جاحظ اور حریری
جاحظ (255-159) بصرہ میں پیدا ہوا۔ وہ اپنے وقت کا زبردست عالم اور بے مثل ادیب تھا۔ علم کلام میں اس نے ایک مستقل مدرسہ فکر پیدا کیا جس کو جاحظیہ کہا جاتا ہے۔ اس نے مختلف فنون پر 200 کتابیں لکھی ہیں۔ استاذ ابن العمید (360ھ) نے اس کی تصنیفات کے بارے میں کہا ہے:وہ اولاً عقل اور ثانیاً ادب سکھاتی ہیں— كُتُبُ الجَاحِظِ تُعَلِّمُ العَقْلَ أَوَّلًا، وَالأَدَبَ ثَانِيًا (وفیات الاعیان لابن خلکان، جلد 3، صفحہ 473)۔ اس نے حیوانات، نباتات، اخلاقیات، اجتماعیات اور دوسرے موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے۔ اس کی شائع شدہ کتابیں حسب ذیل ہیں:
کتاب البیان التبیین
کتاب الحيوان
کتاب المحاسن والاضداد
كتاب البخلاء
علم وادب کے کمال کے باوجود وہ نہایت بد شکل انسان تھا۔ بے ڈول جسم ، بھدا چہرہ، بد وضع ابھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ وہ دیکھنے والے کو عجیب الخلقت دکھائی دیتا تھا۔ اس کی آنکھوں کا ابھار اتنا نمایاں تھا کہ اس کی وجہ سے اس کا لقب جاحظ (ابھری آنکھوں والا) پڑگیا۔ اس کا اصل نام ابو عثمان عمرو بن بحر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ خلیفہ متوکل باللہ نے جب اس کے علم و ادب کی تعریف سنی تو اس کو اپنے لڑ کے کا اتالیق بنانے کے لیے:سُرَّمَنْ رَأَى (عراق) اپنے پاس بلایا۔ مگر جب اس کی بھدی صورت دیکھی تو اس کو سخت کراہت ہوئی۔ اس نے جاحظ کو دس ہزار درہم دے کر واپس کر دیا۔
مشہور ادیب حریری (646-516ھ) بھی نہایت بد شکل اور پستہ قد آدمی تھا۔ ایک آدمی اس کی شہرت سن کر دور سے اس سے ادب سیکھنے آیا مگر اس کی صورت دیکھ کر بھڑک گیا۔ اس پر حریری نے اس کو کچھ اشعار لکھوائے جس کا ایک مصرعہ یہ تھا— مَثَلُ المُعَيْدِيِّ: أَسْمِعْ بِي وَلَا تَرَنِي ( میں معیدی کی طرح ہوں، میری باتیں سنو شکل نہ دیکھو)۔
