کام سے پہلے کام کی بنیاد تیار کیجیے

علی گڑھ میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا قیام 1875ء میں ہوا۔ 1920ء میں مسلم یونیورسٹی وجود میں آئی۔ مگر مسلمانوں کے اس سب سے بڑے تعلیمی ادارہ میں تجارتی تعلیم (کامرس) کا شعبہ پہلی بار 1945 میں قائم ہو سکا۔ یعنی ادارہ کے ابتدائی قیام کے 70 سال بعد۔

یونیورسٹی میں تجارتی شعبہ کے قائم ہونے کا لطیفہ بڑا سبق آموز ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر ضیاء الدین(سابق وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی) مجوزہ میڈیکل کالج کے چندہ کے لیے مختلف شہروں کا دورہ کر رہے تھے۔ اس سلسلہ میں وہ کان پور پہنچے۔ وہاں چندہ کی مہم کے دوران ایک تاجر نے پوچھا’’آپ کو اپنے میڈیکل کالج کے لیے سب سے زیادہ چندہ کس طبقہ سے ملا‘‘ ڈاکٹر ضیاء الدین نے بتایا کہ تاجروں سے۔ تاجر نے کہا: جب قومی منصوبوں میں زیادہ تعاون آپ کو تاجروں سے ملتا ہے تو قوم کو تجارتی ترقی کی راہ پر لانے کے لیے آپ اپنی یونیورسٹی میں تجارتی تعلیم کا شعبہ کیوں نہیں کھولتے۔ اس واقعہ سے سابق وائس چانسلر کو احساس ہوا اور واپس آکر انہوں نے اس کی کوشش شروع کی یہاں تک کہ 1945 میں پہلی بار مسلم یونیورسٹی میں کامرس کا شعبہ کھولا گیا۔

یہ واقعہ اگرچہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر صرف جزئی طور پر صادق آتا ہے۔ مگر ہماری عام قیادت کی وہ مکمل تصویر ہے۔ ہمارے لیڈروں کا یہ حال ہے کہ ان کی ساری بنیاد قومی چندہ پر قائم ہے۔ وہ آئے دن قوم سے چندہ مانگنے کے لیے نئی نئی اسکیمیں لے کر اٹھتے رہتے ہیں۔ مگر یہ لیڈر اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے کہ وہ قوم کو چندہ دینے کے قابل بنانے کے لیے بھی ان کے درمیان کوئی منصوبہ چلائیں اور اس کے لیے جدوجہد کریں۔

 کسی منصوبہ کی کامیابی سے پہلے یہ ضروری ہے کہ قوم کو اس کے لیے تیار کیا جا چکا ہو۔ اگر آپ ’’مسلمانوں کا انگریزی اخبار‘‘ وجود میں لانا چاہتے ہیں تو یہ اسی وقت ممکن ہے کہ مسلمانوں میں ایک بڑا طبقہ ایسا پیدا ہوگیا ہو جو انگریزی میں اخبار کے مطالعہ کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایک مسلم یونیورسٹی حقیقی معنوں میں مسلم یونیورسٹی رہے تو یہ اسی وقت ممکن ہے کہ آپ مسلم نوجوانوں میں محنت اور جدوجہد کا اتنا حوصلہ پیدا کر دیں کہ وہ امتیازی لیاقت پیدا کر کے مسلسل اس پر اپنا قبضہ باقی رکھ سکیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اردو زبان باقی رہے تو یہ اسی وقت ممکن ہے کہ عوام میں اردو لٹریچر کی طلب اتنی بڑھ جائے کہ خود اپنے بل پر اس کے تحفظ کا انتظام ہو جائے۔

 یہی معاملہ ملی تعمیر کے تمام شعبوں کا ہے۔ اگر آپ ملت کو اوپر اٹھانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے فرد کو اٹھانے کا انتظام کیجیے۔ اگر آپ ملی ترقی کے لیے کوئی اقدام کرنا چاہتے ہیں تو اس سے پہلے ابتدائی سطح پر ضروری تیاریاں کر لیجیے۔’’چھت‘‘ والے آپ اسی وقت بن سکتے ہیں جب کہ ’’بنیاد‘‘ کی سطح پر آپ نے اپنے حصہ کا کام پورا کر لیا ہو۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion