راز کی حفاظت
عورت کے اوپر مرد کا دوسرا حق ان الفاظ میں بتایا گیا ہے:حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللهُ (4:34) ۔یعنی، صالح عورتیں مرد کے رازوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں، اس بنا پر کہ اﷲ نے ان کے رازوں کی حفاظت کی ہے۔
عورت مرد کا لباس ہو تی ہے۔ جس طرح لباس آدمی کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے اسی طرح عورت آدمی کے سب سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ میاں اور بیوی وہ واحد ساتھی ہیں جن کے لیے باہم ایک دوسرے کی شرمگاہوں تک کو بے نقاب کرنا جائزقر اردیا گیا ہے۔
اس تعلق اورنزدیکی کی وجہ سے یہ ہوتاہے کہ عورت آخری حد تک مرد کے رازوں سے واقف ہوجاتی ہے۔ وہ مرد کی انتہائی چھپی ہوئی باتوں تک سے آگاہ ہو تی ہے۔ یہ ایک نہایت نازک صورت حال ہے۔ ہر آدمی کے بہت سے چھپے ہوئے راز ہوتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ ان سے مطّلع ہوں۔ مگر ہر آدمی مجبور ہے کہ اس کی بیوی اس کی تمام چھپی ہوئی باتوں سے مطّلع ہوجائے۔ کوئی مرد اپنے رازوں کو اپنی بیوی سے چھپا کر نہیں رکھ سکتا۔ ایسا کرنا نہ تو مفید ہے اور نہ عملی طور پر ممکن ہے۔
اس کاحل اسلامی شریعت میں یہ نکالاگیا ہے کہ عورت کو خصوصی طور پر پابندکیا گیا ہے کہ وہ مرد کے رازوں کی حفاظت کرے۔ وہ کسی حال میں ان کو دوسروں کے اوپر نہ کھولے۔ اگر وہ مرد کے راز کو دوسروں کے اوپرکھولے گی تواس کو ڈرنا چاہیے کہ خدااس کے رازوں کو کھول دے۔ خدا اس کو آخرت میں بے نقاب کردے۔ اورکون ہے جو اس بے نقابی کا تحمل کرسکتا ہو۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جب دوآدمی ساتھ مل کر رہتے ہیں تو ان میں اختلاف اور شکایت کے واقعات بھی لازماً پیش آتے ہیں۔ اس حقیقت کو ملحوظ رکھا جائے توا س ہد ایت کا پورا مطلب یہ ہوگا کہ مرد سے شکایت ہوتب بھی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے رازوں کو کھولے، مرد سے اختلاف ہوتب بھی عورت کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ مرد کی چھپی ہوئی باتوں کو دوسروں کے سامنے بیان کرے۔
عورت مرد کی راز دار ہے، مزید یہ کہ اسے اس رازداری کو آخر وقت تک نبھا نا ہے، مرد سے شکایت کے واقعات پیش آنے کے بعد بھی اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ مرد کے راز کو کسی تیسرے شخص سے بیان کرنے لگے۔
