مشکل میں آسانی
قرآن کی سورہ نمبر94میں فطرت کے ایک عالمگیر اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا:اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (94:5-6)۔ یعنی، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
With every hardship there is ease,
With every hardship there is ease.
اس قرآنی آیت میں ایک ایسی سوچ کی تعلیم دی گئی ہے، جس کو برتر انداز فکر (high thinking) کہا جاسکتا ہے۔ یعنی مشکلات سےاوپراٹھ کرسوچنا۔اس کا مقصد آدمی کے اندر ایک ایسے طرز فکر کو پیدا کرنا ہے جو دشواریوں میں گھر کرنہ رہ جائے بلکہ دشواریوں سے باہر آکر سوچے۔جو آدمی اس برتر سوچ کا ثبوت دے وہ بہت جلد دریافت کرےگا کہ جہاں بظاہر صرف مسائل دکھائی دے رہے تھے وہاں ایسے مواقع بھی موجود تھے جنسے نہ صرف مسائل کو حل کیاجائےبلکہ اپنی ناکامی کودوبارہ کامیابی میں بدل لیا جائے۔
اس معاملہ کی بہت سی مثالیں ماضی اورحال میں موجود ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی میں وسط ایشیا کے وحشی قبائل جن کو منگول کہا جاتا ہے، اپنی کوہستانی بستیوں سےنکلےاورعباسی سلطنت کوختم کرکےسمرقندسے حلب تک تمام مسلم شہروں میں چھاگئے۔اس واقعہ کومؤرخ ابن اثیرنےایک ایسی آفت بتایا ہے جو تاریخ میں کبھی پیش نہیں آئی اور نہ شاید دوبارہ پیش آئے۔
گویا اپنے ظاہرکےاعتبارسےیہ ایک عظیم عسر(بہت بڑی مشکل)کامعاملہ تھا۔ مگر اس مشکل میں ایک آسان پہلونکل آیا۔وہ یہ کہ اس فوجی دراندازی کادوسرانتیجہ یہ ہواکہ مدعو داعی کی آبادیوں میں داخل ہوگیا۔ اس کےنتیجے میں یہ ہواکہ روزانہ مختلف صورتوں میں داعی اورمدعوکےدرمیان اختلاط(enter action) اوربحث وگفتگو (dialogue) ہونے لگا۔ یہ جنگ ابتداء میں قتل وخون دکھائی دیتی تھی مگربعدکےمرحلہ میں وہ اسلام کو موضوع بحث بنانےکاذریعہ ثابت ہوئی۔اس طرح ایک فطری نتیجے کےطورپرمسلمانوں کی طرف سے منگلولوں کےاوپراسلامی دعوت کاعمل(process)جاری ہوگيا۔اس کا نتیجہ یہ ہواکہ پچاس سال کےاندرمنگولوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔منگولوں کےساتھ جنگ میں بظاہرمسلمان ہارےتھےمگرعین اسی وقت اسلام نےشاندارکامیابی حاصل کرلی۔
اسی تاریخی حقیقت کوایک مغربی مؤرخ نےان الفاظ میں اداکیاہے۔مسلمانوں کے مذہب نےوہاں کامیابی حاصل کرلی جہاں ان کےہتھیارناکام ہوچکےتھے۔
The religion of Muslim have conquered where their arms had failed.
