خدا کی مدد
عالم اسلام پر مغرب کے حملہ کا آغاز سولھویں صدی عیسوی میں ہوتا ہے، جب کہ پرتگالیوں نے یورپ اور ہندستان کے درمیان سمندری راستہ دریافت کر کے بحر عرب پر قبضہ کر لیا اور عربوں کی تجارت اس علاقہ سے کاٹ دی۔ سترہویں صدی میں اسٹیم انجن کی دریافت اور اٹھارویں صدی میں جدید ٹکنالوجی کا وجود میں آنا یورپ کے لیے طاقت وقوت کا نیا میدان کھل جانے کے ہم معنی تھا۔ اس کے بعد 1869 میں جب ہر سوئز بنی اور اس نے بحر روم اور بحر احمر کے درمیان سیدھا سمندری راستہ کھول دیا تو عالم اسلام پر مغرب کے غلبہ کا عمل اپنی آخری انتہا کو پہونچ گیا۔ انیسویں صدی کے آخر تک ایشیا اور افریقہ کا کوئی مسلم ملک نہ تھا جو بالواسطہ یا براہ راست طور پر مغربی استعمار کے قبضہ میں نہ آچکا ہو ۔
مادی قوت کے اعتبار سے مسلم اقوام اور مغربی اقوام کا فرق صرف مقداری نہ تھا، بلکہ نوعی تھا ۔یعنی عالم اسلام اگر دستی ہتھیاروں ’’سے مسلح تھا تو عالم مغرب‘‘ دور مار ہتھیاروں سے۔ ایسی حالت میں لوگوں کا یہ تاثر بظاہر بیجانہ تھا کہ مغرب کا غلبہ اب ختم ہونے والا نہیں، مگر قدرت کا فیصلہ ظاہر ہوا۔ دوسری جنگ عظیم ( 1939-41) میں مغربی طاقتیں خود آپس میں لڑ گئیں۔ تاریخ انسانی کی اس سب سے زیادہ بھیانک جنگ نے ان کو اتنا کمزور کر دیا کہ ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ ایشیا اور افریقہ کے مقبوضات سے واپس چلی جائیں۔
تاہم ایک شدید تر محاذ ابھی باقی تھا۔ یہ مغرب کی صنعتی برتری تھی۔ مسلم اقوام اپنے محدود وسائل اور ناکافی ٹیکنکل صلاحیت کے ساتھ اس میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ مگر ایلون ٹافلر کے الفاظ (فیوچر شاک، 1970) میں سوال یہ تھا کہ مسلم قو میں جب بہزار دقت اپنے آپ کو انڈسٹریل ایج میں پہنچانے میں کامیاب ہوں گی، اس وقت مغرب سپرانڈسٹریل ایج میں پہنچ چکا ہوگا۔ عین اس وقت’’پٹروڈالر‘‘ ایک خدائی کرشمہ بن کر ظاہر ہوا اور اس نے نہ صرف مسلم اقوام کی صنعتی پسماندگی کی تلافی کر دی بلکہ بہت سے پہلوؤں سے ان کو جدید اقتصادی دنیا میں برتری عطا کر دی۔
حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ کتاب محفوظ کی حامل ہے۔ اس کے طفیل میں اللہ تعالیٰ نے اس کی دنیوی حفاظت کی ذمہ داری لے لی ہے۔ اسی خدائی حفاظت نے تاتاری حملے اور صلیبی لڑائیوں کے وقت مسلمانوں کو محفوظ رکھا۔ اور اسی نے موجودہ زمانہ میں ان کو جدید طاقتوں کا شکار ہونے سے بچایا ہے۔
تاہم حفاظت کا یہ معاملہ صرف دنیوی پہلو سے ہے۔ آخرت کی نجات کے لیے اللہ تعالیٰ نے کسی سے اس قسم کا کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔ آخرت کی نجات کا تمام تر انحصار، ذاتی اصلاح کے بعد، اس پر ہے کہ ہم خدا کی امانت کو اس کے دوسرے بندوں تک پہنچاتے ہیں یا نہیں۔ رسول نے جس طرح اپنے زمانہ کے لوگوں پر خدا کے دین کی گواہی دی، ٹھیک اسی طرح ہر دور کے مسلمانوں کو اپنے زمانہ کے لوگوں کے سامنے اس کا گواہ بن کر کھڑا ہونا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو صرف ذاتی اصلاح بھی ان کو خدا کے یہاں بازپُرس سے نہیں بچا سکتی۔
ختم نبوت کے بعد امت مسلمہ نبوت کی قائم مقام ہے۔ اس کی کامیابی یا ناکامی اسی کار شہادت کی ادائیگی پر موقوف ہے جس پر نبی کا معاملہ موقوف ہوتا تھا۔ نبی اگر خدا ئی پیغام رسانی کے کام کو انجام نہ دے تو خدا کی نظر میں اس کی حیثیت رسالت ہی متحقق نہیں ہوتی تھی (مائدہ5:67) اسی طرح ہم اگر اپنے زمانہ کی قوموں پر دین کی گواہی دینے کا فریضہ ادا نہ کریں تو اندیشہ ہے کہ ہمارا امت محمدی ہونا ہی مشتبہ نہ ہو جائے اور آخرت میں ہم ناکام و نامراد قرار پائیں۔ اگر تمام مسلم قومیں اس کام کے لیے نہیں اٹھتیں تو کم سے کم کسی ایک قوم یا کسی ایک جماعت کا دعوت الی اللہ کے اس کام کے لیے اٹھنا ضروری ہے۔
قدیم زمانہ میں جب کہ سیاست کی بنیاد مذہب پر ہوتی تھی۔ ایک بے ضرر دعوتی تحریک کو بھی حکمراں طبقہ اپنے خلاف ایک خطرہ سمجھنے لگتا تھا۔ اور بہت جلد اس کو مٹانے کے لیے کھڑا ہو جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں اس مقصد کے لیے اٹھنے والے لوگ آروں سے چیرے گئے۔ اور آگ میں جلائے گئے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مذہب اور سیاست کی علیٰحدگی نے ہم کو دعوتی کام کا انتہائی قیمتی موقع فراہم کر دیا ہے۔ اگر ہم مناظرہ بازی سے بچیں اور سیاسیات میں الجھنے کی غلطی نہ کریں تو آزادی فکر اور سائنسی طریق مطالعہ کے اس زمانہ میں ہر قسم کے خطرہ سے محفوظ رہ کر ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔
مزید یہ کہ جدید افکار نے اسلام کو لوگوں کے لیے قابل فہم بنانے کے بہت سے نئے امکانات کھول دیے ہیں، جو اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھے۔ ان امکانات کو استعمال کیا جائے تو اسلام کو معجزاتی استدلال کے ساتھ جدید دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔
