ یہی معاملہ زندگی کے سفر کا بھی ہے۔ یہاں بھی سفر کے دونوں طرف ساحل ہیں، ایک مقام وہ ہے جدھر آپ بڑھنا چاہتے ہیں۔ دوسرا مقام وہ ہے جس کو چھوڑ کر آپ آگے بڑھے تھے۔ اگر آپ اگلے مقام تک نہ پہنچ سکیں تو پیچھے لوٹ آئیے۔ کیونکہ یہاں بھی ایک مقام آپ کا انتظار کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ہر وقت دو امکانات کے درمیان ہوتا ہے۔ مگر اکثر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ ایک امکان کو کھو کر وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دوسرا امکان بھی ان سے کھویا جا چکا ہے ۔

کسی کا قول ہے’’:جو سورج کل صبح کو نکلا تھا وہی آنے والے دن کو دوبارے چمکنے والا ہے‘‘۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ گزرے ہوئے وقت کا ماتم کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ آنے والے وقت کا استعمال کیا جائے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس حکمت کا لحاظ کرتے ہوں۔

ایک طالب علم دسواں پاس کر چکا تھا۔ اس کے بعد اس نے گیارھویں درجہ کا امتحان دیا۔ وہ اس امتحان میں فیل ہو گیا۔ اس کے بعد اس پر اتنی مایوسی چھائی کہ اس نے خود کشی کرلی۔اس کو یاد نہ رہا کہ اگر وہ علم کی گیارھویں سیڑھی تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے تو اس سے کیا ہوا۔ دسویں سیڑھی پر تو اب بھی اس کے پاؤں جمے ہوئے ہیں ۔ اگر وہ پیچھے لوٹ آتا تو وہ  دسویں پاس کی حیثیت سے بھی دنیا میں اپنی جگہ بنا سکتا تھا۔ یا دوبارے محنت کر کے گیارھویں درجہ کے امتحان میں کامیابی حاصل کر سکتا تھا۔ مگر اس کی مایوسی کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ صرف اگلا کنارہ یاد رکھ سکا۔ اس کے پیچھے بھی ایک کنارہ تھا مگر وہ اس کو بھول گیا۔ اگر وہ کچھ اور نہ کرتا، صرف اپنے پیچھے کی طرف لوٹ آتا تو وہ دیکھتا کہ ایک محفوظ ساحل اس کا انتظار کر رہا ہے ۔ مگر اس نے صرف اپنے آگے دیکھا، وہ اپنے پیچھے نہ دیکھ سکا، نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے زندگی کے عین کنارے کھڑے ہو کر اپنے کو زندگی سے محروم کر لیا۔

ناکامی کے واقعات ہر آدمی کی زندگی میں پیش آتے ہیں اور یہ بالکل فطری بات ہے کہ آدمی جب ناکام ہو تو اس کے دل کو جھٹکا لگے۔ اپنی غلطیوں کا احساس کر کے اس کو سخت شرمندگی لاحق ہو۔ ناکامی کا یہ احساس اس وقت بہت مبارک ہے جب کہ وہ نیک، زیادہ صحیح جدو جہد کے لیے آدمی کو اکسائے ۔ لیکن ناکامی کا احساس اگر صرف افسوس کرنے اور اپنے کو گھلانے کے ہم معنی بن جائے تو یہ ایک ناکامی کے بعد اپنے کو دوسری اور زیادہ بری ناکامی کے حوالے کرنا ہے۔ یادرکھیے جونا کام نہ ہو وہ ابھی زندگی میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور جو نا کامی سے صرف کڑھن لے کر لوٹا اس نے زندگی کو پاکر دوبارے زندگی کو کھو دیا۔ پامر کا یہ قول نہایت درست ہے کہ — ’’اصلاح کی تدبیر کیے بغیر نادم ہونا ایسا ہی ہے جیسے سوراخ بند کیے بغیر جہاز میں سے پانی نکالنا‘‘۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion