قرآن کا رول
قرآن کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ کی دنیا آج کی دنیا سے بہت مختلف تھی۔ دونوں زمانوں کے اس فرق پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس فرق کو پیدا کرنے کا بہت زیادہ تعلق اس فکری انقلاب سے ہے جو قرآن اور قرآنی تحریک کے ذریعہ انسانی تاریخ میں ظہور میں آیا۔
اس وقت عرب میں ہر قسم کے سیاسی اور سماجی اور اقتصادی مسائل موجو دتھے۔ مگر قرآن میں لوگوں کو جو پہلی تعلیم دی گئی وہ نہ سیاسی تھی اور نہ اقتصادی۔ بلکہ وہ یہ تھی کہ — پڑھو۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قرآن میں یہ بتایا گیا کہ اصلاحی تحمل کا حقیقی آغاز کیا ہے۔ وہ علم ہے۔ علم یا شعور کی تعمیر وہ بنیادی عمل ہے جہاں سے اصلاحی کوششوں کا آغاز ہوتا ہے۔ یہی واحد نتیجہ خیز طریقہ ہے۔ اس کے سوا کہیں اور سے آغاز کیا جائے تو وہ کبھی کوئی گہرا نتیجہ پیدا نہیں کرسکتا۔
قرآن کے بعد کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہی صحیح ترین نقطۂ آغاز تھا۔ چنانچہ اولا ًعرب میں اس کے نتیجہ میں ایک مکمل انقلاب آیا اور اس کے بعد ساری آبا د دنیا تک اس کے اثرات پھیل گئے۔ علم سے آغاز کرنے کے نتیجے میں بقیہ تمام چیزیں اپنے آپ ملتی چلی گئیں۔
دوسری چیز جس پر قرآن میں زور دیا گیا وہ تھی فکری آزادی۔ اُس دور میں ہزاروں برس سے ساری دنیا میں شاہی جبر کا نظام چلا آرہا تھا۔ لوگ مجبور تھے کہ بادشاہ کی سوچ کے مطابق سوچیں اور بادشاہ کے طرز فکر کو آخری برحق چیز سمجھیں۔ جبر کے اس نظام نے ہزاروں سال سے انسان کی فکر ہی ترقی کا راستہ بند کر رکھا تھا۔ ہر قسم کی علمی و فکری ترقی اسی وقت ہوتی ہے جب کہ لوگوں کو آزادانہ طور پر سوچنے اور آزادانہ طور پر رائے بنانے کا موقع ہو۔ اور یہی چیز قدیم زمانہ میں لوگوں کو حاصل نہ تھی ۔
قرآن میں اس فکری جبر کو فتنہ کہا گیا ہے (2:193)۔ قرآن سے متاثر ہونے پر قرآن نے یہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ فکری جبر کے نظام کے خلاف جد وجہد کر کے اس کو ہٹائیں۔ اور اس کی جگہ فکری آزادی کا نظام جاری کریں۔ یہ انقلاب بھی قرآن کے زیر اثر پوری طرح آیا ۔ قرآن نے ایسا ماحول پیدا کیا کہ آدمی آزادانہ طور پر اپنے ذہن کو استعمال کر سکتا تھا۔ ایک عام آدمی بھی خلیفہ یا حکمراں کے خلاف بلا جھجک بول سکتا تھا۔ اس طرح تا ریخ میں ایک نیا فکری عمل شروع ہوا جو ترقی کرتے کرتے موجودہ فکری آزادی کے دور تک پہنچا۔
قرآن سے پہلے نیچر کو مقدس سمجھا جاتا تھا اور اس کو ایک قابل احترام چیز سمجھا جاتا تھا۔ اس ذہن نے نیچر کی تحقیق کرنے اور اس کو کنٹرول کرنے کا دروازہ بند کر دیا۔ قرآن نے لوگوں کو یہ ذہن دیا کہ نیچر (فطرت) خود انسان ہی کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس کی جانچ کرنے اور اس کو بھر پور طور پر اپنے فائدہ کے لیے استعمال کرے (الجاثیہ،45:13)۔
قرآن کی اس تعلیم نے بھی لوگوں کو گہرائی کے ساتھ متاثر کیا۔ چنانچہ تاریخ میں پہلی بار نیچر (فطرت) کو مسخر کرنے کا ذہن پیدا ہوا۔ لوگ نیچر کی تحقیق کرنے لگے۔ یہاں تک کہ صدیوں کے عمل کے بعد وہ انقلاب ظہور میں آیا جس کو آج سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔
قرآن سے پہلے انسان اونچے نیچے طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ قرآن نے نہایت طاقت کے ساتھ اعلان کیا کہ تمام انسان یکساں طور پر خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ تمام انسان خدا کی نظر میں ایک ہیں۔ انسانی برابری کے لیے قرآن کی اس آواز نے نہایت گہرائی کے ساتھ لوگوں کو متاثر کیا۔ لوگوں کی سوچ بدلنے لگی۔ یہ عمل صدیوں تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ ایک نیا سماجی دور دنیا میں آگیا جب کہ تمام انسان برابر کی نظر سے دیکھے جائیں ۔ تمام انسانوں کے لیے یکساں حقوق تسلیم کر لیے جائیں۔
قرآن سے پہلے ساری دنیا میں کسی مقصد کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ جنگ تھا۔ چنانچہ مستقل طور پر ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان جنگ جاری رہتی تھی ۔ قرآن نے خدا کو خدائے رحمت بتایا۔ رسول کو رسول رحمت کی حیثیت سے پیش کیا۔ اس طرح رحمت اور صلح اور صبر اور اعراض کو فروغ دے کر ثابت کیا کہ جنگ کی طاقت کے مقابلہ میں امن کی طاقت زیادہ ہے۔ اس طرح قرآن نے تاریخ میں پہلی بار پر امن جدوجہد کا دروازہ کھولا ۔
پیغمبر اسلام نے اس طریقہ کو استعمال کر کے ایک ایسا عظیم انقلاب بر پا کیا جس میں خون اتناکم بہایا گیا کہ عملاً اس کو غیر خونی انقلاب کہا جا سکتا ہے۔
اس طرح تاریخ میں ایک نئی فکری تحریک چل پڑی جو تشدد کے بجائے عدم تشدد کی بنیاد پر بنی تھی۔ یہ تحریک تاریخ میں چلتی رہی ۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں پرامن جدوجہدکے اصول کو عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا ۔
قرآن میں کثرت سے ایسی آیتیں ہیں جن میں تفکر اور تدبر پر زور دیا گیا ہے۔ یعنی انسانوں سے کہا گیا ہے کہ تم سوچو اور اپنی ذہنی صلاحیت کو کام میں لاکر زمین و آسمان کےرازوں کو دریافت کرو۔
قرآن نے لوگوں کے بند ذہن کو کھولا۔ ان کے اندر تقلیدی فکر کی جگہ اجتھادی فکر پیدا کی۔ اس طرح لوگوں کا ذہنی افق وسیع ہوا۔ ایک طرف ان کا ذہن جاگ اٹھا۔ دوسری طرف وہ کائنات کے چھپے ہوئے بھیدوں کو کھولنے اور ان کو استعمال کرنے لگے۔
یہ فکری انقلاب پہلے مکہ میں پیدا ہوا ۔ پھر وہ مدینہ اور دمشق میں پہنچا۔ اس کے بعد اس کا مرکز بغداد بنا۔ پھر وہ آگے بڑھا اور اسپین میں اس نے زبر دست ترقی کی۔ اس کے بعد وہ یورپ کے دوسرے ملکوں میں داخل ہوا یہاں تک کہ ساری دنیا میں اس کے اثرات پھیل گئے۔
عالمی فکری تاریخ پر قرآن کی گہری چھاپ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو شامل کیے بغیر انسانیت کے فکری سفر اور اس کے ارتقاء کی تاریخ کو سمجھا نہیں جاسکتا۔
______________________________________________
نوٹ:یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 24ستمبر1996 کونشر کی گئی۔
