غیر فطری مساوات کا نتیجہ
’’کوئی شخص جو مجھ کو جا نتا ہو وہ یقین نہیں کر سکتا کہ میں نے کیا کیا ہے‘‘ ایک 35 سالہ امریکی نے کہا۔ جو کہ بظاہر ایک سنجیدہ اور معصوم چہرہ والا آدمی ہے۔ اس نے اپنی عورت کومارنے کی کہانی بیان کی جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ اس نے گلاگھونٹ کر اس کو بے ہوش کر دیا۔ اس نے اس کو کیچڑمیں دھکیل دیا۔ اس نے چھری سے اس کا گلاکا ٹ دینا چاہا،وغیرہ۔
’’میں نے کیسے ایسا کیا ‘‘۔ اس نے تعجب کے ساتھ کہا۔ ’’لوگ مجھ کو ایک اچھے آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ میرا اپنا ایک بزنس ہے، میں شراب نہیں پیتا، میں سگریٹ نہیں پیتا۔میں دوسری عورتوں کا پیچھا نہیں کرتا۔‘‘ اس کے باوجود ایسا ہوا کہ اس شخص نے باربار اپنی بیوی کو مارا۔
امریکی ماہنامہ ریڈرس ڈائجسٹ (مارچ 1987) میں اس طرح کے بہت سے امریکیوں کی کہانی بیان ہوئی ہے۔ ڈائجسٹ کے اس مضمون کا عنوان ہے۔ لوگ کیوں ان عورتوں کو مارتے ہیں جن سے وہ محبت کرتے ہیں:
‘‘Why Men Hurt the Women They Love.’’
پانچ صفحہ کے اس مضمون میں عورتوں کو مارنے (Wife-beating)کی بہت سی مثالیں نقل کرتے ہوئے حسب ذیل رپورٹ دی گئی ہے:
According to one survey, in America a woman is battered by a husband or boy- friend every 18 seconds. And every year, it is estimated that more than a million of these need medical help. Every day, four die. (p. 135)
ایک جائز ےکے مطابق امریکا میں ہر 18 سکنڈ میں ایک عورت ماری جاتی ہے۔ کبھی اپنے شوہرکے ہاتھوں اور کبھی اپنے دوست لڑکے کے ہاتھوں۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ ان میں سے ایک ملین سے زیادہ عورتوں کو ہر سال طبی امداد کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہر ایک دن میں چار عورتیں مرجاتی ہیں۔
امریکا کے تر قی یافتہ اور مہذب معاشرہ میں عورتوں کو مارنے کی یہ برائی کیوں ہے۔ اس پر موجودہ زمانے میں کافی تحقیق کی گئی ہے۔ مسز سوسن شسٹر (Susan Schechter) نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے عورتیں اور مردانہ تشدد (Women and Male Violence)ان کا جواب یہ ہے کہ یہ جابر انہ کنٹرول حاصل کرنے کی ایک صورت ہے۔
‘‘It is a pattern of coercive control.’’ (p.136).
ریڈرس ڈائجسٹ کی مذکورہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے:
‘‘Any batterer can tell you why he hit her.” say Ellen Pence, director of the Domestic Abuse Intervention Programme. “He wanted control over her, he wanted his way.’’ (p.140).
’’کوئی بھی مارنے والا مرد آپ کو بتائے گا کہ اس نے عورت کو کیوں مارا۔ ‘‘ ڈی اے آئی پی کے ڈاکٹر الن پنس نے کہا۔’’ اس نے عورت کے اوپر کنٹرول حاصل کرنا چاہا۔ اس نے چاہا کہ اس کی اپنی مرضی چلے۔‘‘
مذکورہ بیان کی روشنی میں غور کیجیے تویہ صورت حا ل براہ راست طور پر جدید مغربی تہذیب کا نتیجہ ہے۔ جدید مغربی تہذیب نے عورت کو مرد کے برابر قرا دیا۔ اس نے عورتوں کے لیے علاحدہ روزگار کا انتظام کر کے انھیں یہ موقع دیا کہ وہ مردوں سے آزاداپنی مستقل معاشی بنیاد حاصل کرسکیں۔ اس بنا پر عورتوں کے اندر برابری کا احساس شدت کے ساتھ پیدا ہوگیا۔ تاہم یہ احساس مصنوعی تھا۔ کیوں کہ مذکورہ معاشی بندوبست کے باوجود مغربی تہذیب کے لیے یہ ممکن نہ ہوسکا کہ وہ فطرت کی اس تقسیم کو بدل دے کہ مرد پیدائشی طور پر صنف قوی اور عورت پیدائشی طورپر صنف ضعیف۔
اس مصنوعی مساوات کے نتیجے میں ان ملکوں کی گھر یلو زندگی ایک تضاد کا شکار ہوگئی ان گھروں میں ایسی عورتیں رہنے لگیں جو اپنی جسمانی بناوٹ کے اعتبار سے تومرد کے مقابلہ میں اسی طرح کمزورتھیں جس طرح ہر دو رکی عورتیں کمزور رہی ہیں۔ مگر مزاج کے اعتبار سے وہ اپنے آپ کو مردوں کا ہمسر سمجھ رہی تھیں۔ مرد صنف قوی ہونے کی وجہ سے عورتوں پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتا تھا۔مگر عورتوں نے اپنے مصنوعی مزاج کی بنا پر کنٹرول قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کش مکش کا نتیجہ یک طرفہ طور پر عورتوں کے حق میں برُا ثابت ہوا۔
عورت اور مرد دونوں اگر واقعتا ًحیاتیاتی طور پر یکساں ہوتے توکبھی مرد عورت کو مارتا اور کبھی عورت مرد کو مارتی۔ مگر چونکہ یہاں معاملہ یکسانیت کا نہ تھا، اس لیے وہی صورت پیش آئی جو خربوزے اور چھری کے ٹکراؤ میں پیش آتی ہے۔ مرد ہمیشہ مارنے والا ثابت ہوا۔ اور عورت ہمیشہ مارکھانے والی۔
اس معاملہ میں جدید عورت کی مظلومی اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہے کہ وہ بھا گ کر بھی اپنے آپ کو نہیں بچا سکتی۔ رپورٹ کے مطابق ایک عورت نے کہا کہ اگر کوئی عورت بھاگنا چاہے تو اس کا شوہر اس کو دھمکی دیتا ہے کہ میں تم کو پکڑوں گا اور تمہیں مارڈالوںگا۔ اکثرسنگین ضربیں اور موتیں اس وقت پیش آتی ہیں جب کہ عورتیں باہر بھاگ جانا چاہتی ہیں
‘‘If you try to leave, your husband may threaten, ‘I’ll find you and kill you.’ Many of the worst injuries—and deaths— happen as women try to get away.’’ (p.137).
فطرت کی تقسیم میں مرد کو عورت کے اوپر قوام بنایا گیا ہے۔ اب اگر اس تقسیم کو مصنوعی طورپر بدلنے کی کوشش کی جائے تو اس کا انجام وہی ہوگا جس کی ایک تصویر مذکورہ بالا رپورٹ میں دکھائی دیتی ہے۔ جدید تہذیب سے پہلے کبھی ایسا نہ تھا کہ عورتیں اس طرح اپنے گھروں ميں ماری جائیں۔ یہ صرف دورجدید کی خصوصیت ہے اور یہ براہ راست طور پر اس مصنوعی نظریہ مساوات کا نتیجہ ہے جو تاریخ میں پہلی بارمغر بی تہذیب میں اختیار کیا گیا۔ تاریخ کے پچھلے دور میں بھی عورت کو مارنے کے واقعات ہوتے تھے مگر وہ استثنائی طورپر صرف نچلے طبقات میں پیش آتے تھے۔ لیکن جدید حالات نے ان کو بڑھا کر اعلیٰ طبقات کے دائرہ تک پہنچادیا۔ اس نے ایسے واقعات کو مہذب انسانوں کا مسئلہ بنا دیا جب کہ اس سے پہلے وہ صرف غیر مہذب انسانوں کے مسئلہ کی حیثیت رکھتا تھا۔
