اسلامی تحریک کا ہدف
تبلیغی جماعت کے سابق امیر مولانا انعام الحسن کاندھلوی (وفات 1996ء) نے کہا تھا کہ:ہماری تبلیغی تحریک ایک مسجد وار تحریک ہے۔ مولانا انعام الحسن کاندھلوی کا یہ قول تبلیغی جماعت کی صحیح تصویر کو بتاتا ہے۔ تبلیغی جماعت کی تحریک اصلاً مسلمانوں کی دینی اصلاح کی تحریک ہے، جومسجدوں کو بنیاد بنا کر چلائی جارہی ہے۔ مسجدوار تحریک کا مطلب ہے— مسجد اورینٹڈ موومنٹ (Masjid-oriented movement)۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو تحریکیں اٹھیں ، وہ مختلف پہلوؤں سے اِسی قسم کی تحریکیں تھیں— مسجدوار تحریک، مدرسہ وار تحریک، ملت وار تحریک، تحفظ وار تحریک، مناظرہ وار تحریک، فخروار تحریک، سیاست وار تحریک، وغیرہ۔ اِس قسم کی تحریکوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے جو انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے درمیان پھیلا ہوا ہے، اور اکیسویں صدی میں بھی اس قسم کی تحریکوں کا تسلسل جاری ہے۔
تحریکوں کی اِس طویل فہرست میں صرف ایک تحریک ہے جو غیر موجود ہے، اور وہ ہے دعوت وار تحریک۔ دعوت وار تحریک کے لیے قرآن میں دعوت الی اللہ کا لفظ آیا ہے، یعنی خدا کے بندوں کو خداکی طرف بلانا، تمام انسانوں کو خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) سے آگاہ کرنا۔ قرآن میں اِس دعوت وار تحریک کے لیے مختلف الفاظ آئے ہیں ۔ مثلاً اِنذار، تبشیر، وغیرہ۔
دعوت الی اللہ، امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا مشن ہے۔ یہی تمام پیغمبروں کا مشن تھا۔ یہی پیغمبراسلام ﷺ کا مشن تھا۔ یہی اب امتِ محمدی کا مشن ہے۔ اِسی دعوتی مشن کی انجام دہی پر امتِ محمدی کا امتِ محمدی ہونا متحقق ہوتاہے۔ امت اگر اِس دعوتی مشن کو انجام نہ دے تو اللہ کی نظر میں اس کا امتِ محمدی ہونا مشتبہ ہوجائے گا۔ مزید یہ کہ یہ دعوتی مشن فرض علی الکفایۃ نہیں ہے، بلکہ وہ فرضِ عین ہے۔ امت کا ہر فرد جس طرح عبادت کو اپنے لیے فرض سمجھتاہے، اسی طرح امت کے ہر فرد کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق، اِس دعوتی مشن میں اپنے آپ کو شریک کرے۔ (الرسالہ، جون 2012)
