اصل عطیہ
بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں کہ وہ بظاہر سادہ شادی کرتے ہیں۔ وہ نکاح کے مخصوص دن اپنی لڑکی کو زیادہ سامان نہیں دیتے۔ مگر بعد کو وہ سب کچھ مزید اضافے کے ساتھ اس کو دےدیتے ہیں جو ایک دنیا دار آدمی نکا ح کے وقت نمائش کرکے اپنی لڑکی کو دیتاہے۔
مگر یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق نہیں۔ حضرت فاطمہ رسول اللہؐ کی محبوب صاجزادی تھیں۔مگرآپ نے ان کو نہ نکاح کے دن گھر بنانے کے لیے سازو سامان کا ڈھیر دیا اور نہ آپ نے ایسا کیا کہ اوّلا سادہ انداز میں نکاح کردیںاور اس کے بعد خاموشی کے ساتھ ہر چیز صاحبزادی کے گھر پہنچا دیں۔ حتی کہ حضرت فاطمہ نے درخواست کی تب بھی آپ نے دینی نصیحت کے سوا ان کے لیے اورکچھ نہ کیا۔
حضرت فاطمہ کے بارے میں ایک روایت مختلف الفاظ میں حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ کو گھر کا سارا کام خود کرنا پڑتا تھا۔ وہ اس سے بہت پریشان تھیں۔ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے۔ حضرت علی نے اپنی اہلیہ حضرت فاطمہ سے کہا کہ تمہارے والد کے پاس گرفتار شدہ غلام آئے ہیں۔ تم ان کے پاس جاؤ اور اپنی خدمت کے لیے ایک غلام مانگ لو۔
حضرت فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ آپ نے کہا کہ میری بیٹی ، تم کس ضرورت سے آئی ہو۔ انھوں نے کہا کہ آپ کو سلام کرنے کے لیے۔حضرت فاطمہ شرم وحیاء کی وجہ سے آپ سے سوال نہ کرسکیں اور سلام کرکے واپس آگئیں۔ اس کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے گھر پر آئے۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی اس کے الفاظ ایک روایت کے مطابق یہ تھے:
فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ لَقَدْ مَجِلَتْ يَدَاي مِنَ الرَّحَى، أَطْحَنُ مَرَّةً، وَأَعْجِنُ مَرَّةً، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنْ يَرْزُقْكِ اللهُ شَيْئًا يَأْتِكِ، وَسَأَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ:إِذَا لَزِمْتِ مَضْجَعَكِ، فَسَبِّحِي اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَذَلِكَ مِائَةٌ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنَ الْخَادِمِ (مسند احمد،حديث نمبر26551)۔ يعني، حضرت فاطمہ نے کہا کہ اے خداکے رسول، میرے دونوں ہاتھوں میں چھالے پڑگئے ہیں۔کبھی چکی پیستی ہوں اور کبھی گوندھتی ہوں (اس لیے مجھے ایک خادم دے دیجئے) ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اﷲتعالیٰ نے تمہارے لیے جو رزق مقدر کیا ہوگاوہ تمہارے پاس آجائے گا۔ اور میں تم کو اس سے بہترچیز بتاتاہوں۔ تم جب سونے کے لیے جاؤ تو 33 بار اللہ کی تسبیح کرو۔ اور 33 بار اﷲکی تکبیر کرو۔ اور34 بار اﷲ کی حمد کرو۔ یہ کُل سَو (100) ہوئے۔ یہ عمل تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔
جو لوگ اپنی لڑکیوں کو بڑے بڑے جہیز دینے کے لیے حضرت فاطمہ کے نکاح کی مثال پیش کرتے ہیں کیا ان میں کوئی ہے جو ایسا کرسکے کہ اس کی لڑکی اس کو اپنے ہاتھ کے چھالے دکھائے اور وہ اس کو ذکر اور تسبیح کی تلقین کرے۔ لڑکی اس کو اپنی مصیبتیں بتائے اور باپ یہ کہے کہ بیٹی تم اﷲ سے دعا کرلیا کرو۔
