بڑھیا کی دلیری

عباسی خلیفہ مامون الرشید (107-218ھ) اپنے سیاسی مخالفین کے لیے نہایت بےرحم تھا مگر عام لوگوں کے ساتھ وہ ہمیشہ ہمدردی سے پیش آتا تھا۔ ایک روز اس کے دربار میں بغداد کی ایک بوڑھی عورت آئی۔ اس نے خلیفہ مامون سے شکایت کی کہ میں ایک غریب عورت ہوں۔ میرے پاس ایک زمین تھی جس کو ایک ظالم نے مجھ سے چھین لیا۔ میں نے کتنی ہی فریاد کی مگر اس نے نہیں سنا۔ میری داد رسی کی جائے۔ مامون نے پوچھا: وہ کون ظالم ہے جس نے تمہارے ساتھ ایسا سلوک کیا ہے، بڑھیا نے اشارہ سے بتایا کہ وہ وہی ہے جو اس وقت آپ کے پہلو میں بیٹھا ہوا ہے۔ مامون نے دیکھا تو وہ اس کا لڑکا عباس تھا۔ مامون نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ شہزادہ کو پکڑ کر اٹھائے اور اس کو لے جا کر بڑھیا کے برابر کھڑا کر دے۔ وزیر نے ایسای ہی کیا۔ اب مامون نے حکم دیا کہ دونوں اپنا اپنا بیان دیں۔

شہزادہ عباس رک رک کر آہستہ آواز میں بولتا تھا۔ لیکن بڑھیا بلند آواز میں بول رہی تھی۔ وزیر نے بڑھیا کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ آہستہ بولو، خلیفہ کے سامنے زور زور سے بولنا آداب کے خلاف ہے۔ مامون نے اپنے وزیر کو روکا اور کہا: اس کو آزاد چھوڑ دو، جس طرح چاہے اسے کہنے دو۔ سچائی نے بڑھیا کی زبان تیز کر دی ہے اور شہزادہ کو اس کے جھوٹ نے گونگا بنا دیا ہے۔ بڑھیا کا دعویٰ صحیح تھا۔ چنانچہ مقدمہ کا فیصلہ بڑھیا کے حق میں ہوا اور اس کی زمین شہزادہ سے لے کر اس کو واپس کر دی گئی (عقد الفرید لابن عبد ربہ، جلد 1، صفحہ 28)۔

سچائی اپنی ذات میں ایک طاقت ہے۔ سچائی پر ہونے کا احساس آدمی کو دلیر بنا دیتا ہے۔ سچا آدمی بے دھڑک ہو کر بولتا ہے۔ سچے آدمی کا بیان تضاد اور تصنع سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے کلام میں کوئی جھول نہیں ہوتا۔ سچا آدمی بولتا ہے تو اس کے چہرے پر احساس جرم کا کوئی نشان نہیں ہوتا۔ اس کی آواز جھجک سے خالی ہوتی ہے۔ اس بنا پر سچے آدمی کی آواز میں قوت آ جاتی ہے۔ وہ سننے والے کو مفتوح کر لیتی ہے۔

اس کے برعکس، جس آدمی کا معاملہ جھوٹ پر مبنی ہو وہ کبھی قوت کے ساتھ نہیں بول سکتا۔ وہ ہمیشہ احساس جرم میں مبتلا رہتا ہے جس کا اثر اس کے لہجہ پر آ جاتا ہے۔ اس کا چہرہ بتا دیتا ہے کہ وہ بے یقینی کے ساتھ بول رہا ہے۔ جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش میں اس کے بیان کے اندر تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔ زبان رکھنے کے باوجود وہ بے زبان ہو جاتا ہے۔

اچھا گمان رکھیے

خلیفہ منصور عباسی وہ شخص ہے جس نے بغداد کا شہر بنایا۔ عباسی دور میں بغداد کو اتنی ترقی ہوئی کہ وہ دنیا کا سب سے عظیم شہر بن گیا۔

 بغداد جیسے ایک شہر کی تعمیر بڑا مہنگا منصوبہ تھا۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد خلیفہ منصور کو اس کے اخراجات بہت گراں گزرنے لگے۔ یہ دیکھ کر اس کے ایک درباری ابو ایوب موریانی نے خلیفہ کو مشورہ دیا کہ کسریٰ کے محل جو بغداد سے کچھ فاصلہ پر ہیں، ان کو تو ڑدیا جائے اور ان کا اینٹ پتھر بغداد کی تعمیر میں استعمال کیا جائے۔

 خلیفہ منصور کے وزیر خالد بن برمک کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے کہا کہ’’امیر المومنین، ایسا نہ کیجیے۔ کسریٰ کے محل اسلام کی فتح کی نشانی ہیں۔ ان کو دیکھ کر ہماری نسلوں کے اندر اسلام کی عظمت کا یقین بڑھتا ہے۔ مزید یہ کہ اس کو توڑنے کا جو خرچ ہے وہ اس سے حاصل ہونے والے فائدے سے زیادہ ہے۔‘‘ مگر خلیفہ منصور نے خالد بن برمک کی رائے کی پروا نہیں کی۔ اس نے کہا’’تم کسریٰ کے محل کو توڑنے کی مخالفت اس لیے کر رہے ہو کہ تمہارے اندر ابھی تک عجمیت کا تعصب پایا جاتا ہے، خالد بن برمک عجمی(ایرانی) تھا، خلیفہ منصور نے اس کی رائے کو اس کے ایرانی النسل ہونے کے پس منظر میں دیکھا اور سمجھا کہ وہ کسریٰ کا محل توڑنے کی مخالفت اس لیے کر رہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کسریٰ کی عظمت کا نشان باقی رہے۔

 خلیفہ منصور نے کسریٰ کے محل کو توڑنے کا حکم دے دیا۔ مزدوروں اور کارکنوں کی ایک فوج اس کا م پر لگ گئی کہ وہ محل کو توڑے اور اس کے پتھروں کو گدھوں اور خچروں پر لاد کر بغداد لے آئے۔ مگر بہت جلد منصور کو اندازہ ہوا کہ اس طرح جتنا عمارتی سامان ملتا ہے اس سے زیادہ اس کے اوپر خرچ ہو رہا ہے۔ چنانچہ اس نے درمیان ہی میں اس کام کو روک دیا۔ (تاریخ الطبری، جلد 7، صفحہ 651-650)

کسی کے مشورہ کو مشورہ کی حیثیت سے دیکھیے، اس کو بدنیتی پر محمول نہ کیجیے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کا قیاس غلط ہو، اور مشورہ دینے والے نے واقعی وہ مشورہ دیا ہو، جو آپ کے لیے سب سے بہتر اور مفید ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion