علم کی اہمیت
دنیا کی تمام دولتوں میں سب سے بڑی دولت علم ہے ، اس دنیا میں علم سے زیادہ بڑی اور کوئی دولت نہیں، ایک مفکر کا قول ہے کہ علم ایک معمولی آدمی کو غیر معمولی آدمی بنا دیتا ہے:
Learning makes a man superman.
جانور اور انسان میں یہ فرق ہے کہ جانور کی معلومات محدود ہوتی ہیں۔ جانور کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی معلومات میں اضافہ کر سکے۔ اس کے مقابلے میں انسان کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی معلومات میں اضافہ کرتا رہتا ہے، اس معاملے میں انسانی دماغ کی صلاحیت لامحدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان آخر عمر تک اپنی معلومات کو بڑھاتا رہتا ہے۔ دماغ کی کوئی حد نہیں، اس لیے اضافہ معلومات کی بھی کوئی حد نہیں۔
انسانی شخصیت کی تکمیل میں سب سے زیادہ حصہ اسی علم کا ہے۔ یہ دراصل علم ہی ہے جو ایک عام آدمی کو عظیم آدمی بناتا ہے، جو ایک معمولی انسان کو غیر معمولی انسان بنادیتا ہے۔
علم کے ذریعہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اپنی شخصیت کی توسیع کر سکے۔ وہ گزری ہوئی تاریخ کو کتابوں میں پڑھ کر جان لے۔ وہ مطالعہ کر کے دنیا بھر میں ہونے والے واقعات سے باخبر ہو جائے۔ علم کے ذریعہ آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ باتوں کا تجزیہ کر کے نئی نئی حقیقتیں دریافت کرے۔ وہ ماضی اور حال سے سبق لے کر مستقبل کا اندازہ کر سکے۔ وہ عالمی دماغوں کے افکار کو جان کر تاریخ کے اگلے زینہ پر قدم رکھ سکے۔
علم آدمی کو حیوانیت کے درجہ سے اٹھا کر حقیقی انسانیت کے درجہ پر پہنچاتا ہے۔ علم آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ساری دنیا سے ذہنی غذا لے کر زیادہ بہتر طور پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ وہ اپنی زندگی کی زیادہ بہتر اور زیادہ کامیاب منصوبہ بندی کر سکے۔ علم کے بغیر ہر آدمی غیر کامل انسان ہے اور علم کے ساتھ ہر آدمی کامل انسان۔
