عید:میل ملاپ کا تیوہار
تیوہار کا رواج تمام قوموں اور تمام دیشوں میں پایا جاتا ہے۔ وہ ہر سماج میں کسی نہ کسی روپ میں موجود ہے۔ یہاں تک کہ تیوہاروں کا سلسلہ پورے سال جاری رہتا ہے۔ سال کے ہر دن کہیں نہ کہیں کوئی تیوہار منایا جارہا ہوتا ہے۔ سال کا کوئی دن بھی ایسا نہیں جو تیوہارسے خالی ہو۔
ایسا اس لیے ہے کہ تیور ہار ایک سماجی ضرورت ہے۔ وہ انسانی فطرت کی ایک مانگ ہے۔ لوگ سال بھر اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ بڑے پیمانہ پر میل ملاپ کے مواقع انھیں نہیں ملتے۔ ملنا جلنا ایک گہری سماجی مانگ ہے۔ مگر روزانہ کی مصروفیت میں یہ مانگ پوری نہیں ہوتی ۔
اسی طرح یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ کسی ایک یا دوسرے سبب سے ہر آدمی تناؤ یا اکتاہٹ کی حالت میں مبتلارہتا ہے ۔ ہر آدمی اس طرح جیتا ہے جیسے اس کے کندھے پر کوئی دماغی بوجھ لدا ہوا ہو۔ ہر آدمی کم یا زیادہ ٹنشن کا کیس بنا ہوا ہے۔
تیوہار اسی کا ایک حل ہے۔ اسی حالت کو دور کرنے کے لیے ہر سماج میں تیوہار کا طریقہ رکھا گیا ہے۔ تاکہ لوگ اپنے روزانہ کے کاموں سے نکل کر ایک دوسرے سے ملیں اور سب ایک ساتھ کھلے ماحول میں خوشیاں منائیں ۔ وہ اپنے تنہائی کے دائرہ کو توڑ کر سماج کے بڑے دائرہ میں شامل ہو جائیں۔
تیوہار عام طور پرکسی خاص تاریخی دن رکھے جاتے ہیں ، تاکہ لوگوں کو اس کی طرف زیادہ سے زیادہ شوق پیدا ہو۔ یہی معاملہ عید کے تیوہار کا بھی ہے۔ عید کا دن روزہ کے مہینہ کے ختم ہوتے ہی اگلے مہینہ کی پہلی تاریخ کو رکھا گیا ہے۔
روزہ کے مہینہ (رمضان) میں قرآن اترنا شروع ہوا (البقرۃ، 2:185)۔ اسی لیے اس مہینہ میں تمام دنیا کے مسلمان روزہ رکھتے ہیں۔ یہ گویا شکر کاروزہ ہے۔ اس مہینہ میں روزہ رکھ کر مسلمان اپنے اندر روحانیت پیدا کرتے ہیں تاکہ وہ خدا کا شکر ادا کریں کہ اس نے اس مہینہ میں اپنا سچا راستہ دکھایا ۔
اسی کے ساتھ روزہ کو صبر و تقوی کا مہینہ کہا گیا ہے (البقرۃ، 2:183؛ مسند احمد، حدیث نمبر 7577)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ ایک مسلمان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ قرآن کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارے۔ اس طرح روزہ کا مہینہ اسلام میں خاص اہمیت والا مہینہ بن گیا ہے۔ اس لیے روزہ (رمضان) کامہینہ ختم ہوتے ہی اگلے مہینہ (شوال) کی پہلی تاریخ کو عید کا تیوہار رکھا گیا۔
گویا رمضان کا مہینہ اگر روزہ رکھنے کا مہینہ تھا تو شوال کا مہینہ کھانے پینے اور خوشیاں منانے کا مہینہ ہے۔ رمضان کے مہینہ کا آخری دن پابندیوں کے ختم ہونے کی علامت ہے، اور شوال کے مہینہ کی پہلی تاریخ دوبارہ پابندیوں کو نرم کرنے کی علامت۔
شوال کے مہینہ کا نیا چاند جب شام کو آسمان پر دکھائی دیتا ہے تو اس کو دیکھ کر مسلمان کہتے ہیں:اے خدا ، اس چاند کو تو شانتی کا اور روحانیت کا چاند بنا دے۔ گویا نئے چاند کا سواگت اس جذبہ سے کیا جاتا ہے کہ دنیا میں ایک طرف شانتی اور سکھ کا ماحول بنے، اور دوسری طرف لوگ اپنے رب کی فرماں برداری والی زندگی گزاریں۔
حکم ہے کہ عید سے پہلے تمام مسلمان صدقہ کی رقم نکالیں اور اس کو سماج کے غریب لوگوں کو دیں تاکہ کوئی بھی عید کی خوشی میں شریک ہونے سے محروم نہ رہے ۔ ہر ایک ضروری حد تک عید کا دن منانے کی تیاری کر سکے۔
صبح کو تمام مسلمان سویرے اٹھتے ہیں، غسل کر کے پاک صاف ہوتے ہیں۔ نئے کپڑے پہنتے ہیں ۔ خوشبو لگاتے ہیں۔ کچھ میٹھی چیز کھاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد دیتے ہیں۔ پھر تمام لوگ گھروں سے نکل کر عید گاہ میں یا کسی میدان میں اکٹھا ہوتے ہیں۔
یہاں سب مل کہ دو رکعت عید کی نماز پڑھتے ہیں۔ اس نماز میں بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ بڑا ہے ، اللہ بڑا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں بڑائی صرف ایک خدا کے لیے ہے۔ تمام انسان اس کے مقابلہ میں چھوٹے ہیں۔ خدا کی اس دنیا میں انسانوں کے لیے ایک ہی رویہ درست ہے ، اور وہ یہ کہ وہ تواضع اور ملنساری کے ساتھ لوگوں کے درمیان رہے۔ کوئی شخص اپنے کو دوسروں سے اونچانہ سمجھے، کوئی کسی کے اوپر اپنی بڑائی جتانے کی کوشش نہ کرے۔
عید کی نماز کے بعد امام خطبہ دیتا ہے ۔ سب لوگ خاموش بیٹھ کر اسے سنتے ہیں۔ اس خطبہ میں بتایا جاتا ہے کہ انسان خدا کا بندہ ہے ۔ تمام انسان برابر ہیں ۔ ہر آدمی کو اپنے عمل کا حساب خدا کے یہاں دینا ہو گا۔ آدمی کو حق ہے کہ وہ دنیا میں اپنی خوشی کی زندگی بنائے، مگر کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ دوسرے کی خوشی اور سکون کو بھنگ کرے۔
نماز سے فراغت کے بعد تمام مسلمان آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں۔ باہم مل کر کھاتے پیتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو تحفہ دیتے ہیں۔ امن اور تہذیب کے دائرہ میں رہتے ہوئے خوشیوں کے اجتماعی پروگرام بناتے ہیں۔
رمضان کے مہینہ میں روزہ نہ رکھنا حرام تھا ، عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عید کے دن اگر روزہ رکھنے کی اجازت ہو تو آدمی دوبارہ اپنی تنہائی میں چلا جائے گا۔ وہ اس قابل نہیں رہے گاکہ مل جل کر لوگوں کے ساتھ تیوہار منائے، وہ سب کی خوشیوں میں شریک ہو۔
عید کا پورا دن خوشی منانے کے لیے ہوتا ہے۔ مگر روزانہ کی پانچ وقت کی نماز پھر بھی ہر ایک کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ حکم ہے کہ جب نماز کا وقت آئے تو وہ تفریحی پروگرام کو چھوڑ کر فوراً نماز کی طرف آئیں اور قاعدہ کے مطابق خدا کی عبادت کریں ۔
یہ اس بات کا سبق ہے کہ خوشی میں بھی آدمی کو ایک حد پر قائم رہنا ہے۔ تفریح کے اوقات میں بھی اس کو ایسا نہیں کرنا ہے کہ وہ خدا کو بھول جائے۔ عید بے فکری کا دن ہے ، مگر اسی کے ساتھ آدمی کو یہ فکر بھی لگی رہنا چاہیے کہ اس کی کچھ ذمہ داریاں ہیں ، اور یہ ذمہ داریاں کسی بھی حال میں اس سے اٹھائی نہیں جاتیں۔
اسلام سے پہلے عرب میں تیوہاروں کا رواج تھا۔ مگر ان میں خوشی اور تفریح کے غیر انسانی طریقے اختیار کیے جاتے تھے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس قسم کے تیوہاروں کو چھوڑ دو، اور زیادہ مہذب انداز میں تیوہار مناؤ۔ چنانچہ اسلام میں عید کی صورت میں اسلامی تیوہار مقر کیا گیا۔ اس طرح عید گویا تیوہار کا اسلامائزیشن ہے۔
عید میں خوشی منانا ہے مگر شور کر نا نہیں ہے ۔ عید میں تفریح کرنا ہے مگر کسی کو ستانا نہیں ہے۔ عید میں ملنا جلنا ہے مگر گالی گلوج نہیں کرنا ہے۔ عید میں کھانا پینا ہے مگر نشہ یا اسراف سے دور رہنا ہے۔ عید میں چلنا پھرنا ہے مگر راستوں کو گندا نہیں کرنا ہے ۔ عید میں ملنا جلنا ہےمگر دوسروں کی زندگی میں خلل نہیں ڈالنا ہے۔
عید کا مطلب خالص مسلم تیوہار نہیں ہے، بلکہ وہ انسانی تیوہار ہے۔ وہ محدودیت یا سمٹاؤ کا پیغام نہیں ہے، بلکہ آفاقیت یا پھیلاؤ کا پیغام ہے ۔
عید کا آغاز آسمان میں نئے چاند کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ عید ایک آفاقی تیو ہار ہے۔ اس کا تعلق تمام دنیا سے اور تمام دنیا کے انسانوں سے ہے۔ پھر عید میں تمام مسلمان چھوٹے اور بڑے ، اپنے گھروں سے نکل کر باہر جاتے ہیں۔ اس طرح اپنے آپ دوسروں کے ساتھ مسلمانوں کا اختلاط (انٹرایکشن) ہوتا ہے۔ عید کا دن عملی طور پر لوگوں سے میل ملاپ کا عمومی دن بن جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمان تحفے تحائف میں بھی دوسرے لوگوں کو شریک کرتے ہیں۔
اس طرح عید لوگوں کے اندر ایکتا کی اسپرٹ کو بڑھاتی ہے ، وہ باہمی میل ملاپ کی فضا پیدا کرتی ہے ۔ عید آپس کے تناؤ کو گھٹا کر لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دیتی ہے۔ ہر طرف محبت اور سلامتی کے الفاظ گونجنے لگتے ہیں۔
عید کا آغاز شوال کے نئے چاند سے ہوتا ہے۔ اس طرح عید گویا نئی امیدوں کا تیوہار ہے۔ عید کے ساتھ خدا کی عبادت جڑی ہوئی ہے، یہ چیز انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلاتی ہے۔ عید میں دوسروں سے ملنا ملانا ہے ، یہ بتا تا ہے کہ تمام انسان ایک ہی کنبہ کے افراد ہیں ۔ عید میں صدقہ دینا اور کھلانا پلانا ہے ، یہ اس بات کا پیغام ہے کہ اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرو ۔ عید سے پہلے روزہ رکھنا ہے ، یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس دنیا میں پہلے ذمہ داریاں ادا کی جاتی ہیں، اس کے بعد حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ عید ایک اعتبار سے سالانہ تیوہارہے ، اور دوسرے اعتبار سے وہ روزانہ زندگی کے لیے مکمل سبق ہے۔
______________________________________________________
نوٹ:یہ تقریر آل انڈیا ریڈ یو نئی دہلی (ہندی وارتا) سے 21فروری 1996 کو نشرکی گئی۔
