پیغمبر کا کام

اسلام کا مشن ایک ہی مشن ہے۔ اور وہ ہے توحید کا پیغام لوگوں تک پہنچانا۔ ایک ایک شخص کو موحّد بنانے کی کوشش کرنا۔ یہی قدیم ترین زمانہ سے تمام نبیوں کا مشن تھا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام زمانوں میں توحید کی دعوت جان کی قربانی کی قیمت پر دینی ہوتی تھی۔ توحید کا پیغام لے کر اٹھنے والے آگ کے الاؤ میں ڈال دیے جاتے اور آروں سے چیر دیے جاتے۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قدیم زمانے میں شرک کو فکری غلبے کا مقام حاصل تھا۔ حتیٰ کہ سیاست کی بنیاد بھی شرک پر قائم تھی۔ قدیم زمانے کے بادشاہ ،لوگوں کو یہ باور کراکے ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ دیوتاؤں کی اولاد ہیں۔ ان کے اندار خدا حلول کر آیا ہے۔ اس لیے جب توحید کا داعی یہ آواز بلند کرتا کہ خدا صرف ایک ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، تو قدیم زمانے کے بادشاہوں کو یہ آواز براہ راست ان کے حق حکمرانی کو چیلنج کرنے والی نظر آتی تھی۔ اس میں انہیں اپنی مشرکانہ سیاست کی تردید دکھائی دیتی تھی۔ چنانچہ وہ اپنے سیاسی مفاد کی بنا پر توحید کے داعیوں کے دشمن بن جاتے اور بے رحمی کے ساتھ ان کو کچل دیتے۔

 اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ اس صورتِ حال کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ قرآن میں پیغمبر آخر الزمان اور آپ کے ساتھیوں کو سکھایا گیا کہ تم اس طرح دعا کرو:

 رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا۔ (2:286)خدایا ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تونے ہم سے پہلے کے لوگوں پر ڈالا تھا۔ یہ دعا کے انداز میں اس خدائی فیصلہ کا اظہار تھا کہ خدا انسانی تاریخ میں ایک نیا انقلاب لانے والا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اقتدار کا رشتہ شرک سے ٹوٹ جائے گا۔ اب حکومت ایک خالص سیاسی معاملہ ہوگا ، نہ کہ اعتقادی معاملہ یہی وہ خدائی منصوبہ تھا جس کی تکمیل کے لیے قرآن میں حکم دیا گیا:وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ۚ ۔ (8:39) یعنی مشرکوں سے لڑو یہاں تک کہ فتنے کی حالت باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کا ہو جائے۔

فتنہ کے معنی آزمائش کے ہیں۔ فَتَنَ فُلاناً عَن رَایِہ کے معنی ہیں رائے سے پھیر دینا۔ قرآن میں آیا ہے:موسیٰ کو اس کی قوم میں چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا، فرعون اور اپنی قوم کے بڑے لوگوں کے ڈر سے جن کو اندیشہ تھا کہ فرعون ان کو ستائے گا۔ (10:83)اس آیت میں أن یَفتِنَھُمکا لفظ ہے جو ستانے اور عذاب دینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ گویا فتنہ کے معنی تقریباً وہی ہیں جس کو انگریزی زبان میں (persecution) کہتے ہیں۔ یعنی کوئی رائے یا عقیدہ رکھنے کی بنا پر کسی کو ستانا۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سا فتنہ تھا جس کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا۔ وہ شرک کا فتنہ تھا۔ چنانچہ مفسرین نے ان آیات میں فتنہ کی تفسیر’’شرک‘‘ سے کی ہے۔ تاہم یہاں فتنہ سے مراد مطلق شرک نہیں بلکہ شرکِ جارح ہے۔ کیوں کہ شرک جب جارح ہو تبھی وہ روکنے والا بنتا ہے۔ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ کا مطلب ہے حتٰی لَا يُفْتَنَ رَجُلٌ عَنْ دِينِهِ۔ یعنی شرک جارح سے لڑ کر اسے ختم کر دو تاکہ دینِ شرک بے زور اور مغلوب ہو کر رہ جائے اور غالب دین کی حیثیت سے صرف دینِ توحید دنیا میں باقی رہے۔

شرک اپنی ابتدائی صورت میں محض ایک عقیدہ ہے۔ مگر قدیم زمانے میں اس نے     ’’فتنہ‘‘ کا مقام حاصل کر لیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قدیم زمانے میں انسانی فکر پر شرک کا غلبہ تھا۔ زندگی کے ہر معاملے کو شرک کے نقطۂ نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ سیاست و حکومت کی بنیاد بھی شرک کے اوپر قائم تھی۔ لوگ سورج اور چاند جیسی چیزوں کو دیوتا سمجھتے تھے اور شاہی خاندان اپنے آ پ کو ان دیوتاؤں کی اولاد بتا کر لوگوں کے اوپر حکومت کرتا تھا۔ اس بنا پر جب توحید کا داعی یہ کہتا کہ خدا صرف ایک ہے، باقی تمام چیزیں اس کی مخلوق اور محکوم ہیں تو قدیم بادشاہوں کو یہ نظریہ ان کے حق حکمرانی کی تردید کرتا ہوا نظر آتا تھا۔ وہ اس کو اپنا حریف سمجھ کر اس کو مٹانے کے درپے ہو جاتے۔ عرب میں اور اطراف عرب میں توحید کی بنیاد پر جو اسلامی انقلاب آیا اس نے شرک کو فکری غلبے کے مقام سے ہٹا دیا۔ اب شرک کی حیثیت ایک ذاتی عقیدہ کی ہوگئی ، نہ کہ  ایک ایسے عوامی نظریہ کی جس کے اوپر سماجی زندگی کا پورا نظام قائم ہو۔ نتیجتاً شرک کا رشتہ اقتدار سے ٹوٹ گیا۔ کیوں کہ اب شرک کی بنیاد پر کسی کے لیے حقِ حکمرانی کا دعویٰ کرنے کا موقع باقی نہیں رہا تھا۔

معلوم انسانی تاریخ میں یہ تبدیلی بالکل پہلی بار آئی۔ اس کے ہمہ گیر اثرات میں سے دو چیزیں یہاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ جب یہ معلوم ہوا کہ خدا صرف ایک ہے اور بقیہ تمام چیزیں اس کی مخلوق اور محکوم ہیں تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر مظاہر فطرت کے تقدس کاذہن ختم ہوگیا۔ وہ چیزیں جو اب تک انسان کے لیے پرستش کا عنوان بنی ہوئی تھیں۔ وہ اس کو اپنی خادم نظر آنے لگیں:ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا۔ (2:29) اب آدمی نے چاہا کہ وہ ان چیزوں کو جانے اور ان کو استعمال کرے۔ انسانی ذہن کی یہی وہ تبدیلی ہے جس نے تاریخ میں توہماتی دور کو ختم کرکے سائنس کے دور کو شروع کیا۔ اسی کے ساتھ دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہت کا دور کم ازکم نظریاتی طور پر ختم ہوگیا اور عوامی حکمرانی کے دور کا آغاز ہوا۔ جب یہ معلوم ہوگیا کہ تمام انسان یکساں ہیں، کسی انسان کے اندر کوئی خدائی صفت نہیں تو اس کے بعد بالکل قدرتی طور پر خدائی حقِّ حکمرانی کے لیے زمین باقی نہیں رہی۔

ان دونوں انقلابات کا آغاز مدینہ سے ہوگیا تھا۔ اس کے بعد وہ دمشق، بغداد، اسپین اور سسلی ہوتا ہوا قدیم آباد دنیا کے بڑے حصے میں پھیل گیا۔ اس مدت میں قدیم حالات کے اثر سے اس فکری تحریک کو بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس کا سفر جاری رہا۔ مخالف طاقتوں کی کوئی بھی کوشش اس میں کامیاب نہ ہو سکی کہ وہ مظاہر فطرت کے تقدّس کے دور کو دوبارہ اس کی سابقہ عظمت کے ساتھ واپس لا سکے۔ اور نہ کسی حکمراں کے لیے کبھی یہ ممکن ہوا کہ وہ اس طرح مقدّس بادشاہ ہونے کا مقام حاصل کر لے جیسا کہ عراق کے نمرود اور مصر کے فرعون کو قدیم زمانے میں حاصل تھا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion